پاکستان ’نظریاتی ریاست‘ یا ’نظریہ بردار ریاست؟‘ - پروفیسر شریف المجاہد

بے شک ‘ جیسا کہ ساری دنیا جانتی اور مانتی ہے‘ پاکستان ایک نظریہ بردار ریاست ہے‘ یعنی اِس کا نظریہ ہے۔ اور یہ کوئی ایسی تعجب کی بات بھی نہیں‘ کیونکہ جیسا کہ بہت کچھ کہا اور کیا جاچکا ہے‘ دنیا میں کوئی ریاست ایسی نہیں ہے جس کے وجود کے پیچھے کوئی نظریہ نہ ہو‘ خواہ وہ علانیہ اس کا اقرار کرے یا نہ کرے‘ خواہ وہ سیاسی فلسفے یا بنیادی سیاسی اقدار یا بنیادی سیاسی نظریات یا کسی اور مفروضے اور دلیل کی رُو سے اپنے نظریے کا کچھ بھی نام رکھے۔

لیکن پُرجوش سوویت یونین (متوفی ۱۹۹۱ء) کا معاملہ قدرے عام دستور سے ہٹا ہوا ہے یا یوں کہیے کہ مابہ الامتیاز ہے‘ کیونکہ اُسے مغرب کے خلاف بیسویں صدی کے انتہائی طلسماتی نظریے کو کام میں لانا پڑا۔ اسی نظریے کی بنیاد پر اس نے جنم لیا‘ تحریک پائی‘ پروان چڑھی اور جس کی ہر حرکت اور ہر اقدام میں یہ نظریہ رچا بسا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخِ انسانی میں بڑی یا رُجحان ساز تحریک ایسی نہیں ہے‘ خواہ وہ مذہبی ہو یا معاشرتی یا سیاسی یا معاشی‘ جو کسی نہ کسی واضح ‘ باضابطہ‘ باقاعدہ اور حقیقت پر مبنی نظریے (آئیڈیالوجی) سے خالی ہو۔ جدید تاریخ سے اِس کی تین بڑی مثالیں قابل ذکر ہیں۔ مثال کے طور پر کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ رُوس میں اکتوبر ۱۹۱۷ء میں جو انقلاب آیا تھا‘ وہ نتیجہ تھا پچھلی سات دہائیوں میں‘ یعنی ۱۸۴۸ء میں ’’داس کیپیٹل‘‘ کی اشاعت کے بعد مارکسی نظریے کی اشاعت‘ تبلیغ اور تشہیر کا؟
دوسری مثال فرانسیسی انقلاب کی ہے جس کی تفصیلات درسی کتابوں میں بھری پڑی ہیں۔ کیا ہم تصور بھی کر سکتے ہیں کہ فرانسیسی انقلاب ایک ایسی حکومت قائم کرنے کے نظریے پر برپا نہیں ہوا تھا‘ جو ’’آزادی‘ مساوات اور حریت‘‘ کے سہ گانہ نظریے پر مبنی ہو؟ ۱۴ جولائی ۱۷۸۹ء کو باستیل کی جیل سے جو طوفان یکایک بھڑک اٹھا تھا‘

وہ دراصل اس امر کا اظہار تھا کہ یہ سہ گانہ نظریہ فرانسیسی عوام کے اجتماعی شعور میں رچ بس کر پختہ ہو چکا ہے۔ پیرس کا یہ گوناگوں معاشرتی طبقوں کا بپھرا ہوا ہجوم مارکسیت کے مفہوم میں عملاً غریب‘ مفلوک الحال پرولتاریہ کا انقلاب تھا‘ لیکن درحقیقت سہ گانہ نظر (آزادی‘ مساوات اور حریت) ان کے اندر جذب ہو کر عوامی غیظ و غضب کا آتش فشاں بن گیا تھا جو پرانی حکومت کا تختہ الٹ کر ہی ٹھنڈا ہو سکتا تھا۔ اسی طرح آپ غور فرمائیے‘ اپریل ۱۷۷۵ء میں جو امریکی انقلاب آیا‘ کیا وہ حکومت و کامرانی کے اُن بنیادی نظریوں کی پاسداری کے بغیر برپا ہو سکتا تھا جو اس عوامی نعرے میں مجسم ہو گئے تھے: ’’نمائندگی نہیں تو ٹیکس بھی نہیں‘‘۔ نظریے کی بے قدری اور بے توقیری کا آغاز پچاس کی دہائی میں‘ خصوصاً سیاسی ماہرینِ عمرانیات کی تحریروں سے ہوا تھا۔ ایڈورڈشلز نے کتاب لکھی: ’’دی اینڈ آف آئیڈیالوجی‘‘ جو ۱۹۵۵ء میں چھپی۔ اِسی عنوان سے نظریے کے خاتمہ بالخیر کے موضوع پر ۱۹۶۰ء میں ایک کتاب ڈینیل بیل نے لکھی۔ اسی سال ایس ایم لپسٹ نے اپنی کتاب ’’پولیٹیکل مین‘‘ میں تو صاف ہی نظریے کی قبل از وقت مرگ کا اعلان کر دیا۔ نظریے کی اہمیت کے خلاف اس قسم کی تحریروں کے خلاف ولیم پف دلائل کے ساتھ لکھتا ہے: ’’دنیا میں اصولِ اقتدار اور حصولِ اقتدار کے پیچھے اب تک تو نظریے ہی کی طاقت کارفرما ہے‘‘۔

