روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 5 )

"احمد بیٹے یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ " احمد اپنی شلوار کے پائنچوں کو نچوڑنے کی تگ و دو میں تھا کہ اس کی امی نے حیرانی سے اس سے پوچھا۔ " امی جان! باہر گلی میں کیچڑ تھا ، جس کی وجہ سے میرے کپڑے گندے ہو گئے تھے، میں اس کو صاف کر رہا تھا۔" امی جان نے دیکھا قمیض کا دامن بھی دھلا ہوا تھا۔

وہ ایک کار تیزی سے چھینٹے اڑاتے ہوئے گزرے تھی پاس سے، اس نے بتایا۔ میرا انتظار کیا ہوتا میں آکر صاف کر دیتی۔ انہوں نے پیار سے اکلوتے بیٹے کی جانب دیکھا۔ آپ کو پتہ ہے امی نزول وحی کے اولین دور میں جو حکم نبی صادق حضرت محمدﷺ پر اتارا گیا وہ کیا تھا؟ وہ تھا امی:
يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡمُدَّثِّرُ . اے کپڑا لپیٹنے والے ہ قُمۡ فَأَنذِرۡ . کھڑے ہو جایئے پھر ڈرایئے ہ وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ - اور اپنے رب کی پس بڑائی بیان کیجیے ہ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ - اور اپنے کپڑے پس پاک رکھیے
وَٱلرُّجۡزَ فَٱهۡجُرۡ - اور گندگی کو پس چھوڑ دیجیے ہ وَلَا تَمۡنُن تَسۡتَكۡثِرُ - اور نہ آپ احسان کیجیے کہ آپ زیادہ حاصل کرسکیں ہ وَلِرَبِّكَ فَٱصۡبِرۡ -اور اپنے رب کے لیے پس صبر کیجیے۔
احمد آنکھیں موندے تلاوت کرنے لگا تھا۔ تلاوت مکمل کر کے اس نے مسکرا کر امی جان کی طرف دیکھا۔
"امی جان امام صاحب بتاتے ہیں، کپڑوں کی پاکیزگی کا یہ حکم صرف پیارے نبیؐ کے لیے نہیں تھا، یہ حکم ہمارے لیے بھی ہے۔ میں گھر آ کر نہایا بھی ہوں امی۔" اس نے امی کو فخر سے بتایا۔ "مسواک بھی کی ہے۔" امی نے محبت بھری نگاہوں سے احمد کا جائزہ لیا اس کے ناخن تراشے ہوئے اور بال سنورے ہوئے تھے۔
یہ ہی نہیں امی امام صاحب بتا رہے تھے کپڑے اور جسم ہی پاکیزہ نہیں رکھنا روح اور دل کی پاکیزگی کا بھی خیال رکھنا ہے۔ دل و روح کی پاکیزگی کے لیے میں بہت دیر تک تکبیر پڑھتا رہا امی۔

اس نے جوش سے بتایا پھر یکدم خاموش ہو گیا۔ امی جب میں دل دل میں تکبیر پڑھتا گھر آ رہا تھا ناں تو کامران (امیر تایازاد) سامنے پارک میں اپنی نئی سائیکل چلا رہا تھا۔ سائیکل بہت خوبصورت ہے امی آپ نے دیکھی۔ انہیں لگا احمد ابھی رو پڑے گا اور ہمیشہ کی طرح ان سے کامران جیسی آسائشیں اپنے لیے طلب کرے گا۔ امی مجھے اپنے دل اور روح کو پاک رکھنا ہے اس کی سائیکل دیکھ کر میں نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کرتے ہوئے اپنے رب سے اپنے لیے فضل عظیم مانگا ہے۔ احمد تو اپنے دل کی کہہ کر خاموش ہو گیا تھا مگر ام احمد کو سوچوں نے گھیر لیا تھا۔
انہوں نے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا۔ ابھی اتنی عمر تو نہ تھی ان کی۔ زمانے کے گرم و سرد نے چہرے کی رعنائی کو کملا دیا تھا۔ کیوں بیوہ پر زندگی تنگ کر دیتا ہے معاشرہ؟ ستی تو ہندٶ کیا کرتے تھے اپنی بیواٶں کو۔ اسلام نے تو بیوہ کو نکاح کا حق دیا ہے۔ ایک بار پھر زندگی کی دوڑ میں بھرپور حصہ لینے کا حق دیا ہے۔
انہوں نے اپنی زبان زور سے دانتوں تلے دبائی۔ یہ کیا سوچا میں نے۔ نہیں نہیں۔۔ میں محنت سے بوتیک میں کام کرتی رہوں گی۔ احمد کے تایا مجھے اس کواٹر سے نکال تو نہیں رہے۔
زندگی گزارنے کے لئے میرے لیے احمد کا سہارا کافی ہے۔ اللہ احمد کو سلامت رکھنا۔ اللہ میں تجھ سے تیرا فضل عظیم مانگتی ہوں۔ وہ تھک گئی تھیں۔
وَلِرَبِّكَ فَٱصۡبِرۡ - اور اپنے رب کے لیے پس صبر کیجیے۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 2 )

