کشمیر! اگلا لائحہ عمل کیا ہے؟ علی حسنین نقوی

بھارتی مقبوضہ کشمیر کو لیکر 5 اگست 2019ء کے ہندوستانی اقدام کے بعد سے پیدا ہونے والی صورتحال پر یوں تو آزاد کشمیر اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں کسی نہ کسی سطح پر ردعمل دیکھنے کو ملا اور مل رہا ہے۔ آزاد کشمیر اور پاکستان میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے محصور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جلسے، جلوس، احتجاج، سیمنارز، کانفرنسز کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ مختصراً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عوامی سطح پر بھارتی اقدام کے خلاف شدید ردعمل ہے لیکن اس ردعمل کے ساتھ بالخصوص کشمیری عوام میں آزاد کشمیر و پاکستان کے حکومتی ردعمل پر غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ حکومت متوقع رسپانس نہیں دے سکی، سفارتی سطح پر حکومت پاکستان کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ یہاں تک اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل میں کشمیر پر ایک قراردداد تک پیش نہ کرسکی اور 58 ملکوں کی حمایت کا حکومتی دعویٰ سرعام بےنقاب ہوگیا۔

13 ستمبر 2019ء کو وزیراعظم پاکستان کے مظفرآباد جلسے میں جب وزیراعظم آزادکشمیر نے ایل او سی توڑنے کی اجازت مانگی تھی تو وزیراعظم پاکستان نے کہا تھا وہ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کریں گے،تب تک ایل او سی توڑنے کا خیال ترک کیا جائے، تب سے وزیراعظم اعظم پاکستان کے خطاب کو لیکر عوام کی بہت امیدیں وابستہ ہوگئی کہ وزیراعظم پاکستان کے خطاب سے کشمیر کے معاملے پر کوئی پیش رفت ہوسکتی ہے. خیر اللہ اللہ کرکے 27 ستمبر کا دن آیا وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کیا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کا خطاب جاندار اور جامع تھا،باڈی لینگویج سے لیکر انداز بیان تک یہ ظاہر کر رہا تھا یہ ایک منجھے ہوئے لیڈر کا خطاب ہے۔ یوں تو عمران خان کا خطاب چار مسائل (ماحولیاتی تبدیلی، منی لانڈرنگ و کرپشن، اسلامو فوبیا، مسئلہ کشمیر) پر تھا لیکن یہ خطاب بہت سے پہلو کا احاطہ کیئے ہوئے تھا، عمران خان کے خطاب میں دنیا سے انصاف اور مفاد کے متعلق سوال بھی موقع کی مناسبت سے تھا، خطاب میں اسلاموفوبیا پر بھی جامع الفاظ تھے، خطاب میں دنیا کے لیے ایٹمی جنگ کے خطرے کی نشاندہی بھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو - محمد عبداللہ

خطاب میں اپنے نہ جھکنے کا عزم بھی تھا، خطاب میں آخری سانس تک لڑنے کا پیغام بھی تھا، خطاب میں مغرب کی اصلیت بھی تھی، خطاب میں امریکہ کی منافقت کا اشارہ بھی تھا، خطاب میں عالمی طاقتوں کی بے ضمیری کا بھی ذکر تھا ،خطاب میں اقوام متحدہ کو اس کی ذمہ داریاں یاد کروانے کی بھی کوشش تھی، خطاب میں اسلام اور پاکستان کا دفاع بھی تھا اور خطاب بھی کشمیر اور کشمیری بھی تھے ۔

جنرل اسمبلی میں بذریعہ خطاب ہی اپنا موقف رکھا جاسکتا تھااور وزیراعظم پاکستان نے موقف جاندار طریقے سے پیش کیا،خطاب اسقدر قابل ستائش تھا کہ ناقدین کو تعریف کرنی پڑی۔ لیکن سوال آج بھی وہیں ہیں کہ اس خطاب محصور کشمیریوں کو کیا فائدہ ہوا؟ اس خطاب میں تکنیکی طور پر کشمیریوں کے دکھوں کے مداوے کے لیے کیا پیش کیا گیا؟ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران جن مسائل پر بات کی گئی ان میں کشمیر سب سے آخر پر کیوں تھا؟ کیا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان اپنے خطاب میں زبانی جمع خرچ کے علاوہ کوئی عملی لائحہ عمل نہیں دے سکتے تھے؟ اب اگلا لائحہ عمل کیا ہے؟ عملی اقدامات کب اٹھائیں جائیں گے؟