چنانچہ تاریخ کی سب سے طاقتور اور طویل نظریاتی ریاست یعنی سویت یونین کی وفات کے بعد بہت سے نظریہ بازوں نے پیش خبریاں شروع کر رکھی ہیں: مثلاً فرانسس فیکویاما (تاریخ کا خاتمہ) یا مثلاً سیموئیل ہٹنگٹن (تہذیبوں کا تصادم والے)۔ ان پیش خبریوں کی جڑیں نظریہ ہے اور ان کی اٹھان میں نظریہ ہے۔ صرف سرمایہ داری کا نظام ہی نہیں بلکہ اس کے تازہ برگ و بار‘ مارکیٹ اکانومی اور جہاں گیریت بھی اب ہر شعبۂ حیات میں خالص نظریے کی حیثیت میں پھل پھول رہے ہیں۔ ایک اور سطح پر نظریے (آئیڈیالوجی) نے تحریکوں کی صورت اختیار کر لی ہے۔ سری لنکا میں سنہالی تحریک‘ میانا مار میں بدھ مت کی احیائی تحریک‘ تھائی لینڈ میں ہر چیز کو تھائی میں رنگنے کی تحریک‘ بلغاریہ میں ترک ناموں کو بدل کر بلغاری نام رکھنے کی تحریک‘ چین میں مارکسی نظریے کو چینی بنا لینے کی تحریک‘ یورپ کے مستقبل کو عیسائیت کی عظمت سے وابستہ کر لینے کی تحریک‘ جس کو اوروں کو تو چھوڑیے ایک طرف سرونسٹن چرچل جیسے عظیم سیاسی رہنما نے ۱۹ ستمبر ۱۹۴۶ء کو زیورچ یونیورسٹی کے اپنے مشہور خطاب میں ایک نعرہ بھی دی دیا تھا: ’’جاگ یورپ جاگ‘‘۔ چرچل کا یہ خطاب اس طویل بورژوائی تحریک کا نقطۂ آغاز تھا جو اَب بالآخر ’’یورپی یونین‘‘ کی صورت زندہ حقیقت بن گئی ہے۔

یورپی یونین آج دنیا کی واحد سپر پاور کے بعد دنیا کی سب سے بڑی سیاسی و معاشی طاقت ہے۔ چرچل نے اپنے جذباتی نعرے کو تدبر و تعطل کی زبان میں کہا تھا: ’’یورپ مسیحی عقیدے اور مسیحی اخلاق کا بنیادی سرچشمہ ہے‘‘۔ (اسی نظریے کا شاخسانہ ہے کہ آج یورپی یونین کے صدر مرکز برسلز کی جانب سے مسلم ترکی کو یورپی یونین میں شامل کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں مذاکرات ہوتے ہیں‘ حالانکہ مسلم ترکی تو ۱۹۲۷ء ہی سے مغربی بھی تھا اور سیکولر بھی‘ اور اپنے اِن اوصاف کے صبح شام یقین دلاتا رہتا ہے)۔ اسی طرح یاد رہے کہ چالیس کی دہائی کے اوائل میں جب ایف ایف آئی (آزاد فرانس کے بکتر بند دستوں) نے جرمن قبضے کے خلاف زبردست مدافعت کی تھی تو نظریاتی علامت کے طور پر جون آف آرک کی صلیب لورین ہر سپاہی نے اپنے گلے میں یا سینے پر آویزاں کی تھی۔ یاد رہے کہ جب شہر پیرس کی آزادی کے لیے سخت مدافعانہ جنگ لڑی گئی تھی تو پیرس کے سب سے بڑے مزاحمتی مرکز پری فیکچر (کلیسا) کے اوپر صلیب لورین والا سفید پرچم لہرایا گیا تھا جو گویا مزاحمت و مدافعت کی علامت تھا۔ اس سے بھی زیادہ اہم اور قابلِ ذکر بات ہے کہ اگست ۱۹۴۴ء میں جب آزاد فرانس دستوں کی بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک وغیرہ پیرس کا محاصرہ توڑنے کے لیے نار منڈی کے کھیتوں سے پُرجوش نعروں کے ساتھ دیوانہ وار گزر رہے تھے اور فرانس کے سہ رنگا پرچم کے ساتھ ساتھ جان آف آرک کی صلیب لورین والے سفید جھنڈے بھی لہرا رہے تھے‘

تب خود فرانس کے سپرمین چارلس ڈیگال نے جب فتح پیرس کے بعد ۲۵ اگست ۱۹۴۴ء کو ہوٹل دی ولّے کی بالکونی پر عوام سے اپنا پہلا خطاب کیا تو ان کی سادہ خاکی وردی پر ایف ایف آئی کے نیلے بیج کے ساتھ لورین کی صلیب بھی سلی ہوئی تھی۔ جدید تاریخ کی ان چند مثالوں سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ’’نظریہ‘‘ دنیا کے ہر گروپ‘ ہر معاشرے‘ ہر قوم کو ہر دور میں‘ ہر موسم میں‘ ہر طرح کے حالات میں بلند تر عزائم کی تحریک دیتا ہے‘ اُن کی کوششوں اور جدوجہد میں استواری اور استقلال پیدا کرتا ہے اور اپنے نصب العین کے حصول میں ہر قربانی دینے کے لیے ترغیب دیتا ہے۔ لیکن کیوں؟ اس لیے کہ اپنے وسیع تر مفہوم میں نظریہ اعلیٰ و ارفع اقدار‘ مشترکہ عقائد اور مقاصد و اعیان کا مجموعہ ہے جو (۱)کسی قوم کے محض مزاج کا مرکز و محور ہے اور جو(۲)طویل وقت کے بعد اُن کے اجتماعی شعور میں بہت گہرائی میں پیوست ہو چکا ہوتا ہے اور جو (۳)اُن کے آبائو اجداد کی میراث و اخلاقیات کی مخصوص انفرادیت کا حامل ہے اور جو (۴)ان سب پر مستزاد جذبے سے معمور ہے۔ مختصر یہ کہ نظریہ ایسی طاقتور چیز ہے کہ کسی قوم کے جذبات کے پوشیدہ اور مخفی سرچشموں میں ایسی شدت اور خوبی سے جوش پیدا کرتا ہے کہ کوئی اور چیز ایسا نہیں کر سکتی۔ عقائد‘ مقاصد و اعیان کی تحریک و تحریص سے کسی قوم یا گروپ کے سامنے جو نصب العین پیدا ہوتا ہے‘

نظریہ اس کا دوسرا نام ہے۔ یوں نظریے اور لوگوں کے درمیان ایک زندہ تعلق پیدا ہو جاتا ہے اور فی الحقیقت لوگوں کے مزاج کا لازمی حصہ بن جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ نظریہ لوگوں کو اُن کا نصب العین اور اُن کے مقاصد کے حصول میں فعال اور مثبت عمل کی تحریک دیتا ہے اور بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار کرتا ہے۔ چرچل نے اپنی محولہ بالا زیورچ والی تقریر میں اس امر پر زور دے کر کہا تھا کہ عیسائیت اور یورپ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ یہ مقدس براعظم دنیاے مغرب کی تمام نسلوں کا گہوارہ اور مسیحی عقیدے اور مسیحی تہذیب کا منبع ہے‘‘۔ ایسا ہی رشتہ زیادہ معقولیت اور موزونیت کے ساتھ اسلام اور پاکستان کے درمیان استوار کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے مطالبے کے لیے زیادہ تر یہی دلیل تو دی گئی تھی کہ اسلام ہماری تہذیب و ثقافت کا گہوارہ ہے۔ اس نظریے کی بنیاد پر تحریک چلائی گئی تھی۔ تقسیم سے پہلے کے ہندوستان میں اپنے ہر طرح کے عمودی و افقی‘ علاقائی و لسانی اختلافات کے باوجود مسلمانانِ ہند اسلام اور صرف اسلام کے وسیع پلیٹ فارم پر متحد و متفق ہو سکتے تھے۔ چنانچہ اسلام ہی اُن کی سیاسی تحریک کا محور ثابت ہوا۔

