بیٹھک ستارے - محمد حسان

لاہور میں جب بارشیں ہوتی ہیں تو ٹی وی چینلز پر رپورٹرز بسا اوقات پانی میں ڈوبے علاقوں کے بارے میں بتاتے ہیں کہ یہ تو ڈبن پورہ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ جی ہاں ڈبن پورہ کوئی فرضی یا خیالی نام نہیں بلکہ حقیقتا لاہور کا ایک slum ایریا ہے۔ نیچے تصویر میں خوبصورت سفید جگ مگ تاروں سے مزین کپڑوں میں ملبوس یہ بچیاں اسی ڈبن پورہ کے بیٹھک اسکول کی طالبات ہیں۔

وسائل سے محروم اس طرح کے علاقوں کے بچوں کو اسکول کی تعلیم دلوانا اور ان کے ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے اتنا بڑا پلیٹ فارم مہیا کرنا کہ جہاں ملک کے ممتاز اور قابل افراد مہمان بن کر آئیں اور بچوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ یہ سب بیٹھک اسکول نیٹ ورک کا ہی کارنامہ ہے۔ یہ سب تصاویر ''بیٹھک ستارے'' کے نام سے سجی محفل کی ہیں جو گذشتہ دنوں لاہور کے مغل اعظم بینکوٹ ہال میں بسائی گئی۔ بیٹھک ستارے، دراصل بیٹھک اسکولز کا الومینائی فنکشن تھا، جس میں پانچ سو سابقہ طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ مہمانوں کی گفتگو میں سے تین اہم اور دلچسپ باتیں ذرا نوٹ کریں۔ سابق وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے بچوں سے کہا کہ بڑا آدمی بننا ہے تو معاف کرنا اور دوسروں کو کچھ دینا سیکھ لیں۔ یہ بہت گہری بات تھی اس لیے یہ بھی کہہ دیا کہ آپ کو اس عمر میں یہ بات جتنی سمجھ آتی ہے سمجھ لیں، ذہن میں نقش رکھیں، بڑی عمر میں یہ زیادہ کام آئے گی اور نتائج دے گی۔

امجد اسلام امجد نے ایک واقعہ سنایا کہ سابق کرکٹ اسٹار ووین رچرڈ کو جب سر کا خطاب ملا تو بی بی سی کے ہاٹ ٹاک پروگرام کے اینکر نے آغاز میں ہی کہہ دیا کہ جنوبی افریقہ کے کالے تو ہمارے ملک میں اکثر جمعدار ہو تے ہیں، اگرآپ کرکٹر نہ ہوتے تو یہاں جمعدار وغیرہ ہی ہوتے۔ ووین رچرڈ نے برا منانے کے بجائے اسے لاجواب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں جمعدار ہوتا تب بھی نمبر ون ہی ہوتا۔ اس طرح انھوں نے بچوں کو ترغیب دی کہ وہ جس شعبے میں بھی ہوں، اس میں آگے نکلنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے اس موقع پر اپنی مشہور نظم بھی سنائی۔
ماں مجھ کو بستہ دے دے
دنیا مجھ کو رستہ دے دے
جانا ہے اسکول مجھے تو جانا ہے اسکول

تیسری دلچسپ بات یہ ہوئی کہ معروف کاروباری شخصیت ابرار احمد نے بچوں میں آگے بڑھنے اور کچھ اہم کر گزرنے پر مختصر سا لیکچر تھا تو اختتام پر کچھ بچوں کو اسٹیج پر بلایا اور ان سے باری باری پوچھا کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں تو زیادہ تر بچوں نے کہا کہ فوج میں جانا چاہتے ہیں، اور باقیوں نے کہا کہ کرکٹر بننا چاہتے ہیں۔ اس پر انہوں نے بے ساختہ کہا کہ یعنی سب ہی حکمران بننا چاہتے ہیں، جس پر ہال میں قہقہ گونج اٹھا۔ ہمارے دوست عمر سلیم نے گرہ لگائی کہ بچوں کا یہ مائنڈ سیٹ دیکھ کر اندازہ ہوا ہے کہ اس وقت آئی ایس پی آر اور پی سی بی کی کارکردگی سب سے بہتر جا رہی ہے۔ دیگر مہمانوں میں لاہور چیمبر آف کامرس کے نائب صدر مہیم الرحمان سہگل نے توجہ دلائی کہ ہر کوئی ڈاکٹر انجینئر بننے کا خواہشمند ہوتا ہے حالانکہ بچوں کو بھی بزنس کا سوچنا چاہیے، اس سے ملک کی اکانومی مضبوط ہوگی۔ ایک اور اہم مہمان بدر خوشنود تھے، جو پاکستان میں گوگل، ٹوئٹر اور فیس بک کے کنسلٹنٹ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے بچوں میں آگے بڑھنے کے حوالے سے سوچ کے نئے زاویے بیان کیے۔ بیٹھک اسکول لاہور کی صدر اسما فیض نے بتایا کہ لاہور میں سترہ برانچز کام کر رہی ہیں۔ لاہور میں بیٹھک اسکول کے کام کی جھلک ایک مختصر ویڈیو کے ذریعے دکھائی گئی جو میری تیار کردہ تھی۔

پروگرام میں یو ایم ٹی بورڈ آف ٹرسٹیز کی ممبر ڈاکٹر نوشابہ حسن جو بیٹھک اسکول کی پائنیر ٹیم کا حصہ ہیں، انھوں نے مہمانوں کو یادگاری شیلڈز دیں۔ یہ خوبصورت محفل عمر سلیم کی موٹیوشنل گفتگو اور قومی ترانے سے اختتام پذیر ہوئی۔ اور ہاں ایک بات تو بھول ہی گیا۔ پرگرام کی کمپیرنگ میں نے کی تھی جسے تمام مہمانوں نے برداشت کیا اور اتنا برداشت کیا کہ آخر تک ایک مہمان بھی اٹھ کر واپس نہیں گیا۔