گودار کے ماہی گیروں کا مستقبل کیا ہے - ایاز رانا

پی ٹی آئی حکومت کو آئے تھوڑے دن ہی گزرے تھے کہ کچھ حلقوں کی جانب سے یہ آوازیں آنی شروع ہوگئی تھیں کہ پی ٹی آئی حکومت سی پیک منصوبے کے خلاف ہے۔ لوگوں نے یہاں تک کہا کہ عمران خان نے دھرنا بھی اسی مقصد کے تحت دیا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدہ ون بیلٹ ون روڈ کو روکا جائے، اور اس کو ناکام بنایا جائے، کیونکہ چینی صدر شی چن پنگ کے دورہ اس دھرنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا تھا۔

مگر 20 اپریل 2015ء کو چینی صدر 3 روزہ دورے پر پاکستان آئے اور اقتصادی راہداری کے 30 منصوبوں سمیت 51 معاہدوں پر دستخط کر دیے، جس کے بعد ہم نے دیکھا کہ بہت تیزی سے اس پر کام شروع کردیا گیا اور ساتھ ہی تمام صوبوں کی جانب سے اس اقتصادی راہداری میں اپنے صوبے کا حصہ یا اس سے فائدہ اٹھانے کی باتیں بھی سامنے آنے لگیں، مگر اس منصوبے تحت سب سے اہم جو کام ہونا تھا، وہ گوادر میں بندرگاہ کی تعمیر اورگوادر کی ترقی شامل تھی۔ اس وقت گودار پورٹ پر 3 برتھ تیار ہیں اور باقی کام بھی چل رہا ہے۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ گودار جو سب سے اہمیت کا حامل شہر ہے۔ اس کو کیا ملا؟
کراچی کے مقامی ہوٹل میں بلوچستان اکنامک فورم کے صدر سردار شوکت پوپلزئی کی کاوشوں کے نتیجے میں گودار سے تعلق رکھنے والے فشرمین کارپوریشن کے ایک وفد جس میں جناب بابو گلاب اور خدابخش صاحب کی سربراہی میں ملاقات کا اہتمام کیا گیا جس میں چین کے قونصل جنرل وانگ یو(Wang Yu) نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اس ملاقات میں میرا جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں جا کر پتہ چلا کہ قونصل جنرل وانگ یو کی جانب سے ماہی گیروں کے لیے جو گودار سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے لیے 20 کے قریب کشتیوں کے انجن، 200 جال، سولر سسٹم سولر پینل ،200 سولر لائٹ ،پنکھے وغیرہ دیے گئے۔

چین کے قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ مجھے پتہ ہے یہ بہت کم مقدار ہے، مگر ہم نے اس کام کو شروع کیا، اور اگر یہ منصفانہ طریقے سے مستحق لوگوں تک پہنچ گیا تو یہ کام چین کی حکومت کے تعاون سے جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک خط - ڈاکٹر صفدر محمود

گودار سے تعلق رکھنے والے ماہی گیروں کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ بن گئی، مگر ہماری مشکلات کے بارے میں نہیں دیکھا گیا۔ ہم وہاں کئی دہائیوں سے آباد ہے اور ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ ہے، ہمارا تعلق پسماندہ طبقے سے ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ گودار میں ترقی ہو اور وہاں آباد لوگوں کو بھی اس سے فائدہ نہ پوچھے۔

ماہی گیری کی صنعت کو توجہ کی ضرورت ہے۔ ہمارے لیے بریک واٹر کا قیام کرنا چاہے تھا تاکہ ہم اپنی کشتیوں کو وہاں کھڑا کر سکے اور اس کے علاوہ جہاں پر تعمیراتی کام ہو رہا ہے، وہاں آباد گودار کے لوگوں کی آبادکاری کے مسئلے کا حل نکالا جائے۔ ایکپریس وے کی تعمیر جلد از جلد مکمل کی جائے تاکہ گودار پورٹ پر بھی کام شروع ہو اور ہمارے علاقے لوگوں کو بھی روزگار کے مواقع فراہم ہو۔

