گلے کا ہار نہیں، گردن کا طوق - سعود عثمانی

بے خوف سوچ ، اپنے آپ پر اعتماد ، اپنے مقصد سے غیر متزلزل وابستگی اور قوت اظہار ، 27 ستمبر کو اقوام متحدہ میں عمران خان نے ان چار چیزوں کویک جا دیکھنے کے لیے ترسے ہوئے لوگوں کو سیراب کردیا ۔جیسے خشک اور تشنہ مٹی پراچانک بارش ہوجائے۔

ویسے تو کہنے میں بہت آسان ہے۔ چار چیزوں کو جمع ہی تو کرنا ہے۔ محض چار چیزوں کو۔ لیکن یہ چار چیزیں یک جا دیکھنے کا انتظار کرتے کرتے جوان بوڑھے ہوکر قبروں میں جا سوئے۔ نو عمروں کی کمریں خمیدہ ہوگئیں ۔ بچوں کے بالوں میں چاندی اتر آئی۔ بہتر سال گزر گئے۔ یہ چار عناصر جمع نہ ہوئے۔ ہر آنے والے میں یا تو بس رمق سی ہوتی تھی یا اس رمق سے بھی خالی ۔ لوگ کرسیوں پر بیٹھتے رہے ۔ روحِ شرق بدن کی تلاش میں چار سو بھٹکتی رہی ۔ نمود کے انتظار میں آنکھیں بجھ گئیں۔یہ چار تو کیا صرف ایک چیز کو دیکھنے کے لیے نسلیں ترس گئیں۔ بے خوف اور اپنی سوچ۔ لگتا تھا کہ یہی سب سے مشکل چیز ہے ۔ جو آیا یہی دیکھا کہ سوچ بھی مانگے تانگے کی لفظ بھی مستعار اور اس پر بھی خوف اور ڈر نے جگہ جگہ ناکے لگا کر روکا ہوا۔ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے بعد عشرے خالی گزر گئے۔ بھٹو صاحب کی سلامتی کونسل میں تقاریر ، ضیا الحق کی کیسا بلانکا اور رباط کی تقاریر پر بھی بات کرنی ہے لیکن پھر کبھی سہی۔ اور اب اس کے بعد 27 ستمبر آیا ہے ۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کی 27 ستمبر کی تقریر تا دیر یاد رہنے والا خطاب ہے۔ مقرر کی باڈی لینگویج ، طریقہ اظہار کو ایک طرف رکھ دیا جائے جو نہیں رکھا جاسکتا ، تب بھی تقریر کے متن میں ایسے غیر معمولی نکات تھے جن کی جرأت ہمارے مرعوب رہنماؤں اور حکم رانوں کو کبھی نہیں ہوئی تھی۔

کھل کر خود کو مسلمان کہنے اور ڈٹ کر اسلام کا دفاع کرنے کی ہمت کس میں تھی ۔ سب معذرت خواہانہ انداز ، اور مروعوبانہ ذہنیت لیے مائیک پر آتے تھے اور اتر جاتے تھے ۔ موجودہ دور میں طیب اردوان نے یہ جرأت دکھائی ہے ۔ ترک دبنگ اور جرأت مند قوم ہے اور اس نے طویل مدت تک امت مسلمہ کی رہنمائی اور ترجمانی بھی کی ہے اور اب بھی اس قوم کے شرر سے بڑا شعلہ نمودار ہونے کی پوری امید ہے ۔ اگرچہ عالم اسلام ہمیشہ رہنمائی کے لیے عالم عرب کی طرف دیکھتا رہا ہے لیکن شاہ فیصل مرحوم کے بعد کوئی شخص دور دور تک ایسا نظر نہیں آیا جس میں مالی مفاد، ذاتی لالچ، اور وقتی منفعت جیسی سطحی چیزوںسے اوپر اٹھ کر بات کرنے کی امید بھی موجود ہو ۔ اور عرب کیا اور ایران کیا۔ سعود عثمانی نے یہی تو استغاثہ پیش کیا تھا اپنے نبی کے حضور:

یہ بھی پڑھیں:   کیا کہنے - زرین تارڑ

دل بدلتے نہیں ، دن بدلتے نہیں ، چند قوموں کے ڈر سے نکلتے نہیں

کچھ نہیں، سب کے سب ، کیا عجم کیا عرب، ہیں جو گنتی میں بے انتہا یا نبی!