عرض کچھ یوں ہے کہ اگر تقریروں اور جذباتی خطابات سے مسئلے حل ہوتے تو 72 سال سے کشمیریوں کو اپنا سب کچھ قربان نہ کرنا پڑتا، اگر جذباتی اور لمبے خطاب مسائل کے حل کے لیئے اتنے ہی سود مند ہوتے تو فیڈل کاسترو، یاسر عرفات، ہوگو شاویز، معمر قذافی اور ذوالفقار علی بھٹو کی تقریریں رائیگاں نہ جاتی۔

مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے، لائحہ عمل چاہیے ہوتا ہے، سفارتی اثرورسوخ معنی رکھتا ہے لیکن بدقسمتی سے ابھی تک حکومت پاکستان کی جانب اب تک کوئی عملی اقدامات سامنے آسکے نہ ہی کوئی لائحہ عمل نظر آرہا ہے اور سفارتی کامیابیوں کی سیریز اسوقت ختم ہوئی جب انسانی حقوق کونسل میں ایک قرارداد پیش کرنے کے لیے 16 ممالک کی حمایت حاصل نہ ہوسکی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   اس دور کا محمد بن قاسم آنے والا ہے - شیراز علی

دوسری جانب حکومت آزاد کشمیر اور حریت کانفرنس کا زور بھی تقریروں پر ہے ،بلکہ حریت کانفرنس عین اسوقت ذاتی مفادات کو لیکر دھڑوں بندیوں کا شکار ہوئی ہے جب اتحاد اور ون پوائنٹ ایجنڈا پر سب کو اکٹھے ہونے کی اشد ضرورت تھی، اور ان تمام باتوں کا براہ راست اثر ان محصور کشمیریوں پر پڑتا ہے جو رات اس امید پر گزارتے ہیں کہ صبح کوئی انکی مدد کو آنے والا ہے۔

موجودہ حالات کے تناظر میں حکومت پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ایک مستقل لائحہ عمل کے ساتھ سامنے آنے کی ضرورت ہے۔ دنیا میں نئی صف بند ہورہی ہے، روس، چین، ترکی، ایران اور ملائشیا ایک بلاک میں جڑتے نظر آرہے ہیں اور یہ صف بندی امریکہ کے بالادستی کے لیے کسی خطرے سے کم نہیں،واضح رہے کہ چین ،ترکی اور ملائیشیا وہ ممالک ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات کی اور پاکستان کے موقف کی تائید بھی کی، اس کے علاوہ ایران بھی کشمیر کو لیکر اپنا مضبوط موقف دے چکا ہے امریکہ پاکستان کو کبھی بھی مذکورہ بلاک کا حصہ بنتا نہیں دیکھنا چاہتا، امریکہ کو افغانستان کے اندر پاکستان کا کردار چاہیے کیونکہ پاکستان کے بغیر امریکہ کا افغانستان سے کامیابی سے نکلنا ناممکن نظر آرہا ہے، دوسری جانب عرب ممالک بھی امریکہ کی بیعت کرچکے ہیں۔ایسے میں پاکستان کی اہمیت مذید بڑھ جاتی ہے، پاکستان اگر مذکورہ بلاک کا حصہ بنتا یے تو آنے والے دنوں میں امریکہ سمیت ہندوستان کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ اضافہ ہوسکتا ہے اور دوسری جانب اگر پاکستان آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ایک یونٹ بنا کر بیک اپ دیتا یے کہ کشمیر کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھا جائے تو بھی ہندوستان کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