تحریکِ آزادی کے لیے اگر اسلام کا نعرہ منتخب ہوا تو اِس کی سیدھی سادی وجہ بقول علامہ اقبال یہ حقیقت تھی کہ اسلام نے مسلمانانِ ہند کو صرف وہ بنیادی جذبات اور وفاداریاں فراہم نہ کی تھیں جو منتشر افراد اور جماعتوں میں اتحاد پیدا کرتی ہیں‘ بلکہ ایک قوم ساز قوت بھی فراہم کی تھی‘ جس نے بتدریج اُن کو ایک واضح قوم کی شکل میں منقلب کر دیا تھا۔ مسلمانانِ ہند کا اتحاد‘ جس قدر بھی اتحاد انھوں نے حاصل کیا‘ منٹگمری واٹ کے الفاظ میں ’’ایک کرشمہ ساز قوم کے فعال تصور یا خیال یا نظریے کا ثمر ہے‘‘۔
مسلمان برعظیم کے پورے طول و عرض میں مختلف تناسب کے ساتھ بکھرے ہوئے تھے لیکن ابھی اُن میں اپنے ’’معاشرتی ورثے‘‘ کی بنیاد پر ایک قوم کی حیثیت سے جینے کا عزم پیدا نہ ہوا تھا۔ یہ ’’قومی عزم‘‘ جو معروف مستشرق ریناں (وفات ۱۸۹۲ء) کے قومیت کے خاکے میں بنیادی عنصر ہے‘ مسلمانوں میں جداگانہ قومیت کے مطالبے کے لیے ایک فکری و سیاسی محرک بن گیا یعنی ہندوستانی‘ بلکہ زیادہ صحیح لفظوں میں ہندو قومیت سے الگ ایک منفرد قوم۔ ریناں کے نزدیک قومیت (نیشنلزم) ایک قوم کی حیثیت سے زندہ رہنے کی خواہش کا عملی اور فعال اظہار ہے اور چونکہ اسلام اور اُس کے منظم تصورِ کائنات نے یہ خواہش پیدا کر رکھی تھی لہٰذا ہندوستان میں مسلم قومیت اپنے جوہر میں مذہب کی اساس پر پروان چڑھی‘ اگرچہ اسے بعض دوسرے بنیادی عوامل مثلاً زبان‘ تاریخ‘ ثقافت‘ تہذیب و معیشت سے بھی بہت تقویت ملی۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ مطالبۂ پاکستان بنیادی طور پر کسی نسلی یا لسانی یا علاقائی قومیت کا نتیجہ نہیں تھا‘ اگرچہ ان عوامل کی موجودگی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا‘ لیکن جیسا کہ مصنف ڈبلیوسی سمتھ نے کہا‘ مطالبۂ پاکستان کا بڑا سبب مذہب تھا اور قومیت کے دیگر عوامل و اسباب مذہب کے ماتحت ہو کر رہ گئے تھے۔ مطالبۂ پاکستان کا سبب قائداعظم کے الفاظ میں یہ تھا: ’’قومیت کی تعریف خواہ کچھ بھی کی جائے‘ مسلمان ہر تعریف کی رُو سے ایک جداگانہ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس لیے اُن کا استحقاق ہے کہ اُن کی اپنی الگ‘ جداگانہ اور خودمختار ریاست ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لوگ اپنی روحانی‘ تہذیبی‘ اقتصادی‘ معاشرتی اور سیاسی زندگی کو مکمل نشوونما دیں اور اس مقصد کے لیے ہم ایسا طریقِ عمل اختیار کریں جو ہماری اپنے مقاصد اور ہمارے لوگوں کی بہترین متانت و لیاقت کے مطابق ہو‘‘۔ قائداعظم نے اپنی ۲۲ مارچ ۱۹۴۰ء والی اس تقریر میں مسلم قومیت اور اس کی بنیاد پر قائم ہونے والی مسلم ریاست کے پانچ عوامل گنوائے ہیں۔ تاہم انھوں نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد و منظم ہونے کے لیے تہذیبی مماثلت کو اپنے اعلانات و بیانات میں دانستہ طور پر نظریے کے تحت رکھا تھا۔ نظریے کی تشہیر و تبلیغ کے لیے مختصر ترین استعارہ مذہب تھا‘ حالانکہ مذہب کے نیچے اور بھی کئی عوامل اور متعدد سوالات مخفی تھے‘ جن کو قائداعظم نے مختلف موقعوں پر بیان کرنے سے احتراز کیا۔ گویا پاکستان کا مطالبہ اپنی بنیادی تشکیل میں یا مختلف ارتقائی مراحل میں یک سمتی نہیں تھا۔