زرد سے سرخ تک، شرق سے غرب تک، ہم فقط اک گماں، ہم فقط ایک شک

ملک در ملک غم، کتنی بھگتیں گے ہم، اپنے اعمال کی یہ سزا یا نبی!

تقریری نکات میں منی لانڈرنگ میں غریب ممالک سے امیر ممالک کی طرف دولت کی منتقلی اور امیر ملکوں کی طرف سے اس کی مجرمانہ چشم پوشی بلکہ اس کا تحفظ ایسا نکتہ ہے جو شایدکسی بھی بین الاقوامی فورم پر اس سے قبل نہیں اٹھایا گیا۔

سرمایہ دار ممالک دیکھ سکیں تو یہ آئینہ ہے جو ان کے اصل خد وخال دکھاتا ہے ۔ اسی طرح اسلاموفوبیا کے حوالے سے نیویارک میں بہت سے فورمز پر عمران خان نے ڈٹ کر اور جم کر بات کی اور اس میں جذباتی اور منطقی دونوں حوالوں سے مدلل گفتگو کی ۔ تامل ٹائیگرز کے خود کش حملوں کا حوالہ جو مذہب کے حوالے سے ہندو تھے ، شاید اس طرح دنیا کے سامنے یا تو آیا نہیں ،یا دنیا اسے بھول چکی تھی حالانکہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی ایسے ہی ایک تامل خود کش حملے میں مارے گئے تھے ۔ اور وہ وقت بھی یاد ہونا چاہیے جب سری لنکا کے دورے میں ائیر پورٹ پر گارڈ آف آنر کے معائنے کے دوران ایک تامل فوجی نے بندوق کے کندے سے راجیو گاندھی پر حملہ کیا تھا۔ اگرچہ اس میں حیرت کی بات نہیں ہونی چاہیے لیکن مسلمان معذرت خواہانہ سربراہ ذہنیت دیکھتے ہوئے حیرت کی بات لگتی ہے کہ اسی ذیل میں عمران نے حجاب کا بھی ذکر کیا ۔ ایک عورت مغربی ممالک اور مغربی ذہن کے مطابق کپڑے اتار تو سکتی ہے لیکن اضافی کپڑے پہن نہیں سکتی ۔ یہ ان کے نزدیک ایک ہتھیار ہے ۔ لیکن تقریر کا سب سے مؤثر حصہ آخری تھا جو ہندوستان اور کشمیر سے متعلق تھا۔ آر ایس ایس کے بنیادی نظریے ،مودی کی اس سے ہمیشہ کی وابستگی، ہندوستان میں اس ذہنیت کا غالب آجانا اور اپنے ایجنڈے پر عمل شروع کردینا۔

