خیبر حکومت کاپردہ نوٹی فیکیشن، پلیز ہوم ورک کر لیا کریں - صائمہ اسما

خیبر پختونخوا میں جاری ہونے والے ایک حکومتی نوٹیفیکیشن پر خوب غُل مچا۔ ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل جو اپنے خاص ایجنڈے کی شہرت رکھتا ہے، اس کی مخالفت میں ایسا پیش پیش رہاکہ لگا کہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جسے فوری حل نہ کیا گیا تو ہم تباہ و برباد ہو جائیں گے۔ یہ نوٹیفیکیشن سکول کالج کی بچیوں کے لیے مناسب پردے کا اہتمام کر کے نکلنے کی ہدایت پر مبنی تھا۔ پہلے تو خوب مخالفت ہوئی، پھر علمائے کرام اور دانشوروں، صحافیوں سمیت کثیر تعداد میں لوگوں نے یہ ہدایت اگلے ہی دن واپس لینے کے اقدام کی مذمت بھی کی۔ مگر مدعی سست گواہ چست والا معاملہ تھا۔ لگتا ہےکہ یہ نوٹیفیکیشن بغیر تیاری اورصوبائی حکومت کی موافقت حاصل کیے جاری کردیا گیا۔ جب میڈیا پر سوالات ہوئے تو مشیر صاحب ایک بھی سوال کا شافی جواب نہ دے سکے۔ نتیجہ یہ کہ جو حکم نامہ فوری اور اہم کہہ کر جاری کیا گیا تھا، وہ غیر ضروری کہہ کر واپس لے لیا گیا۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نظام کفر کو بہترین وکیل میسر ہیں اور اللہ کے دین کا مقدمہ لڑنے والے الاماشاءاللہ، انتہائی سادہ، جذباتی اور حالات کا ادراک نہ رکھنے والے لوگ ہیں۔ سیرت النبیؐ کا سبق یہ ہے کہ بہترین اور درست اقدام کے لیے بھی درست وقت کا انتظار سالہا سال کرنا پڑتا ہے اور پھر اس انداز میں اقدام کیا جاتا ہے کہ اس کو وسیع پیمانے پر عوامی حمایت ملنے کا روشن امکان ہو۔ جلد بازی اور جذباتیت میں دین کو نافذ کرنے کی نیکی کر گزرنا دراصل نفاذِ دین کے کاز کو نقصان پہنچانا ہے۔ نبیؐ کی موجودگی میں بھی شریعت کے بیشتر احکام کے نفاذ کے لیے لوگوں کے تیار ہو جانے اور ان کے دلوں میں ایمان اتر جانے کا انتظار کیا گیا تاکہ جب حکم آئے تو اس بیج کے لیے مٹی نرم ہو چکی ہو۔ یہ سب سٹرے ٹیجیز قرآن نے آخر ہمیں کس لیے سکھائی ہیں؟ اس پر ہم نہیں سوچتے۔

اس نوٹی فیکیشن کے لیے ایسے صوبے کا انتخاب کیا گیا جس میں پردہ مقامی کلچر کی بےحد مضبوط شناخت ہے اور اس بنا پر وہاں ننانوے فیصد سے بھی زیادہ خواتین پردے کو کسی نہ کسی شکل میں پہلے ہی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایسی جگہ پر اسے قانون بنانا حکومتی ترجیحات میں کیوں شامل ہوا؟ یہ سوچنے کی بات ہے۔ اگرچہ نوٹی فیکیشن میں خواتین سے چھیڑ چھاڑ کے واقعات بڑھنے کو اس کی وجہ بتایا گیا، لیکن اگر ایسی بات تھی تو مضبوط اعداد و شمار کے ساتھ اس کا جواز مہیا کیا جاتا، اور پھر ڈٹ کر اس حکم کو نبھایا جاتا۔ یہ امکان بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ ایسے عناصر بھی ہر جگہ اپنا کام کر رہے ہیں جو اس قسم کے حکم نامے جاری کرواتے ہیں تاکہ دفاع نہ کر سکنے کے باعث انتظامیہ فوراً واپس لینے پر مجبور ہو جائے اور کاز کو نقصان پہنچے۔ اسی قسم کا ایک واقعہ یو ای ٹی لاہور میں بھی ہوا جب کیفے ٹیریا میں طالبات کے لیے علیحدہ جگہ مختص کرنے کا حکم جاری کر کے اگلے دن واپس لے لیا گیا۔ ایسے بیوقوفانہ انداز میں کیے گئے ہاف ککڈ اقدامات جن کا دین سے تعلق جوڑا جا سکتا ہو، ان کی وجہ سے آئندہ دینی معاملات میں کوئی بھی حکم جاری کرنے کا راستہ مشکل تر ہوتا جائے گا اور سیکیولر نقطہ نظر حاوی ہوگا۔ ماضی قریب کے حالات کی وجہ سے ہمارے ہاں طالبانائزیشن کا بیانیہ اتنا طاقت پکڑ گیا ہے کہ اچھے بھلے سمجھدار لوگ بھی ایسے اقدامات کی مخالفت پر اتر آتے ہیں۔ بلکہ معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اصل طریقہ یہ تھا کہ تمام اعداد و شمار اکٹھے کر کے صوبائی اسمبلی میں پیش کیے جاتے اور ایوان میں بحث کے بعد حکومتی ارکان کی حمایت اور مکمل پشت پناہی سے یہ حکم نامہ لایا جاتا، تاکہ ہر حکومتی رکن اس کا دفاع کرتا، اور عوام ساتھ ہوتے۔ پارلیمانی جمہوریت کا یہی انداز ہے جس کی بنا پر علماء کی اکثریت متفق ہے کہ اس کے ذریعے سے آج کے دور میں اسلام حکومت کا نظام بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لڑکیاں بھی انسان ہوتی ہیں - عمارہ خان

