یورپ کا گزشتہ سال- اوریا مقبول جان

دنیا بھر کا میڈیا پندرہ مارچ 2019 ء کو اس وقت چونک اٹھا تھا جب نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ایک اٹھائیس سالہ متشدد، جنونی عیسائی برینٹن ٹیرنٹ النور مسجد میں ایک بج کر پچیس منٹ پر گولیاں چلاتا داخل ہوا، اکیاون مسلمانوں کو شہید کیا اور چالیس کو زخمی۔ اس واقع کا اہم ترین پہلو یہ تھا کہ اس شخص نے اپنے اس جنون کی تشہیر کے لیے کسی میڈیا چینل کا سہارا نہ لیا بلکہ اپنی بندوق پر کیمرہ نصب کر کے پوری دنیا کو اس ہولناک منظر کا براہ راست نظارہ کروایا۔

عین ممکن تھا کہ اگر لوگوں نے اس منظر کو براہ راست نہ دیکھا ہوتا تو دنیا بھر کا متعصب میڈیا اسے ایک معمول کی خبر کی طرح نشر کرکے نظرانداز کر دیتا۔ لیکن اس خوفزدہ کردینے والے منظر کے بعد پوری دنیا کے سامنے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا مثبت روپ پیش کیا جاتا رہا۔ یوں لگتا تھا جیسے دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف صرف یہی ایک ظلم ہوا ہے اور اس ظلم کے خلاف کس طرح نیوزی لینڈ کی حکومت اور عوام امن کا پیغام لے کر سامنے آئے ہیں۔یہ ان تمام واقعات کا تسلسل تھا جو گزشتہ دس سال سے ہو رہے ہیں۔
لیکن اگر اس واقعے سے پہلے گزرے ہوئے سال یعنی 2018 ء میں جو یورپ کے ممالک میں مسلمانوں پر بیتی اور جس طرح انہیں ہر روز خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا، ان حقائق کو یکجا کر کے میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے تو ایسا لگے گا جیسے مہذب ترین یورپ میں بسنے والے وہ بھیڑیے ہیں جو اپنے ہاں بسنے والے مسلمانوں کے نہتے معصوم غولوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ صرف گزشتہ سال یعنی 2018ء میں اسلام فوبیا کے واقعات کے اعدادوشمار ملاحظہ کرلیں۔ یہ تمام اعداد و شمار سرکاری ہیں اور ان میں ایسے واقعات کا بالکل کوئی ذکر موجود نہیں جو بیچارے مسلمانوں نے خوف اور بدنامی کی وجہ سے پولیس کو رپورٹ ہی نہیں کیے تھے۔ بلجیم میں اسلام فوبیا کے 70 واقعات ہوئے جن میں سے 76 فیصد حملے خواتین پر تھے اور 24 فیصد مردوں پر ہوئے۔ ان تمام واقعات میں 84 فیصد ان کے دفاتر اور کام کرنے والی جگہوں میں پیش آئے۔ آسٹریا میں اس سال 540 اسلام فوبیا کے کیس سامنے آئے جبکہ گزشتہ سال یعنی 2017 ء میں ان کی تعداد 309 تھی۔ بوسنیا میں مسلمانوں کے اجتماعات پر 12 دفعہ حملے ہوئے۔