اس کے باوجود تہذیبی یا ثقافتی عنصر کا حوالہ پورے قصے میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ انھوں نے ۲۲ مارچ ۱۹۴۰ء والے خطاب میں تہذیبی عنصر پر خاص طور پر زور دیتے ہوئے فرمایا: ’’اسلام اور ہندو دھرم محض مذاہب نہیں ہیں بلکہ درحقیقت دو مختلف النوع تہذیبی و معاشرتی نظام ہیں۔ چنانچہ اس خواہش کو خواب ہی کہنا چاہیے کہ ہندو اور مسلمان مل کر ایک مشترکہ قومیت تخلیق کر سکیں گے۔ یہ لوگ آپس میں شادی بیاہ نہیں کرتے۔ نہ ایک دسترخوان پر کھانا کھاتے ہیں۔ میں واشگاف لفظوں میں کہتا ہوں کہ وہ دو مختلف تہذیبوں سے واسطہ رکھتے ہیں۔ ان تہذیبوں کی بنیاد ایسے تصورات و حقائق پر ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں‘ بلکہ اکثر متصادم رہتے ہیں۔ انسانی زندگی کے متعلق ہندوئوں کا تصور کچھ اور ہے اور مسلمانوں کا تصور کچھ اور۔ یہ بھی واضح حقیقت ہے کہ ہندو اور مسلمان اپنی اپنی ترقی کی تمنائوں کی مختلف تاریخوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے تاریخی ماخذ اور سرچشمے مختلف ہیں۔ ان کی رزمیہ نظمیں‘ ان کے سربرآوردہ بزرگ اور قابل تاریخی کارنامے مختلف ہیں۔ اکثر اوقات ایک قوم کا رہنما دوسری قوم کے رہنمائوں کا دشمن ہوتا ہے۔ ایک قوم کی فتح دوسری قوم کی شکست ہوتی ہے۔ ایسی دو قوموں کو ایک ریاست اور ایک حکومت کی مشترکہ گاڑی کے دو بیل بنانے اور ان کو باہمی تعاون کے ساتھ قدم بڑھانے پر مجبور کرنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ دونوں میں بے چینی اور بے صبری روز بروز بڑھتی رہے گی جو انجام کار تباہی لائے گی۔

خصوصاً اس صورت میں کہ ان میں سے ایک قوم تعداد کے لحاظ سے اقلیت میں ہو اور دوسری کو اکثریت حاصل ہو‘ ایسی ریاست کے آئین کا عمل خاک میں مل کر رہے گا‘‘۔
۱۹۴۰ء میں قائداعظم کا یہ استدلال علامہ اقبال کے ۱۹۳۰ء کے خطبہ الہ آباد کی صداے بازگشت تھا۔ نظریہ دینے والے اور اُس کی بنیاد پر تعمیر کرنے والے کے درمیان کیسی عجیب و نادر ہم آہنگی تھی۔ کیسا غضب کا حسنِ اتفاق۔ یقین تو نہیں آئے گا لیکن ہے یہ یقینی بات کہ تہذیبی عنصر کی یہ ناگزیریت اسکندر مرزا کے ہاتھوں روز مرہ کی زندگی کی ایک مثال بن گئی‘ جو ایک عشرے کے بعد پاکستان کے آخری گورنر جنرل اور پہلے صدرِ مملکت بننے والے تھے۔ انھوں نے ۱۹۴۵ء کے عام انتخابات کے موقع پر سمبل پور (اُڑیسہ) سے‘ جہاں وہ پولیٹیکل ایجنٹ کے منصب پر مامور تھے‘ مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری لیاقت علی خاں کے نام ایک خط میں لکھا: ’’میں یہاں چار ماہ سے مقیم ہوں اور جب تک آپ جلد ہی پاکستانی حکومت قائم نہ کریں گے‘ میری روحانی اور اخلاقی زندگی کے لیے زبردست خطرہ ہے۔ تئیس برس سے میں اسلامی ماحول میں رہ رہا تھا اور اب اچانک تقدیر نے یہ تماشا دکھایا ہے کہ میں ایسی جگہ رہنے پر مجبور ہوں جہاں مسلمانوں کی تعداد بمشکل ایک فیصد ہے‘ تاکہ میری آنکھیں جو مساجد دیکھنے کی عادی تھیں‘ اب مندر دیکھا کریں اور میرے کان جو اذان کی آوازیں سنا کرتے تھے‘ اب مندروں سے نکلنے والی بھجنوں کی آوازیں سنا کریں‘‘۔

یہ حقیقت ہے کہ تہذیب و ثقافت کا عنصر بنیادی اور مرکزی مسئلہ تھا‘ اسے بلکہ مسائل کی جڑ سمجھنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مطالبۂ پاکستان سے علاقائی مسائل کا جو حل سامنے آیا تھا‘ اُس میں دنیاوی (غیرمذہبی) عوامل کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ قائداعظم کے مارچ ۱۹۴۰ء کے لاہور والے خطاب کی تائید میں اُن کے اور بھی کئی بیانات پیش کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاً ۱۸ جون ۱۹۴۵ء کو مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن صوبہ سرحد کے نام اپنے پیغام میں قائد نے کہا: ’’پاکستان کا مطلب نہ صرف آزادی اور خودمختاری ہے بلکہ مسلم نظریہ بھی ہے جس کا ہمیں تحفظ کرنا ہے‘ جو ایک بیش قیمت تحفہ اور اثاثہ کے طور پر ہمیں ملا ہے اور ہمیں اُمید ہے کہ دوسرے لوگ بھی اِس کام میں ہمارے شریک ہوں گے‘‘۔ یا مثلاً ۲۱ فروری ۱۹۴۸ء کو انھوں نے پاکستان میں ’’اسلامی جمہوریت‘ اسلامی معاشرتی انصاف اور مساوات انسانی کے فروغ و استحکام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ۷ اگست ۱۹۴۵ء کو اہلِ ہند کے نام اپنے الوداعی پیغام میں قائد نے فرمایا: ’’ماضی کو یکسر فراموش کر دینا چاہیے اور ہمیں چاہیے کہ ہم دو آزاد اور خودمختار مملکتوں کی حیثیت سے ازسرِ نو زندگی کا آغاز کریں‘‘۔ ۱۱؍ اگست ۱۹۴۷ء کو مجلسِ دستور ساز اسمبلی کا پہلا صدر منتخب ہونے پر قائد نے اپنی افتتاحی تقریر میں فرمایا تھا: ’’اب آپ آزاد ہیں۔ اس مملکتِ پاکستان میں آپ آزاد ہیں۔

اپنے مندروں میں جائیں‘ اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب‘ ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو‘ کاروبارِ مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ جیسے جیسے زمانہ گزرتا جائے گا نہ ہندو‘ ہندو رہے گا‘ نہ مسلمان مسلمان۔ مذہبی اعتبار سے نہیں کیونکہ یہ ذاتی عقائد کا معاملہ ہے بلکہ سیاسی اعتبار سے اور مملکت کے شہری کی حیثیت سے‘‘۔