چھیڑ چھاڑ اور ہراسیت کے واقعات پر قانون سازی بھی ایک نازک امر ہے۔ اول تو ہمارے ارباب اختیار کو ان تمام بحثوں اور پہلوؤں سے پوری طرح آگاہ ہونا چاہیے جو دنیا بھر میں اس مسئلے پر ہو رہی ہیں تاکہ جدید علمی اور فیمنسٹ تناظر کو سامنے رکھ کر پوری شرح صدر سے ایک قانون بنایا جائے۔ دوسرے، اسلام اس مسئلے کو کس طرح دیکھتا ہے، اس کی بھی سمجھ ضروری ہے۔ اسلام صرف خواتین کے ڈریس کوڈ پر زور نہیں دیتا، بلکہ مردوں کو بھی نگاہیں جھکانے کے واضح احکامات دیتا ہے، اور ان دونوں احکامات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں جوڑا گیا۔ کیا وجہ ہے کہ مردوں کے لیے دینی احکامات کو تو ہم محض اخلاقی تربیت کے درجے پہ رکھیں (بھلے وہ بھی نہ ہو رہی ہو!) اور خواتین کے ڈریس کوڈ کو قانونی حیثیت دے دیں؟ ایسا کیوں نہ ہو کہ شرافت سے باحجاب لباس میں ملبوس لڑکیاں (جیسی اس صوبے کی ہیں) سکول کالج جا رہی ہوں اور انہیں چھیڑنے والے آوارہ لڑکوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے؟ عموماً ہمارے ہاں یہ سوچ ہے کہ اگر لڑکے نے چھیڑا تو لڑکی یا بچی کو قصور وار سمجھا جاتا ہے، یا اسے گھر میں محصور کر دیا جاتا ہے۔ کیا یہ روش اسلام کے مطابق ہے؟ ایک تنہا عورت کے صنعا سے حضرموت تک سونا اچھالتے ہوئے جانے اور خدا کے سوا کسی کا خوف نہ ہونے کی حدیث کیا کسی یوٹوپیا کا منظر ہے؟ مدینہ میں حضرت عمرؓ کے دور میں لونڈیوں کو حجاب کرنا منع تھا، تاکہ وہ خاندانی عورتوں سے فرق پہچانی جائیں۔ کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے دور میں کوئی مرد ان سے چھیڑ چھاڑ کو جائز سمجھ لیتا ہو؟ کیا نعوذ باللہ اسلام بے پردہ عورت کو تنگ کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ اگر نہیں تو کم از کم باحیا اور مناسب مستور بچیوں کو تنگ کرنے پر سزا کیوں نہیں نافذ ہونی چاہیے؟

یہ بھی پڑھیں:   حجاب.....عورت کا آہنی حصار.!! ثمینہ اقبال

تیسرا پہلو ریاست کی ذمہ داری سے متعلق ہے۔ آپ چوری سے بچنے کے لیے اپنے گھر کی کنڈی تو لگاتے ہیں، مگر ساتھ ہی کالونی میں سیکیورٹی گارڈ بھی رکھتے ہیں۔ مگراس حکم کا مطلب یہ ہے کہ ریاست چوروں کو تو کھلا چھوڑ رہی ہے، آپ کو حفاظت چاہیے تو اپنے گھر کی کنڈی لگا لیں۔ کیا بچیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ آوارہ اور اوباش لڑکوں کو ریاست سے سزا ملنے کا خوف ہو؟ کیا ہماری بچیوں کا حق نہیں کہ انہیں گھر سے باہر چھیڑا نہ جائے اور ہراساں کیا نہ جائے؟ کیا بیٹیوں کو اس طرح پالنا واحد حل ہے کہ ان کے لیے صنف نازک ہونا ایک جرم بنا دیا جائے؟ صوبائی حکومت یہ نوٹی فیکیشن لانے سے پہلے ان تمام باتوں پر غور کر لیتی اور ایسا جامع قانون لاتی جو ان تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا۔

ریاست کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ کسی بچی یا بچے کی بےحرمتی کرنے والے مجرم کو سرِ عام سزا دی جائے تاکہ عبرت ہو۔ پھر تشہیر جرم کی نہیں سزا کی ہوگی۔ یہ اسلام کی مالا جپنے کا بھی لازمی تقاضا ہے اور جدید ریاست کہلانے کے لیے بھی ضروری ہے۔ قصور جیسے واقعات پر فوری اور سرعام سزائیں دی جاتیں تو مزید جرائم بند ہو جاتے۔ خدا کے لیے اسلام کی جزوی تعبیر کر کے مسائل کے ادھورے اور مضحکہ خیز حل نہ نکالا کریں۔

(صائمہ اسما ماہنامہ بتول کی مدیرہ ہیں)