انسانوں کا انسانوں سے تعلق - محمد فہد صدیقی

سائبیریا کے سرد دوزخ سے وادی مہران میں آنے والے پرندوں نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے ۔ بے رحم شکاریوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث اگرچہ '' ہجرتی پرندوں'' کی تعداد مسلسل گھٹ رہی ہے، لیکن جتنے بھی میرے وطن آتے ہیں وہ میرے لیے تو غنیمت ہیں ۔ مجھے تو آج تک یہ سمجھ میں نہیں آیا ان پرندوں کا شکار کرکے حضرت انسان اپنے کن جذبات کو تسکین پہنچاتا ہے؟

ان پرندوں کے سفر کی داستان بھی خوب ہے۔ یہ قافلوں کی شکل میں روانہ ہوتے ہیں ۔ان کا ایک سالار بھی ہوتا ہے، جو ان کی رہنمائی کرتا ہے اور اس رہنما نے ہمارے رہنماؤں کی طرح کبھی بھی کاروان کو بھٹکنے کے لیے نہیں چھوڑا ۔سفر چونکہ طویل ہوتا ہے تو راستے میں اکثر پرندے بیمار بھی ہوجاتے ہیں، اور یہاں سے تعلق کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ سائبیریا کے یہ پرندے کبھی اپنے بیمار ساتھی کو تنہا چھوڑ کر آگے نہیں بڑھتے۔ کچھ ایسے پرندے جن کو راستے کا علم ہوتا ہے وہ اپنے بیمار ساتھی کے ساتھ رک جاتے ہیں ۔اب یہ ان کا نصیب ہے کہ اتنے سخت موسم میں بیمار پرندہ صحت یاب ہوجائے اور وہ اپنا سفر دوبارہ شروع کریں وگرنہ خراب موسم کا شکار ہوکر وہ ابھی اپنے ''دوست '' کے ہمراہ برف میں ہی دفن ہوجائیں۔ یہ پرندوں سے پرندوں کا تعلق ہے۔
یہ مسلمان ہے، یہ ہندو ہے، یہ مسیحی ہے، یہ یہودی ہے، یہ رام کا پجاری ہے، یہ بدھ مت کا ماننے والا ہے۔ لاتعداد مذاہب اوران گنت عقیدے اور یہ تمام ہی انسانیت کی تعلیم دے رہے ہیں لیکن ہم اپنے مذاہب اور عقائد کے نام پر سوائے ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ یہ انسانوں کا انسانوں سے تعلق ہے۔

یہ آستیں چڑھاتا ہے، خنجر اٹھاتا ہے، اس کے ہاتھ میں آتشیں اسلحہ بھی ہے، اس کے پاس بارود سے بھر جیکٹ بھی ہے، اس کے پاس میزائلز بھی ہیں تو اس کے پاس نیو کلیئر بھی ہے، اس کے پاس تباہی کا ہر سامان ہے۔ یہ ایک وحشت کے عالم میں زندہ ہے۔ اس کو بس خون چاہیے کیونکہ یہ اس کے منہ کو لگا دیا گیا ہے۔ یہ انسانوں سے انسانوں کا تعلق ہے جو آپ کومذہب کے نام پر کاٹے گا، جو آپ کو فرقے کے نام پر تقسیم کرے گا ، جو آپ کو زبان کی بنیاد پر لڑائے گا، جو آپ کو نسل کے نام پر دست و گریبان کرے گا، جو آپ کو جنت کے نام پر سولی پر چڑھائے گا اور جو آپ کو دوزخ کے نام پر درگور کرائے گا۔ یہ انسانوں کا انسانوں سے تعلق ہے۔ ایک ایسا تعلق ہے جہاں رام کا مندر بھی محفوظ نہیں، جہاں مسیح کا گرجا گھر بھی غیر محفوظ، جہاں بدھا کا مجمسہ بھی نشانے پر، جہاں قلندر کی درگاہ بھی بربریت کا شکار ، جہاں داتا کا دربار بھی عدم تحفظ کا شکار، جہاں امام کی بارگاہ بھی محفوظ نہیں اور جہاں خدا کا گھر بھی انسانوں کے ہاتھوں سے محفوظ نہیں۔ یہ انسانوں کا انسانوں سے تعلق ہے۔ ایک ایسا تعلق جہاں بنت ہوا کو تماشا بنانا بھی ٹھیک، جہاں کاروکاری حلال اور پسند کی شادی حرام، جہاں قرآن سے شادی بھی جائز، جہاں نجی جیلیں قانونی اور جہاں عقوبت خانے بھی محفوظ ، یہ ایک ایسا تعلق ہے جہاں جابر کا ظلم بھی ٹھیک تو مظلوم کا صبر بھی ٹھیک۔