مسلمانوں کی نسل کشی اور ان کی بے بسی ۔2002 کے گجرات فسادات اور مودی کا اس میں مجرمانہ کردار۔ مودی کا داخلہ امریکہ میں ممنوع ہونا ۔یہ سب وہ باتیں تھیں جن کی جرأت اور پاکستان کی طرف سے ان کا اتنے بڑے پلیٹ فارم پر ذکر اب ناقابل تصور ہوچکا تھا۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ عمران خان ہندوستان کے اٹھارہ کروڑ مسلمانوں کے ساتھ کھڑا ہوا اور ان کے دکھ اور بے بسی کو علی الاعلان بیان کیا ۔ہم جو دو قومی نظریے کی بنیاد پر الگ ملک میں بیٹھے ہیں عرصہئ دراز سے اس طرف سے آنکھ بند کرچکے تھے۔عمران نے مودی کو مخاطب کرکے کہا کہ تمہارا کیا خیال ہے ۔ یہ مسلمان سب کچھ نہیں دیکھ رہے جو تم کر رہے ہو۔کیا تم انہیں انتہا پسندی کی طرف نہیں دھکیل رہے۔ کیا یہ ہاتھ تنگ آمد بجنگ آمدکی صورت حال میں بندوق نہیں اٹھا لیں گے۔یہ نکتہ بہت اہم تھا اور میرے خیال میں ہندوستان کے مسلمانوں کے دلوں کی آواز بھی۔ مجھے یقین ہے کہ عمران کی آواز نے ہندوستان کے موجودہ حالات میں ان میں سے اکثر کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی ہوگی ۔ کشمیر آخری نکتہ تھا۔ بات یہی ختم ہوئی اور یہیں ختم ہونی بھی چاہیے تھی۔ لیکن ختم ہونے سے پہلے ذہنوں میں ایک گونج چھوڑ گئی ۔ نو لاکھ فوج ،اسی لاکھ محصور بے بس باشندے، 55 دن سے متواتر ان کی اسیری ، 13ہزار گرفتار بچے اور نوجوان، کرفیو اٹھنے کے بعد کا ممکنہ منظر نامہ اور سڑکوں پر خون کا چھڑکاؤ ۔

یہ بھی پڑھیں:   نمود برگ و ثمر سے پہلے - صالحہ جنت

کس مؤثر طریقے سے مقرر نے یہ سب باتیں دم بخود حاضرین تک پہنچائیں، لگتا تھا کہ باتیں دل سے نکل رہی ہیں اور دلوں تک پہنچ رہی ہیں اور بات دل سے نکلی ہو تو دل تک پہنچ کے رہتی ہے۔
اور کس طریقے اور سلیقے سے یہ بات دنیا کے کانوں تک پہنچا دی کہ ہم رقبے، آبادی اور وسائل کے اعتبار سے ہندوستان سے سات گنا چھوٹے ہیں لیکن ہماری آزادی پر بات بن آئے گی تو ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے آخری سانس تک لڑیں گے۔ ہم نے دیکھا کہ اس عزم پر تا دیر تالیاں ہال میں گونجتی رہیں۔ ٹیپ کا بند یہ تھا کہ جوہری طاقت جب لڑنے اور مرنے کا عزم کرلے تو تباہی سرحدوں تک محدود نہیں رہ سکتی ۔ تقریروں سے عام طور پر معاملات حل نہیں ہوا کرتے لیکن تقریر دل سے ہو اور سچ پر مبنی ہو تو نجاشی کے دربار میں جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی تقریر بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
میڈیا اور بازی گروں کے بیانات سے قطع نظر ہندوستان میں ایک بھیانک سناٹا چھا چکا ہے ۔ بی جے پی نے جو معاملہ بہت سہل سمجھا تھا ، وہ گلے پڑ چکا ہے۔ ابتدا میں جب یہ بات کی گئی تھی کہ سفارتی محاذ پر پاکستان ہر جگہ آواز بلند کرے گا اور خاموش نہیں بیٹھے گا تو اسے بھارت اور دنیا میں کیا ، خود پاکستان میں ہنسی مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں دی گئی تھی۔ لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ کشمیر مودی کے گلے کا ہار نہیں ،گردن کا طوق بننے والا ہے ۔

Comments

سعود عثمانی

سعود عثمانی

سعود عثمانی منفرد اسلوب اور جداگانہ لہجے کے حامل شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ 10 متفرق تصانیف و تراجم اور تین شعری مجموعے قوس (وزیراعظم ادبی ایوارڈ)، بارش (احمد ندیم قاسمی ایوارڈ) اور جل پری، شائع ہر کر قبولیت عامہ حاصل کر چکے ہیں۔۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.