انصاف کا, ایک تلخ حقیقت - امیر حمزہ

یہ بات سراسر غلط ہے کہ پاکستانیوں میں اتحاد و اتفاق کی کمی ہے، کیونکہ ہم اپنے مجرموں کے ساتھ ہر خطا اور ہر جرم میں شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں اور ہمیشہ کھڑے رہیں گے. مجرمان و عوام عدل اور انصاف کے خلاف ایک ہی پیج پر ہیں. ہمیں اپنے خطاکاروں پر فخر ہے، اور یہ سب چور، قاتل، شدت پسند، بدعنوان، رشوت خور ہمارے آنکھ کے تارے ہیں. کوئی بھی انھیں میلی آنکھ سے دیکھے تو گھر، دوست، خاندان، قوم و قبیلے کی عزت و غیرت جاگ جاتی ہے، اور ایسی انکھ کی بصارت ہی چھین لی جاتی ہے، چاہے وہ آنکھ انصاف و قانون کی ہی کیوں نہ ہو.

ہم کسی غریب کے ساتھ ایک میز پر کھانا کھانے کے لیے تو تیار نہیں، لیکن جان پہچان والے قاتل کو دعوت پر مدعو کر کے بڑی گرمجوشی کے ساتھ کھانا نوش کر لیتے ہیں. ہم کسی یتیم و مسکین کو پناہ دینے کے لیے تیار نہیں، مگر مفرور مجرمان کے لیے بخوشی گھر اور بیٹھک کے دروازے کھول دیتے ہیں. ہم کسی کے حق میں سچی گواہی دینے کے لیے تیار نہیں لیکن کسی رشتہ دار کے حق میں جھوٹی گواہی دینے پر فخر محسوس کرتے ہیں. ہم خاندانی غیرت کے نام پر اپنی بہن کا قتل کرتے ہیں، جبکہ کسی اور کی عزت لوٹنے والے بھائی کو خاندان کی عزت سمجھ کر بچانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں. ہمیں کرپشن سے سخت نفرت ہے مگر جب بھی موقع ملتا ہے تو اپنے عزیز و اقارب کے لیے خوب کرپشن کرتے ہیں. ہم ایک طرف انصاف کے لیے گلا پھاڑ کر چیختے ہیں تو دوسری طرف اپنے دوست و احباب کو بچانے کے لیے انصاف کا گلا گھونٹ دیتے ہیں.

یہاں امریکی ریاست کیلیفورنیا کا ایک واقعہ یاد آگیا جہاں ایک نوجوان تلخ کلامی پر ایک شخص کو رات کی تاریکی میں قتل کر کے فرار ہوگیا تھا. پولیس نے مطلوبہ مشتبہ ملزمان کی تصاویر جب اخبار میں دیں، تو نوجوان کے بھائی و باپ خود پولیس سٹیشن گئے، اور اس کے بارے میں تمام معلومات پولیس کو فراہم کر دی. انھوں نے انصاف کے تقاضے کو دیکھتے ہوئے کیس پولیس اور عدالت پر چھوڑ دیا. نہ بھائی نے جھوٹی گواہی دی اور نہ کسی دوست نے جعلی ثبوت کے ذریعے بچانے کی کوشش کی. نہ پولیس پر دباؤ ڈالا گیا، نہ جج کو خریدنے کی کوشش کی گئی، اور نہ تعلقات کے ذریعے کیس کو کمزور کرنے کی کوشش کی. نوجوان پر جرم ثابت ہونے کے بعد عدالت نے سزا سنائی اور اسے جیل بھیج دیا. جیل میں سزا کے ساتھ اس کی تعلیم اور ذہنی تربیت کی جائے گی تاکہ وہ دوبارہ اس طرح کے جرم کا سوچھے بھی نہ. اور یوں معاشرہ ایک مجرم سے محفوظ ہوگیا.

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان کا اردو تفسیری ادب - محمد عرفان ندیم

اگر یہ کیس پاکستان کے کسی علاقے میں ہوتا تو سب سے پہلے تو گھر والے مجرم کو قبائلی علاقے یا پہاڑوں کی طرف فرار کرا دیتے. پھر مقتول کے ورثا پر دباؤ ڈالا جاتا کہ وہ کیس واپس لے لیں. محکمہ پولیس میں رشتہ داروں اور جان پہچان والوں کے ذریعے کیس کو کمزور کروایا جاتا اور تعلقات استعمال کر کے جج کو خرید لیا جاتا. گھر والے عدالت میں گواہی دیتے کہ ہمارا بیٹا تو انتہائی نیک و پرہیزگار انسان ہے، جبکہ دوست بیان دیتے کہ ملزم تو جرم کی رات ہمارے پاس رکا ہوا تھا، وہ تو گھر سے نکلا ہی نہیں رات بھر. عدالتی کارروائی کے ساتھ ساتھ مقامی جرگہ بلایا جاتا تاکہ دونوں خاندانوں کے مابین قتل کا سودا کیا جا سکے. اور یوں ایک قاتل کو پولیس، عدالت و قانون کے چنگل سے آزاد کروا کر معاشرہ کا ایک باعزت فرد بنا دیا جاتا ہے، تاکہ وہ اپنی آزادی کا استعمال کر کے دوبارہ کسی معصوم کا قتل کر سکے. دوست احباب بھی ایسے قاتل کو بری نظر سے نہیں دیکھتے، بلکہ فخر کرتے ہیں کہ ہمارہ دلیر شہزادہ آزاد گھوم رہا ہے. یوں ایک طرف انصاف کا قتل ہوتا ہے تو دوسری طرف معاشرے میں مزید جرائم کے لیے راہ ہموار کردی جاتی ہے. ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں معاشرے میں سب کے لیے مساوی انصاف چاہیے یا عدل سے فارغ معاشرہ چاہیے.