فرانس میں 676 اسلام فوبیا کے واقعات ہوئے، 88 نفرت انگیز گفتگو، 568 دفعہ اسلام کی وجہ سے نفرت انگیز امتیازی سلوک اور 20 واقعات میں تو براہ راست حملہ کیا گیا۔ جرمنی اس معاملے میں سب سے خوفناک ملک تھا، 678 باقاعدہ حملے پولیس کے پاس رپورٹ ہوئے جو براہ راست مسلمانوں پر راہ چلتے کیے گئے۔ 1775 حملے ان مہاجرین پر ہوئے جو مسلمان ملکوں سے ہجرت کرکے آئے تھے، 40 مساجد کو نشانہ بنایا گیا، 173 پناہ گزین کیمپوں پر حملہ ہوا۔ 95 امدادی کارکن حملوں کی زد میں آئے۔ ناروے میں اس سال 120 ایسے جرائم کی رپورٹیں پولیس میں کی گئیں جن میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ فن لینڈ کی پولیس کے مطابق وہ مسلمان افغان باشندے جو یہاں رہتے ہیں ان کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں 58 فیصد اضافہ ہوا۔ بلغاریہ میں آٹھ واقعات رپورٹ ہوئے، ہالینڈ کی 18 مساجد میں 55 حملے ہوئے جن میں سے 7 مساجد میں سؤرکا سر کاٹ کر پھینکا گیا۔ برطانیہ میں اسلام فوبیا کے واقعات میں 415 فیصد اضافہ ہوا اور تقریبا تین ہزار مقدمات یعنی 5680 میں سے 58 فیصد مسلمانوں پر حملوں سے متعلق تھے۔ سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ ایک سروے جو ''Hope Not Hate'' نامی تنظیم نے کیا ہے،اس کے مطابق برطانیہ کے پچاس فیصد ووٹر یہ تصور رکھتے ہیں کہ اسلام برطانوی طرز زندگی سے متصادم ہے اور اس کی یہاں کوئی گنجائش نہیں۔ اب ذرا متشدد واقعات کی تفصیل ملاحظہ کریں۔

آسٹریا میں فوج میں بھرتی ہونے والے 18 سالہ نوجوان ماریو ایس نے ایک سکول کے باہر فائرنگ کی جس سے ایک مسلمان بچہ شدید زخمی ہوا۔ بلجیمکے شہر اینڈرلیوس (Andrelues) میں ایک تیرہ سالہ مسلمان لڑکی پر حملہ کیا گیا اور اسے زبردستی جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلجیم کے ایک اور شہر چارلی روئی (Charleroi) میں ایک حجاب والی مسلمان عورت جو اپنے دو سالہ بچے کے ساتھ جا رہی تھی اس کے سر سے حجاب کھینچا گیا اور اس کے بچے کو تھپڑ مارے گئے۔ بوسنیا کے شہر بنیجالوکا (Banjaluka) میں نئی بننے والی مسجد کے سامنے دیر تک فائرنگ کی گئی اور ایک مسلمان مہاجر حامد کے گھر کو آگ لگادی گئی۔ بلغاریہ کے دو مسلمان قبرستانوں پر قبریں اکھاڑیں گئیں اور ان کی بے حرمتی کی گئی۔ کروشیا میں دو مسلمان مردوں کے تابوتوں پر سؤرکی چربی پھینکی گئی۔ چیکوسلواکیہ میں ایک عجیب وغریب معاملہ ہوا، ایک بہتر سالہ شخص جرومر بالا (Jaromir Balda) نے ریلوے لائن کے پاس دو درخت کاٹ کر ریلوے لائن پر گرائے اور ان کے ساتھ جہادی نعروں والے بینر بھی رکھ دیے تاکہ پتہ چلے کہ یہ کسی مسلمان دہشتگرد کا کام ہے۔