"آپ کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں یاد رکھیے آپ کے پاس تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔" اشرف صاحب بزنس ایڈمنسٹریشن کے طلباء کو لیکچر دے رہے تھے۔
"منصوبہ، مہارت اور سرمایہ اور اگر آپ اس کاروبار کو کامیاب بھی بنانا چاہتے ہیں تو بھی تین باتوں کا خیال رکھنا ہو گا۔ کاروبار میں لگایا جانے والا سرمایہ، کاروبار سے ہونے والا منافع اور پھر منافع کا استعمال۔ یہ وہ تین پہلو ہیں جن کے لیے روز آخرت آپ خدائے واحد کو جواب دہ ہیں۔" " سر یہ معاشیات کی کلاس ہے یا اسلامیات کی؟ " کسی منچلے نے آواز لگائی اور سب ہی طلباء ہنسنے لگے۔
اشرف صاحب بھی مسکرا دئیے مگر دفعتاً ان کے چہرے پر سنجیدگی در آئی۔ " برخوردار اسلامیات زندگی میں شامل ایک ضمیمہ نہیں ہے یہ تو ازخود کتاب زندگی ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں اسلامیات صرف چند عبادات کا نام ہے۔ تکبیر کا بلند کرنا صرف مسجد تک محدود ہے۔ نہیں معاشیات تو اسلامیات کا ایک چیپٹر ایک باب ہے۔ بزنس ایڈمنسٹریشن کے طلباء کی حیثیت سے آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کس معاشی نظام کے وارث ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ نے تکبیر ممبر و محراب ہی پر نہیں اپنے دفاتر اپنے کاروبار میں بھی بلند کرنی ہے۔ "
وہ انہیں سمجھانے لگے، " اسلامی اقتصادی نظام دراصل ایک مکمّل اقتصادی نظام ہے، جس کی بنیاد قرآن، حدیث اور فقہی اصولوں پر رکھی گئی ہے۔