ماہی گیروں کا کہنا تھا کہ ہمارے بچوں کو تعلیم اور صحت کے لیے بھی کام کیا جائے۔ جس پر قونصل جنرل وانگ یو نے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ گودار کے لوگوں کو بہت مشکلات کا سامنا ہے، یہ جو تحفے آپ لوگوں کو دیے جا رہے ہیں، وہ اس وقت آپ لوگوں کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گودار پورٹ وہاں کی عوام کے لیے چین کی جانب سے سب بڑا تحفہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا ہم چاہتے ہیں گودار کے لوگ تعلیم حاصل کریں، اس لیے ہم نے وہاں ووکیشنل تعلیم کے لیے اسکول کا قیام کیا ہے۔ اسپتال کی ضروریات کو سمجھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا میں چاہتا ہوں آپ لوگ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دیں، اس کے لیے ہم آپ کو اسکالرشپ بھی دیں گے۔

ان تمام باتوں سے ایک بات تو واضح ہوگی کہ چین اب خود خاص طور پر گوادر کے مقامی لوگوں کی مشکلات کو سمجھ رہا ہے، اور ان کی آنے والی نسل کو بہتر سہولیات زندگی دینا چاہتا ہے، جس کے لیے اس طرح کے اقدامات بھی چین کی جانب سے لیے جا رہا ہے۔ آخر میں ان کا کہنا تھا میری آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ وہاں کے کچھ افراد آپ لوگوں کو اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، آپ کو ان کے منصوبوں کو ناکام بنانا ہے اور اپنی علاقے کی ترقی اور اپنی آنے والی نسل کی زندگیاں تبدیل کرنی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پوائنٹ آف نو یوٹرن - قادر خان یوسف زئی

اس کے بعد میں نے قونصل جنرل وانگ یو سے ملاقات کی۔ میرا پہلا سوال ان سے یہ تھا کہ ایسا ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سی پیک منصوبے کو رول بیک کر رہی ہے، تو ان کا کہنا تھا ایسا کچھ نہیں ہے۔ سی پیک پر مختلف مراحل میں کام ہونا ہے۔ اس وقت سی پیک پہلے مرحلے سے نکل کر دوسرے فیس میں داخل ہو گیا ہے۔ سب بے بنیاد خبریں ہیں۔ اس حکومت کے آنے کے بعد عمران خان نے چین کے دورے اور کئی ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ یہ تاثر دینا کہ پی ٹی آئی حکومت سی پیک منصوبے کے خلاف ہے غلط بات ہوگی۔ پاکستان چین کا دیرینہ دوست ہے اور رہے گا۔ میرا دوسرا سوال ان سے یہ تھا کہ پاکستانی معیشت اس وقت بہت مشکل میں ہے، آپ کو ہم نے پیسے واپس کرنے ہیں، چینی حکومت کیسا دیکھتی ہے؟ ان کا کہنا تھا اس میں کوئی شک نہیں، اس وقت پاکستان کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے، مگر لگ رہا ہے جو اقدامات اس وقت پی ٹی آئی حکومت نے لیے ہیں، خاص طور پر ٹیکس کے نظام کو دیکھتے ہوئے لگ رہا ہے کہ پاکستان کی معیشت صحیح راستے پر چل پڑی ہے۔ میں نے آخری سوال بھی کر ڈالا کہ اس وقت انڈیا پاکستان کے درمیان کشمیر کے مسئلے کو آپ لوگ کیسا دیکھ رہے ہیں؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ چین اس بات پر قائل ہے کہ کشمیر پاکستان اور انڈیا کے درمیان متنازع ایشو ہے، جو جنگ سے نہیں بات چیت اور ٹیبل پر بیٹھ کے حل ہونا چاہیے اور چین اب تک ہر فورم پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ جو ہماری دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

آخر میں ان کہنا تھا کہ ہماری بزنس کمیونٹی پاکستان میں کام کرنا چاہتی ہے مگر یہاں پر ہمیں چاہیے کہ حکومت کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرے، یعنی ایز ٹو ڈوئنگ بزنس پر کام کرے، ایسا کریں گے تو پاکستان کے ساتھ ساتھ چین بھی ترقی کے سفر میں تیزی سے آگے بڑھے گا۔