یہ بھی پڑھیں:   اپنا آپ اللہ کو سونپ دو - قراۃ العین اشرف

یہ انسانوں کا انسانوں سے تعلق ہے۔ ایک ایسا تعلق جہاں کفر کے فتوے لگانے والے معتبر ،جہاں سیاست کو تماشا بنانے والے سرخرو ، جہاں جسم بیچ کر روٹی کمانے والی معتوب اور جہاں قلم بیچ کر دنیا کمانے والے سب کو محبوب ،جہاں مزدور کی زندگی وبال اور سیٹھ کی زندگی کمال ۔ایک ایسا تعلق جہاں محنت کش کا بیٹا محنت کش ، جہاں سیاست دان کی اولاد سیاست دان ،جہاں کسان کا بیٹا کسا ن،یہ انسانوں کا انسانوں سے تعلق ہے ۔۔۔ایک ایسا تعلق جہاں غریب کا جینا محال اور امیر کا مرنا بھی کمال ،جہاں ظالم ظل الہی اور جہاں مظلوم ہر گھڑی خوار ،جہاں ظلم بچے جن رہا ہے اور جہاں انصاف بانجھ ہے۔ یہ وادی مہران ہے۔ وہی وادی مہران، جہاں اکتوبر کے مہینے میں میرے پسندیدہ سائبیرین پرندوں کو آنا ہے۔ انہوں نے اپنا سفر شروع کر دیا ہے۔ اسی وادی مہران کے شہر میرپور خاص کے ایک شخص نے بھی اپنے بیٹے کے ساتھ ایک سفر شروع کیا تھا۔ وہاں میرا ایک سائبیرین پرندہ بیمار ہوا ، یہاں اس شخص بیٹا بیمار ہوا۔ بچے نے اپنے باپ کے ہاتھ میں دم توڑ دیا۔ باپ کو اب بیٹے کی میت واپس گھر لے کر جانی ہے۔ جیب خالی ہے، ہاتھ سوالی ہیں۔ وہ اس صوبے کا مکین ہے جہاں بھٹو کبھی نہیں مرتا اور عام آدمی روزمرتا ہے۔

وہ وہاں بھیک مانگ بھی رہا ہے تو ایک ایمبولینس کی مانگ رہا ہے، جس میں وہ اپنے بیٹے کے فانی جسم کو منتقل کرسکے۔ کوئی بتاتا ہے کہ اس سے دوہزار روپے طلب کیے گئے۔ اس کا دل بیٹھ سا گیا۔ کچھ نہیں ایک موٹرسائیکل تو اس کے پاس موجود ہے ۔اس نے بیٹے کی میت بھائی کے حوالے کی اور موٹرسائیکل پر بیٹھ گیا۔ پیچھے چچا اپنے بھتیجے کو سنبھالا ہوا تھا۔ سفر شروع ہوگیا۔ ادھر میرے سائبرین پرندے کی حالت بگڑتی جارہی ہے۔ وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنے ساتھی کو کہہ رہا ہے ، اس کا ساتھ چھوڑے ، اپنی زندگی بچائے اور یہاں سے کوچ کر جائے ۔ وہاں باپ خالی ذہن گھر کی جانب رواں ہے۔ کسی کو علم نہیں کہ کب وہ ٹرک آیا ہے اور بچے کے جسد خاکی کو لے جانے والے باپ اور چچا کو روندتا ہوا چلا گیا ۔ کچھ دیر بعد سائرن بجتے ہیں اور ایک ایمبولینس آتی ہے۔ لاشوں کو اس میں منتقل کیا جاتا ہے۔ باپ کی بے جان آنکھیں کہہ رہی ہیں کہ دیکھ لو یہ انسانوں سے انسانوں کا تعلق۔ وہاں میرا پرندہ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے ۔ اس کا ساتھی خود بھی نڈھال ہے ۔ جیسے ہی بیمار پرندے کی روح نے پرواز کیا ویسے ہی اس کے ساتھی نے آخری ہچکی لی، لیکن دونوں کی آنکھیں چمک رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ دیکھ لو یہ ہے پرندوں کا پرندوں سے تعلق۔