ڈنمارک میں ایک شخص سے تین لوگوں نے سوال کیا، کہ کیا تم مسلمان ہو، اس نے ہاں میں جواب دیا جس پر ان تینوں نے اسے لاتوں اور گھونسوں سے مار مار کر بیہوش کردیا۔ ایسٹونیا کی مساجد پر نعرے لکھے گئے، ''انہیں بم مار کر تباہ کردو''، فن لینڈ کے شہر وانٹا (Vantaa) میں ایک پاکستانی پر تین گوروں نے حملہ کیا اور اس کے جسم میں تیس دفعہ چاقو گھونپے اور پھر کلہاڑے سے اس کی کھوپڑی توڑ دی۔ فرانس میں ایک تنظیم کے سو سے زیادہ افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا جو حلال خوراک میں زہر ملانے، مساجد کے اماموں کو قتل کرنے، حجاب والی عورتوں کی بے حرمتی کرنے کے جرم میں شریک تھے جن میں دس لوگوں پر فرد جرم عائد ہوئی۔ یونان میں افغان مہاجرین عورتیں اور بچے لیس واس (Lesvos) کے مرکزی چوراہے میں جمع تھے تاکہ اپنا مہاجر کارڈ حاصل کرسکیں، رات کو ہجوم نے ان پر حملہ کردیا جو یہ نعرے لگا رہا تھا ''سب کو آگ لگا دو، جس کے نتیجے میں 28 لوگ شدید زخمی ہوئے۔ ہنگری میں درجنوں ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں حجاب والی مسلمان عورتوں کو تھپڑ مارے گئے، ان کے منہ پر تھوکا گیا، آئرلینڈ میں بس میں سفر کرنے والے مسلمان ڈاکٹر کو گالیاں دیں گئیں۔

اٹلی کے شہر سینی گلیز (Senagalese) میں ایک مشہور نمازی خوانچہ فروش کو قتل کیا گیا، میکا راٹا (Mecarata) شہر میں نائیجیریا کے تین مسلمانوں کو فائرنگ کر کے زخمی کیا گیا، مراکش سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کو میٹرو میں واہیات طریقے سے چھیڑا گیا۔ ایک اٹلی کے گورے نے اسلام قبول کرلیا، اسے مسجد سے نکال کر بری طرح مارا گیا۔ پولینڈ کے شہر کیٹ وائس (Katowice) کے ریلوے اسٹیشن پر عرب طالب علموں پر دس سے زیادہ لوگوں نے حملہ کیا جو انہیں زخمی کر کے ریلوے لائن پر پھینک گئے اور سکیورٹی گارڈ تماشہ دیکھتے رہے۔ شمالی مقدونیہ کے شہر پرلپ (Prilep) میں 350 سال قدیم مسجد کو آگ لگادی گئی۔ سربیا میں ایک مسلمان کو جو البانیہ کا تھا مار مار کر شدید زخمی کیا گیا۔ ناروے میں روزانہ مسلمان عورتوں پر تھوکنے، گالیاں دینے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ برطانیہ میں شام کے مہاجر بچے جمال کی کہانی دردناک ہے جس پر تشدد کیا گیا اور اس کی ویڈیو بھی بنائی گئی، اس کے علاوہ برطانیہ میں مساجد پر حملوں کے لاتعداد واقعات ہیں۔

سپین میں بارسلونا کی مسجد پر حملہ ہوا اور دینا (Denia) میں ایک مراکشی نوجوان کو شدید زخمی کیا گیا۔ یورپ میں 74 کروڑ لوگ بستے ہیں جن میں سے صرف چار کروڑ مسلمان ہیں۔ یہ تعداد کسی بھی اکثریت کو خوفزدہ نہیں کر سکتی۔یہ اس قدر کم ہے کہ اکثریت کے رحم و کرم پر ہے۔اپنے ملکوں سے روزگار کی تلاش میں سرگرداں یہ بے یار و مدد گار لوگ اس بے رحم معاشرے میں زندگی گزرنے پر مجبور ہیں۔ مؤرخین، دانشوروں اور ادیبوں کی تحریروں کی پالی ہوئی صدیوں کی یہ نفرت ہے جس میں یورپ جل رہا ہے اور وہاں بسنے والے یہ چند فیصد مسلمانوں بھگت رہے ہیں۔ یہ ہے وہ یورپ کا ''مہذب'' چہرہ جو مکروہ بھی ہے اور ظالم بھی لیکن میڈیا کو صرف نیوزی لینڈ کی وزیراعظم ہی نظر آتی ہے۔