عمران خان کا خطاب، وابستہ توقعات اور میری رائے - منیم اقبال

محترم خان صاحب کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں سالانہ اجلاس سے کی گئی تقریر سنی۔ 50 منٹ کی یہ تقریر غالبا جنرل اسمبلی کے اس سیشن کی طویل ترین تقریر تھی۔ اتفاق ہی سمجھ لیں کہ اس سے قبل میں مہاتیر محمد اور طیب اردگان کی تقاریر سن چکا تھا۔ ان دونوں احباب کی تقاریر میں جو سب سے اہم پوائنٹ جو مجھے لگا وہ یو این سیکورٹی کونسل کے مستقل 5 ارکان اور انکو حاصل ویٹو پاور پر ان کی شدید تنقید تھی۔ اقوام عالم کے نمائندہ اس فورم میں P5 کی بدمعاشی اور مناپلی پر ان دونوں نے خوب تنقید کی اور ان ممالک اور اقوام متحدہ کے "دہرے معیارات" کو نشانے پر رکھا۔ اسلاموفوبیا، فلسطین، کشمیر اور روہنگیا کا ذکر ان دونوں نے کیا، جس سے امہ کا ایک تاثر پیدا ہوا۔ دونوں نے اپنے اپنے ممالک کے مخصوص مسائل مثلا شامی مہاجرین اور تجارتی مسائل کا تذکرہ بھی کیا۔

خیر اس تمہید کا مقصد یہ تھا کہ خان صاحب کو سنتے ہوئے میرے ذہن میں یو این اسمبلی میں تقاریر کے حوالے سے اور پاکستانی وزیراعظم سے وابستہ امیدوں کے حوالہ سے ایک " معیار " قائم ہو چکا تھا۔ خان صاحب کی تقریر میں جو حصہ سب سے زیادہ متاثر کن تھا، وہ ناموس رسالت ﷺ اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے تھا۔بڑے شاندار طریقے سے اس پر اپنی بات رکھی اور اپنا مدعا بالکل واضح رکھا۔ ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے تقریبا روایتی باتیں اور منی لانڈرنگ کے موضوع میں ہدف پاکستانی اپوزیشن رہی۔

جس بات پر سب سے زیادہ داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جا رہے تھے، وہ ان کی تقریر کا کشمیر کے حوالے سے حصہ تھا۔ خان صاحب یو این اسمبلی جانے سے پہلے آزادکشمیر میں کھڑے ہو کر یہ کہہ کر گئے تھے کہ 27 تاریخ سے پہلے کوئی ایل او سی کراس نہ کرے، اگر دنیا نے میری بات نہ سنی تو ( پھر کوئی عملی قدم اٹھائیں گے)۔ یو این ہیومن رائٹس کمیشن میں کشمیر کے حوالے سے قرارداد لانے پر مختلف ممالک کی سردمہری اور اس کےبعد مختلف سائیڈ لائن ملاقاتوں اور پریس کانفرنسز میں بھی خان صاحب دنیا کے رویے سے شاکی نظر آئے۔ جنرل اسمبلی اجلاس میں بھی انہوں نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ دنیا اس مسئلہ پر اس لیے توجہ نہیں دے رہی کہ یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ثاقب نثار اور PTI حکومت کا مشترکہ ظلم - انصار عباسی

اس پس منظر میں میں یہ سمجھ رہا تھا کہ ایک نہایت بولڈ اور ایگریسیو سٹیپ لینے کا اعلان کیا جائے گا، کہ میں لوگوں کو انتظار میں بٹھا کر آیا ہوں۔ ایسا کر دو وگرنہ میں ویسا کروں گا۔ مگر خان صاحب ایسا کوئی قابل عمل لائحہ عمل نہ بیان کر سکے۔