قیامِ پاکستان کے موقع پر ان دو اہم تقریروں سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ انھوں نے برعظیم میں جس جداگانہ قوم کی نمائندگی کا دعویٰ کیا تھا‘ اُس کے مفہوم میں ایک لفظی تبدیلی کا اظہار کیا تھا۔ جداگانہ قوم کے نظریے کی بنیاد پر منزلِ مقصود یعنی پاکستان کی صورت میں ایک مملکت حاصل ہو گئی تھی۔ ریناں کے فریم ورک کے مطابق مذہب کے نیچے دبی ہوئی دوسری اہم چیزیں (مثلاً میدانِ جنگ یا روز مرہ کی عملی زندگی کے معمولات کے روز و شب) یکسر بدل گئیں۔ تقسیم سے پہلے کا دو قومی نظریہ اب متروک اور غیرمتعلق ہو گیا۔ چنانچہ قائد نے اب پاکستانی قوم کو ناقابلِ تقسیم قرار دیا جو پوری آبادی پر مشتمل ہے‘ خواہ کوئی کسی بھی مذہب‘ نسل یا رنگ سے تعلق رکھتا ہو۔ سب کے حقوق یکساں ہوں گے‘ سب کے لیے مُراعات یکساں ہوں گے۔ سب کے فرائض یکساں ہوں گے۔ قائداعظم جب ’’اسلامی جمہوریت‘‘ کہتے تھے تو اس کے مفہوم میں ایک ناقابلِ تقسیم قوم کا تصور شامل تھا جو ’’میثاقِ مدینہ‘‘ سے بالکل ہم آہنگ تھا۔ اس وقت مدینہ میں بھی مختلف مذاہب‘ مختلف نسلوں‘ مختلف ثقافتوں اور مختلف زبانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد تھے۔

قائداعظم پُریقین تھے کہ پاکستان کا آئین جمہوری طرز کا اور اسلام کے بنیادی اور لازمی اصولوں پر مشتمل ہو گا‘ اس کے باوجود انھوں نے بڑی صراحت سے واشگاف لفظوں میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ ’’بہرحال پاکستان ایک ایسی مذہبی مملکت (تھیوکریسی) نہیں ہو گا جس پر آسمانی مشن رکھنے واے پاپائوں کی حکومت ہو‘‘۔ (امریکا کے عوام سے نشری خطاب‘ فروری ۱۹۴۸ء)
پاکستان کو ایک مذہبی مملکت بنانے کا خیال تحریکِ پاکستان کے تمام سربرآوردہ رہنمائوں نے بڑی سختی اور قطعیت کے ساتھ مسترد کر دیا تھا جن میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ (۱۸۸۵۔۱۹۴۹ء) بھی شامل تھی جو اُس زمانے کے انتہائی معتبر و مستند عالمِ دین تھے۔ مولانا صاحب نے ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کی تائید میں اپنی ۹ مارچ ۱۹۴۹ء کی تقریر میں واضح طور پر فرمایا: ’’اسلام میں دینی حکومت کے معنی ’’پاپائیت‘‘ یا ’’کلیسائی‘‘ حکومت کے نہیں۔ بھلا جس بت کو قرآن نے اِتَّخَذُوْا اَحَبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اﷲِ ’’انھوں نے اپنے علما اور درویشوں کو اﷲ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے‘‘ (سورۂ توبہ:۳۱) کہہ کر توڑا ہے۔ کیا وہ اسی کی پرستش کو جائز رکھ سکتا ہے؟

اس کے ساتھ ساتھ یہ اصول بھی تسلیم کر لیا گیا تھا کہ یہ قرارداد (مقاصد) کسی ایک مذہب کے پیروکاروں کے لیے نہیں بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے‘ خواہ اُن کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ پہلا جملہ ہی تمام لوگوں یعنی ’’جمہور‘‘ پر زور دیتا ہے: ’’اﷲ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلاشرکتِ غیرے حاکمِ مطلق ہے اور اُسی نے جمہور کی وساطت سے مملکت پاکستان کو اختیارِ حکمرانی اپنی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے نیابتاً عطا فرمایا ہے‘‘۔ ’’قرارداد‘‘ کی تجویز پر اُس وقت کے اکابرین نے اپنا اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کے لیے تقریریں کی تھیں۔ ’’اسلامی جمہوریت‘‘ کے تصور پر تقریر کرتے ہوئے بائیں بازو کے ممتاز رہنما میاں افتخار الدین (۱۹۰۷۔۱۹۶۲ء) نے فرمایا تھا: ’’میں ایک بار پھر عرض کرتا ہوں کہ لفظ ’’اسلامی‘‘ پر کسی کو ہرگز اعتراض نہیں ہو سکتا۔ جب ہم اپنی گفتگو میں کسی شرم یا جھجک کے بغیر ’’رومن لاء‘‘ یا ’’برٹش پارلیمنٹری سسٹم‘‘ اور اس طرح کی دوسری اصطلاحیں عام استعمال کر سکتے ہیں تو لفظ ’’اسلامی‘‘ کیوں نہیں؟ لیکن جب آپ اسلامی دستور کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دستور کو واقعی اسلامی ہونا چاہیے۔ اگر ہم دنیا کو صحیح معنوں میں ’’اسلامی دستور‘‘ دے دیں گے‘ حقیقی جمہوریت قائم کرنے کا ایک نیا طریقہ‘ ایک خوبصورت نظریہ‘ تو پھر کہا جاسکے گا کہ ہم نے ایک عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ ’’قراردادِ مقاصد‘‘ جو اَب ۱۹۷۳ء کے دستور کا دیباچہ ہونے کی بنا پر دستور کس مستقل جزوِ لاینفک ہے ’’اسلامی جمہوریت‘‘ کو اپنا نصب العین قرار دیتی ہے اور اُن اسلامی آرزوئوں اور تمنائوں کو اپنے صفحات میں شامل رکھتی ہے جو تحریکِ پاکستان کی تہ میں کارفرما تھیں۔

’’قراردادِ مقاصد‘‘ ہی پر کیا موقوف ہے‘ ۱۹۵۴ء کے دستور کے مسودے اور بعد ازاں ۱۹۵۶ء‘ ۱۹۶۲ء اور ۱۹۷۳ء کے دساتیر میں اسلام سے ہم آہنگ ہونے کا عہد کیا گیا ہے۔ چونکہ اسلام نے نظامِ حکومت کے خدوخال صراحت کے ساتھ واضح نہیں کیے ہیں‘ لہٰذا نظامِ حکومت‘ معاشرت اور عوامی زندگی کے لیے اسلام ایک اخلاقی بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ ’’قراردادِ مقاصد‘‘ نے پاکستان کے نظریاتی خدوخال‘ حدود اور مقاصد تو معین کر دیے ہیں اور اس کے لیے اسلام کو بنیاد قرار دیا گیا ہے لیکن صرف لوگوں کی مرضی کی حد تک کہ وہ براہِ راست یا اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے کس حد تک اِن حدود و مقاصد کی پاسداری کرتے ہیں۔ پس اسلام قوم کے نظریے کا سرچشمہ اور اخلاقِ عامہ کا منبع تو ہے لیکن برسرِ عمل وہ اہلِ پاکستان کی عمومی رائے ہی سے آسکتا ہے۔

