آپ مولانا کو نظرانداز نہیں کر سکتے - عامر ہزاروی

سیاسی جماعتیں عصبیت کی بنیاد پر قائم رہتی ہیں، انھیں یا کارگردگی زندہ رکھتی ہیں یا ظلم۔ سیاسی جماعتوں کو جب بھی توڑنے کی کوشش کی گئی، وہ پہلے سے سخت جان ہوئیں، ان کے ورکر ان کے ساتھ جم کر کھڑے ہوئے، ان کے مقابل جو آیا اس نے اپنا وزن کم کیا۔

پیپلز پارٹی توڑی گئی۔ نتیجہ کیا نکلا؟ وہ پہلے سے مضبوط ہو کر سامنے آئی۔ نون لیگ کو توڑا گیا، وہ پوری طاقت کے ساتھ گراؤنڈ پر موجود ہے۔ جمعیت کو توڑا گیا، وہ زمین پر باقی ہے۔

مولانا فضل الرحمن صرف مذہبی رہنما ہی نہیں بلکہ وہ ایک ذہین سیاست دان بھی ہیں۔ انھوں نے بھی سیاسی عصبیت قائم کی۔ جس جس نے ان کے مقابل آنے کی کوشش کی وہ ناکام ہوا۔

مولانا سمیع الحق علمی و قلمی لحاظ سے مضبوط آدمی تھے۔ انھوں نے اپنی جماعت بنائی، نتیجہ کیا نکلا؟ طلبہ ان کے مدرسے میں پڑھتے تھے لیکن ووٹ مولانا فضل الرحمن کو دیتے تھے۔ سپاہ صحابہ جمعیت کے بطن سے نکلی، اب وہ سیاست میں بھی سرگرم رہتی ہے لیکن نتیجہ صفر ہے۔ بلوچستان میں جمعیت نظریاتی بنائی گئی، آج وہ بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ عسکری گروہ قائم ہوئے، انھوں نے جمہوریت کی مخالفت کی، لیکن جمعیت موجود رہی۔ وزیرستان و سوات میں طالبان ظہور پذیر ہوئے، کیا مولانا کی طاقت کم ہوئی؟ اب درس قرآن دینے والی اشاعت التوحید والسنہ بھی مولانا کے مقابل ہے، لیکن نتیجہ آپ دیکھ لیں۔ جادوگر داعی مولانا طارق جمیل اپنا وزن عمران خان کے پلڑے میں ڈال چکے ہیں، لیکن ان کا کارکن طارق جمیل صاحب کی بھی سننے کے لیے تیار نہیں۔

لوگ حیران ہیں کہ جو مولانا کے مقابل آتا ہے، کارکن اس کے پیچھے کیوں لگ جاتے ہیں؟
بھائی مولانا زمین پر موجود ہیں، مولانا نے اپنا آپ منوایا ہے، مولانا نے اپنے کارکنوں کو جنگ سے بچایا ہے۔ مولانا یہ بات منوا چکے کہ میں ہوں تو آپ ہیں۔ مولانا نے طاقت گنوائی نہیں بچائی ہے۔ آج دیگر جماعتوں کے کارکن ان کے لیڈروں سے بدظن ہیں لیکن جمعیت کا ورکر مولانا کے ساتھ کھڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا اب کیا کریں گے؟ خورشید ندیم

مولانا کے مقابل طارق جمیل صاحب آئیں گے تو ان کی دعوت پر بھی لوگ کان نہیں دھریں گے، وہ متنازعہ ہو جائیں گے۔ طیب صاحب آئیں گے تو دھکے ہی کھائیں گے، اپنا وقار مجروح کریں گے، پنجاب کی جماعت ان کے خلاف کھڑی ہوگی۔ سپاہ صحابہ مقابل آئی ہے، اس سے گالی بھی دلوائی گئی، لیکن مقابلہ نہیں کروایا جا سکا۔

میری رائے ہے کہ علماء خود کو متنازعہ ہونے سے بچائیں۔ سیاست کی وادی پر خار وادی ہے، یہاں کانٹے ہیں۔ یہ میخانہ ہے، یہاں پگڑی اچھلتی ہے۔ سیاست مدرسہ کی چاردیواری کا نام نہیں، سیاست خانقاہ میں خطاب کا نام بھی نہیں، سیاست میں لوگ یا حامی ہوتے ہیں یا مخالف، تیسری راہ نہیں۔

مولانا کا جو مخالف ہے وہ مخالف ہے، جو حامی ہے وہ حامی ہے، وہ مزید نہ محبت والے پیدا کر سکتے ہیں اور نہ نفرت والے، البتہ ان کے مقابل آنے والی شخصیات محبت میں کمی اور نفرت میں اضافہ کر سکتی ہیں، مولانا کا کچھ نہیں بگڑنے والا!

مولانا ایک حقیقت ہیں، طاقت والوں کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے۔ بات چیت مولانا سے ہی ممکن ہے، اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ مولانا کے مقابل بڑے نام لا کر ان کا وزن کم کیا جا سکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔

اگر آج قبر سے مفتی محمود اٹھ کر آ جائیں اور وہ کہیں مولانا فضل الرحمن کا ساتھ نہ دیں تو ان کے کارکن ان کی بھی نہیں سنیں۔ یہ دور مولانا فضل الرحمن کا ہے، کسی اور سیاسی و مذہبی عالم کا نہیں۔