یہ سرمایہ دارانہ اور اشتراکیت کے نظام سے یکسر مختلف ہے۔ اسلامی معاشی نظام کو مختصراً یوں بیان کیا جا سکتا ہیں کہ اس نظام کا دِل تجارت ہے۔ لہٰذا اسلامی اقتصادی نظام میں زر یعنی پیسہ حقیقی دولت پر مبنی جنس ہوتا ہے جیسے طلائی دینار اور نقرئی درہم، گندم، چاول وغیرہ۔ یہ سود، قمار، غرر سے پاک ہوتی ہیں۔ یہ آزاد بازاروں پر مبنی ہوتی ہے جہاں پر ہر شخص اپنی تجارتی اشیاء کی فروخت کر سکتا ہے۔ جہاں تھوک فروشی تک ہر شخص کی یکساں رسائی ہوتی ہے۔ ہر چھوٹا کاریگر و صنعت کار اپنا کارخانہ خود بنا سکتا ہے۔
ان اوقاف میں شرکت، مضاربت، مرابحہ وغیرہ کے طریقوں سے تجارت ہوتی ہے۔ وادیعہ (بینک کا متبادل) کے ذریعے حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ان کی حسابوں میں منتقل کرتی ہے اور وہاں ان کی دولت امانت کے طور پر محفوظ رکھی جاتی ہے۔ شرعی زر کا معیار حکومت مہیا کرتی ہے۔ ملکی خزانہ بیت المال میں جمع ہوتا ہے۔ ان سب اداروں کی نگرانی حسبہ کرتی ہے۔ غریب عوام سے کوئی محصول وصول نہیں کیا جاتا بلکہ حکومت امیروں سے محصول (Tax)، زکوٰۃ، عُشر، خراج،جزیہ وغیرہ کی صورت میں لے کر غریبوں میں بانٹتی۔ اسلامی اقتصادی نظام میں نجکاری کو محدود کیا جاتا ہے اور سرکاری اداروں کی نجکاری پر مکمل پابندی ہوتی ہے۔ دریاؤں، ڈیموں، نہروں، تیل، گیس، کوئلے، بجلی، جنگلات، چراگاہوں وغیرہ کی نجکاری نہیں کی جا سکتی۔ روٹی، کپڑا، مکان اور پانی کی حکومت کی جانب سے مفت فراہمی کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 3 )

بیمہ کمپنیوں پر مکمل پابندی لگائی جاتی ہے۔ لہٰذا سونے کے دینار اور چاندی کے درہم موجودہ کاغذی نوٹوں کی جگہ لے گی۔ وادیعہ کے مراکز قائم کرنے سے بینکوں کا کام ختم ہو جائے گا۔ اوقاف کی بحالی سے بازاروں، تھوک فروشی اور صنعتی مراکز کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔ بین الاقوامی تجارت کے لیے مال کے بدلے مال کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور جہاں کہیں یہ طریقہ ممکن نہ ہو تو وہ وہاں پرسونے کو بطور زر استعمال کیا جائے گا۔ شرعی زر کو بنانے کے لیے حکومت ضرب خانے (ٹکسال) بناتی ہے اور ملکی خزانہ بیت المال میں جمع ہوتا ہے۔
جس سے مرکزی بینک کا خاتمہ ہو جائے گا اور نفع کمانے کے لیے لوگ اوقاف کا رُخ کریں گے جہاں حقیقی معنوں میں تجارت اور کاروبار ہوگی۔ لہٰذا بازار حصص(Stock Exchange) کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی ۔ اور ‎شرعی زر کے دوسرے ممالک کی کرنسیوں سے باہم مبادلے کے لیے وکالہ کے آزاد مراکز قائم کیے جائیں گے۔ لہٰذا اجارہ داری پر مبنی صرافہ بازاروں (Foreign Exchange Markets) کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ اور ملکی بجٹ ملکی آمدنی کودیکھ کر بنایا جائے گا۔ جس کی وجہ سے قومی اور گردشی قرضوں کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ اور نہ ہی ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ) کے قرضوں کی ضرورت ہوگی۔

مسلم ممالک کے مابین آزاد تجارت ہو گی اور ان ممالک کے اموال تجارت پر کوئی محصول نہیں لگایا جائے گا جو مسلمان ممالک کے اموال پر ٹیکس نہیں لگاتے ۔ جس کی وجہ سے ملکی اور بین الاقوامی تجارت میں انتہائی اضافہ ہو جائے گا۔ لہٰذا اسلامی معاشی نظام کی مکمل بحالی سے ہمارے سارے کام بطریق اَحسن انجام پائیں گے اور ہمیں مغربی نظام سے کوئی چیز لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔" کلاس میں موجود بعض طلباء کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے، بعض اپنا سر کھجانے لگے ، جبکہ چند طلباء ایسے بھی تھے جو یہ سب سن کر گہری سوچ میں ڈوب گئے جیسے کسی بہت بڑے روشن مستقبل کی کنجی ہاتھ لگ گئی ہو۔