آخری تجزیے میں پاکستان ایک نظریہ بردار مملکت ہے یعنی ایسا ملک جو ایک نظریے کا حامل ہے جیسا کہ دنیا کے تمام ممالک کوئی نہ کوئی نظریہ رکھتے ہیں لیکن کسی بھی لحاظ سے پاکستان کو بجائے خود ’’نظریاتی مملکت‘‘ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ دوسری بات ہے کہ اب یہ عام چلن بن چکا ہے کہ یار لوگ بے تکلفی سے اس کے مفروضات پر غور و فکر کیے بغیر‘ جبکہ بہت سے مفروضات غیرواضح ہوں‘ اسے ’’نظریاتی مملکت‘‘ لکھ دیتے ہیں‘ بالخصوص اردو تحریروں میں غیرذمہ داری کا یہ رجحان پختہ ہو چکا ہے۔ سیاسیات کی اِن دو اصطلاحوں کی عدم واقفیت کے باعث اور ان کے نتائج و عواقب پر غور کیے بغیر صحافی اور سیاسی لیڈر جو کچھ اُن کے جی میں آتا ہے‘ کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک نظریاتی مملکت اور ایک ایسی مملکت میں‘ جو کوئی نظریہ بھی رکھتی ہو‘ زمین آسمان کا فرق ہے۔

اِن دونوں مملکتوں کے درمیان جو گہرا فرق ہے‘ اُس کی تفصیل میں جانے کے لیے یہ مناسب جگہ نہیں‘ یہ کہنا کافی ہے کہ موخرالذکر مملکت کو اپنا کوئی نظریہ اپنانے کے لیے بحث مباحث‘ صلاح مشورے‘ گفتگو اور مذاکرات‘ اس کے اچھے برے پہلوئوں پر غور کرنے کے لیے قدم بہ قدم طول طویل عمل کے پُرمشقت مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس نظریاتی مملکت میں نظریہ اوپر سے نافذ کر دیا جاتا ہے۔ نافذ کرنے والی ہمہ مقتدر‘ حکمران پارٹی بھی ہو سکتی ہے‘ مطلق العنان آمر بھی ہو سکتا ہے۔ یہ برسرِ اقتدار طبقہ عوام کی ترجیحات و مفادات کی ذرا بھی پروا نہیں کرتا۔ نظریہ رکھنے والی مملکت جمہوری ہو سکتی ہے‘ لیکن نظریاتی مملکت اپنی فطرت میں آمرانہ‘ فسطائی‘ ظالم و جابر اور مطلق العنان ہوتی ہے۔

آیئے! رُسواے زمانہ نظریاتی مملکت کی مثالیں تاریخ میں دیکھتے ہیں۔ ۲ جنوری ۱۴۹۲ء کو سقوطِ غرناطہ کے بعد اسپین میں فردی نند اور ازبیلا کی مسیحی حکومت کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ انھوں نے اپنی مملکت کو نظریاتی کہا‘ لیکن تاریخ میں وہ بدترین ظلم و تشدد‘ بے محابا جبر و ستم اور بے پناہ تعذیب کی وجہ سے بدنام ہے۔ پہلے تو انھوں نے سابقہ حکمران جماعت یعنی مسلمانوں پر وحشت و بربریت کا مظاہرہ کیا۔ پھر یہودیوں کو حکم دیا گیا کہ عیسائیت قبول کرو یا ہلاکت‘ یا اسپین سے نکل جائو۔ اس قسم کے ظلم و ستم ‘ اجتماعی ہلاکت یا زبردستی اخراج کی مثالیں تاریخ کے صفحات میں بھری پڑی ہیں۔ کبھی کبھی تشدد جبر یہ کیمپوں کی صورت اختیار کرلیتا ہے جہاں پوری کی پوری جماعتوں اور گروہوں کو قید و بند میں ڈال کر بدترین اور غیر انسانی سختیاں روا رکھی جاتی ہیں۔

بیسیوں صدی کی نظریاتی مملکتوں کی مثال میں ہٹلر کے تحت نازی جرمن‘ مسولینی کے تحت فسطائی اٹلی‘ لینن اور اسٹالن اور اُن کے جانشینوں کے تحت سویت یونین اور بین گوریوں اور اُس کے جانشینوں کے تحت اسرائیل کی نظریاتی مملکتیں پیش کی جاسکتی ہیں۔