خان صاحب نے مودی اور آر ایس ایس کے ایجنڈے کو خوبصورتی سے بے نقاب کیا اور کشمیریوں کی عسکری جدوجہد کو بھی اچھے انداز سے جسٹی فائی کیا۔ اقوام عالم کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلانے، ان کے دہرے معیارات پر گرفت کرنے کے حوالے سے خان صاحب کامیاب رہے۔ مگر اقوام عالم کی بےحسی کے علاج کے لیے کسی لائحہ عمل کا اعلان نہ کر سکے۔ خان صاحب کے جن جملوں کو سب سے زیادہ پذیرائی ملی، ان کا مفہوم میری دانست میں یہ بن رہا ہے۔ "مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہے، کرفیو اٹھنے کے بعد عوامی ردعمل آئے گا، ہو سکتا ہے پلوامہ جیسا کوئی واقعہ رونما ہو، انڈیا ہم پر الزام لگائے گا، ہو سکتا ہے ہم پر حملہ کر دے، اگر ہم پر حملہ کیا تو ہمارے پاس دو آپشن ہوں گے، ایک سرینڈر ، دوسرا لڑنا، ہم لڑیں گے اور یہ جنگ ایک جوہری جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔"

میرے خیال میں یہ وہی "بزدلانہ بیانیہ" ہے جو پاکستان گزشتہ پچاس دنوں سے دہراتا آیا ہے کہ "اگر آزاد کشمیر پر حملہ ہوتا ہے تو ہم بھرپور جواب دیں گے۔"
میری سمجھ میں یہ معذرت خواہانہ انداز ہے کہ انڈیا مقبوضہ کشمیر کو وفاق میں ضم کر چکا، انسانیت سوز کرفیو جاری ہے اور آپ کسی عملی اقدام کے لیے خود پر حملے کے منتظر ہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے اسی تناظر میں پارلیمانی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "آپ لوگوں نے کیا آزاد کشمیر آزاد کشمیر لگا رکھی ہے، کیا مقبوضہ کشمیر کے لوگ مرتے رہیں، کیا آپ آخری کشمیری کے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں؟"

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر! اگلا لائحہ عمل کیا ہے؟ علی حسنین نقوی

اگرچہ " کرفیو" کے اٹھانے کی بات کی گئی مگر مقبوضہ کشمیر کے موجودہ سٹیٹس اور حالات میں تبدیلی نہ کیے جانے کی صورت میں جس عملی قدم کے اعلان کا میں منتظر تھا، وہ نہ سن سکا۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے آزدکشمیر کے باشندوں کو یو این اسمبلی تقریر کا لارا لگا کر جانے والے خان صاحب کے پاس وہ کون سا پوائنٹ ہے جسے بتا کر وہ ان لوگوں کے سامنے سرخرو ہو سکتے ہیں؟ خان صاحب نے فرمایا کہ "اگر میں ہوتا اور میری خواتین کی عصمت دری کی جاتی تو کیا میں خاموش رہتا ، کیا ذلت کی زندگی گزارتا ؟ میں بھی ہتھیار اٹھاتا۔"

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خان صاحب مقبوضہ کشمیر کی خواتین کو اپنا نہیں مانتے؟ اور اگر مانتے ہیں تو کیا ذلت کی زندگی گزار رہے ہیں؟
میرا اپنا تو خیال یہی ہے کہ ہم سب اپنی خواتین کو بے آبرو ہوتا دیکھ کر صرف تقاریر پر اکتفا کرکے اگرمطمئن ہیں، تو یہ ذلت کی زندگی ہی ہے ۔

نوٹ : یہ تبصرہ صرف تقریر پر ہے، خان صاحب کے گفتار و عمل میں تضاد پر لوگ بات کرتے ہیں۔ اور ان کے مشہور قول ' یوٹرن ایک عظیم لیڈر کی نشانی ہے ' کو لے کر بھی کچھ لوگ بات کرتے ہیں۔ مگر میں نے صرف گفتار کو ہی موضوع بنایا ہے، لہذا یہاں ان کے عمل سے کوئی بحث نہیں ہے۔