اسرائیل کے سوا کہ وہاں کا طرزِ حکومت کثیر جماعتی نظام پر مبنی ہے‘ باقی تمام نظریاتی مملکتوں میں حکمرانی ایک ہی مطلق العنان پارٹی کرتی رہی ہے‘ جس نے سیاسی یا نسلی امتیازات کی بناء پر پوری قوم کو یرغمال بنا کر مظالم ڈھائے۔ سویت یونین میں غیر اشتراکی گروپوں اور سیاسی مخالفین کو پکڑ پکڑ کر جبری کیمپوں میں رکھا گیا اور بہت سوں کو سائبریا لے جاکر سخت ترین مشقت میں ڈالا گیا۔ نازیوں نے تو یہودیوں کو صرف جبری کیمپوں میں ہی مقید نہیں کیا‘ بلکہ اُن کی مجموعی جسمانی ہلاکت کی بدترین مثالیں قائم کیں۔ ’’ہولوکاسٹ‘‘ میں چالیس کے عشرے کے اوائل میں تقریباً ساٹھ لاکھ یہودیوں کا قتل عام کیا گیا۔ یہ ہے نظریاتی مملکت کی مثال‘ جس کی بلاواسطہ پیداوار اسرائیل ہے۔ اسرائیل بھی ایک نظریاتی مملکت ہے۔ اس کی تخلیق میں صرف نازی جرمنی کا ردعمل شامل نہیں‘ بلکہ مغرب کا مجرمانہ ضمیر بھی شامل ہے‘ جس نے پچھلی کئی صدیوں میں یہودیوں کو جبری جلاوطنی پر مجبور کیے رکھا اور یہودی بے وطن ہوکر پوری دنیا میں منتشر رہے۔ بالآخر یہودیوں نے بڑے بڑے مسیحانہ دعاوی کے ساتھ ۱۵ مئی ۱۹۴۸ء کو اسرائیل کی نظریاتی مملکت قائم کی‘ جس کا منشورابتدا ہی سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اس میں تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اسرائیل کی نظریاتی مملکت نے انتہائی بے رحمتی سے لاکھوں عربوں کو فلسطین سے جلاوطن کیا‘ اُن کی زمینوں پر قبضہ کیا‘ اُن کو بے گھر‘ بے در کیا۔ آج جلاوطن فلسطینیوں کی تعداد چالیس لاکھ سے اوپر ہوچکی ہے۔ اٹھاون سال گزر گئے‘ لیکن انھوں نے اپنی جلاوطنی کو ایک دن کے لیے بھی قبول نہیں کیا اور اپنی سرزمین میں واپس جانے اور اپنی زمینوں کو پھر سے آباد کرنے کے لیے سخت ترین مصائب برداشت کرتے ہوئے‘ نہتے جنگ لڑ رہے ہیں‘ جبکہ دنیا بھر میں بکھرے ہوئے ہر یہودی سے کہا گیا ہے کہ وہ مادر وطن میں آکر آباد ہوجائیں۔ ۱۹۶۷ء میں غزہ اور مغربی کنارے پر قبضے کے بعد اور اب حال ہی میں لبنان پر وحشیانہ بمباری ‘ اسرائیل کا تمام بھیانک ریکارڈ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ نظریاتی مملکت کسے کہتے ہیں‘ اُس کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے‘ اُس کا اخلاقی نظام کیا ہوتا ہے‘ اُس کا چلن‘ عام شعار‘ سیاسی اخلاقی‘ تمدنی کردار‘ شہری آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں کیسا رویہ ہوتا ہے۔

کیوبا اور چین نے تو اب اپنے اپنے محبوب دعاوی سے منہ موڑ لیا ہے‘ لیکن اسرائیل ابھی تک دنیا کے تختے پر انتہائی سخت اور راسخ العقیدہ نظریاتی مملکت کی حیثیت سے موجود ہے۔ کیا پاکستان کو نظریاتی مملکت قرار دینے والے تشہیرباز سوویت یونین اور اسرائیل کے خون آلود نقش پر چلنا چاہیں گے؟ ظاہر ہے کہ کوئی مملکت جو ظالم و جابر ہو اور غیر انسانی راستے پر چل رہی ہو‘ وہ کچھ بھی ہوسکتی ہے ‘ اسلامی ہرگز نہیں ہوسکتی‘ اور نہ آج تک تاریخ میں کوئی ایسی مملکت گزری ہے جس نے خود کو اسلامی کہا ہو اور نازیت ‘ فسطائیت اور روسی آمریت کا سا مظاہرہ کیا ہو۔ اسلامی مملکتیں بھی کثیر قومی رہی ہیں۔ اُن کے معاشروں کے اندر مختلف لسانی‘ تہذیبی‘ نسلی اور ثقافتی مفادات موجود رہے ہیں۔ سب سے پہلے اسلامی مملکت ‘ جس کی بنیاد مدینہ میں خود آنحضورؐ کے ہاتھوں ۲ ہجری میں پڑی تھی‘ وہ بھی کثیر قومی تھی۔ ’’میثاق مدینہ‘‘ پڑھ کر دیکھ لیجیے۔ آپ قرآن مجید پڑھیے۔ زیادہ نہیں صرف دو آیات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ مختلف مذہبی عقائد رکھنے والے لوگوں کے باہمی روابط تعلقات کے بارے میں کثیر قومیت اسلام کا لازمی جزو ہے:

لااکراہ فی الدین’’دین میں جبر و کراہ نہیں۔‘‘

لکم دینکم ولی دین ’’تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔‘‘

آیات قرآنی ہی کی متابعت میں ’’میثاق مدینہ‘‘ ہوا‘ جس کے تین فریق تھے‘ مہاجرین مکہ یعنی قریشی‘ انصار اور یہودی۔ یہ ’’میثاق‘‘ جو آنحضورؐ کی عالیشان قیادت میں ضبط تحریر میں آیا‘ کثیر قومیت کی بہترین مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ اسے ڈاکٹر محمد حمید نے ’’دنیا کا سب سے پہلا تحریری دستور‘‘ قرار دیا ہے۔ ہمارے موجودہ مضمون کے سیاق کی حد تک‘ خاص اور اہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس میں قومی فریم ورک وضع کیا گیا ہے۔’’میثاق مدینہ‘‘ کی دفعہ ۱‘۲ اور ۲۵ تا ۳۵ کو ملا کر پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور یہودیوں کو تمام دنیا کے لوگوں کے بالمقابل ایک ’’امت‘‘ قرار دیاگیا:

دفعہ ۱: یہ ایک حکم نامہ ہے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش اور اہل یثرب میں سے ایمان اور اسلام لانے والوں اور اُن لوگوں کے مابین جو ان کے تابع ہوں اور اُن کے ساتھ شامل ہوجائیں اور اُن کے ہمراہ جنگ میں حصہ لیں۔
دفعہ ۲: تمام دنیا کے بالمقابل اُن کی ایک علیحدہ سیاسی وحدت (امت) ہوگی۔
دفعہ ۲۵: اور بنی عوف کے یہودی‘ مؤمنین کے ساتھ‘ ایک سیاسی وحدت (امت) تسلیم کیے جاتے ہیں۔ یہودیوں کو اُن کا دین اور مسلمانوں کو اُن کا دین۔ موالی ہوں کہ اصل۔ ہاں جو ظلم یا عہد شکنی کا ارتکاب کرے تو اُس کی ذات یا گھرانے کے سوا کوئی مصیبت میں نہیں پڑے گا۔

’’میثاق مدینہ‘‘ فریقین معاہدہ کو مذہبی اور تہذیبی خود مختاری دیتا ہے۔ یہودیوں میں باہم کوئی تنازعہ یا فساد ہو تو اُن پر قانون موسوی کا اطلاق ہوگا۔ مدینہ کے دفاع کی صورت میں یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ کریں گے۔ دفعہ ۴۴ میں لکھا ہے:’’اگر کوئی یثرب پر ٹوٹ پڑے تو اِن (یہودیوں اور مسلمانوں) میں باہم مدد ہی ہوگی۔‘‘ جنگ کے علاوہ صلح کی حالت میں بھی اشتراک عمل رہے گا۔ دفعہ ۴۵ (الف) میں لکھا ہے :’’اور اگر ان کو کسی صلح میں مدعوکیا جائے تو وہ بھی صلح کریں گے اور اس میں شریک رہیں گے اور اگر وہ (یہودی) کسی ایسے ہی امر کے لیے آئیں تو مؤمنین کا بھی فریضہ ہوگا کہ اُن کے ساتھ ایسا ہی کریں‘ بجز اِس کے کوئی دینی جنگ کرے۔‘‘

غرضیکہ’’میثاق مدینہ‘‘ کی رُو سے یہودی قبائل کو وہی حقوق اور وہی مراعات دیے گئے اور اُن پر وہی ذمہ داریاں اور فرائض عائد کیے گئے‘ جو مومنین پر عائد کیے گیے۔ دونوں میں ذرا بھی تفریقی نہیں کی گئی۔ ایک ایسی مملکت جو فی الحقیقت’’ معاہدہ عمرانی‘‘ کی بنیاد پر قائم ہوا اور جس میں آباد مختلف گروہوں اور قوموں کے درمیان کوئی امتیاز نہ برتا جاتا ہو‘ اور جس میں تمام گروہوں اور قوموں کو بے شک ایک سیاسی وحدت(امت) کے اجزاے لاینفک قرار دیا جاتا اور جو بے شک ایک واضح نظریے کے زیر اثر ہو‘ جیسے پاکستان کی صورت میں اسلام کے زیر اثر‘ پھر بھی اُسے فی نفسہٖ نظریاتی مملکت نہیں کہا جاسکتا ۔ بالکل یہی بات قائداعظم نے اپنی گیارہ اگست والی یادگاری تقریر میں کہی تھی۔

جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا گیا‘ ایک مذہبی مملکت (تھیوکریسی) کے تصور کو بانی پاکستان‘ تحریک آزادی کے ممتاز رہنمائوں اور سرکردہ علماء نے‘ جن کے قائد علامہ شبیر احمد عثمانی نے پاکستان کے ابتدائی اور تشکیلی برسوں میں‘ اور بعد ازاں ’’قرارداد مقاصد‘‘ نے مسترد کردیا تھا۔ سب نے پاکستان کی تعمیر و استحکام کے لیے ’’اسلامی جمہوریت‘‘ کو نظریاتی مقصد قرار دیا۔ ا یک ایسی حکومت جس کی سربراہی مذہبی اماموں کے ہاتھ میں ہو‘ جو مقدس اختیارِ کلی کے نفسیاتی ہتھیار سے لیس ہوں‘ ہرگز’’اسلامی جمہوریت‘‘ نہیں بن سکتی‘ بلکہ لازماً ایک نظریاتی مملکت بن جائے گی‘ جس میں عوام پر حکمرانی اُن کی مرضی اور رائے کے مطابق نہیں‘ بلکہ اوپر سے نافذ ہونے والے فتاویٰ و احکام کے ذریعہ ہو گی۔

علامہ اقبال نے اپنے خطبہ الٰہ آباد (۱۹۳۰ء) میں ’’مذہبی حکمرانی‘‘ کو واشگاف لفظوں میں مسترد کردیا تھا۔ انھوں نے اپنے ’’خطبات تشکیل نو‘‘ میں اسلامی ریاست کو ’’معاہدی زندہ چیز‘‘ کے طور پر متصور کیا تھا۔ اُن کے نزدیک ۱۹۰۶ء کے ایرانی آئین کے تحت علما نے دین کی ایک جداگانہ مجلس قائم کرنا‘ جسے نگرانی یا ویٹو کا اختیار ہو‘ ’’خطرناک‘‘ اقدام تھا۔ ایسی مجلس علما قائم کرنے کی بجائے علامہ اقبال ایسی مسلم قانون ساز اسمبلی قائم کرنا چاہتے تھے جو قانون سازی کے امور و معاملات کی نگراں اور ذمہ دار ہو۔ یہی طریقہ قائداعظم نے اختیار کیا تھا اور یہی بات تفصیل سے علامہ شبیر احمد عثمانی نے ’’قرارداد مقاصد‘‘ کی تجویز کی تائید تقریر میں بیان کی تھی۔ گویا ان سب نے مذہبی حکومت کو مسترد کرکے‘ پاکستان کو ایک نظریاتی مملکت بنانے کے خیال کو بھی مسترد کردیا تھا۔

میری اس تحریر سے یہ مطلب نکالنا بالکل غلط بات ہوگی کہ میں نظریے کے خلاف ہوں۔ پہلے بھی کہہ چکا ہوں‘ جیسا کہ قائداعظم نے بھی کہا تھا:’’پاکستان کا مطلب نہ صرف آزادی اور خود مختاری ہے بلکہ مسلم نظریہ (مسلم آئیڈیالوجی) بھی ہے‘ جس کا ہمیں تحفظ کرنا ہے اور ہمیں اُمید ہے کہ دوسرے لوگ بھی اس کام میں شریک ہوں گے۔‘‘ اس قول میں لفظ ’’شریک‘‘ قابل توجہ ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے‘ دوسرے لوگوں کی رضا و رغبت ‘ جبرواکراہ نہیں۔ ہماری مسلم آئیڈیالوجی کو قبول کرنے میں اُن پر کوئی جبر و پابندی نہیں۔ اس طرح قائداعظم نے اکثریت بے لگام حکمرانی کو ہمیشہ کے لیے خارج از امکان قرار دے دیا۔

دوسروں کو بہ رضا و رغبت شریکِ عمل کرنے ہی سے پاکستان ایک واضح نظریہ رکھنے کا مدعی ہونے کے باوجود ایک جمہوری ریاست ہے۔ بلاشبہ اقلیتوں اور غیر مسلموں کو اپنی رضا اور رائے سے انتخاب کی یہ رعایت ’’اسلامی جمہوریت‘‘ کی تعریف کا لازمی جزلاینفک ہے۔ یہی قائداعظم اور تحریک آزادی کے دوسرے رہنمائوں کا خیال تھا۔