تھر کا سفر - محمد احمد مہر

کہتے ہیں "سفر وسیلہ ظفر ہے"۔ سفر کامیابی و کامرانی کا ایک اہم راز تو ہے ہی لیکن تفریح طبع کے لیے بھی خالی از فائدہ نہیں۔ طبیعت میں ہشاشت بشاشت، تجربات اور خدا تعالی کی قدرت کے مظہر اور دنیا کے حسن وجمال کا نظارہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔

صحرائے تھر دیکھنے کی دلی خواہش عرصے سے پال رکھی تھی، لیکن ہم مزاج اور سفری آداب سے آشنا ساتھیوں کی تلاش تھی، چند روز قبل برادرم مکرم مولانا عبد الباقی ادریس السندی صاحب نے فون کر کے بتایا کہ ہم نے تھر گھومنے کا پروگرام بنایا ہے آپ اگر ہمارے ساتھ ہوجائیں تو گنجائش ہے۔ بڑی خوشی کے ساتھ میں نے حامی بھر لی۔

پھر ترتیب یہ تھی کہ کنڈیارو، ضلع نوشہرو فیروز کے کچھ احباب اور بھی تھے، کل نو (9) افراد پر مشتمل یہ قافلہ اپنی منزل کی طرف چل پڑا، امیرِ سفر اور میرِ کارواں حضرت مولانا محمد الیاس سومرو صاحب تھے، اور روحِ رواں مولانا عبد الباقی صاحب تھے، ہمارا پہلا پڑاؤ سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ، جام شورو تھا، جہاں ہمارے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مولانا علی اصغر لاڑک صاحب (جو وہاں مسجد کے امام ہیں) نے بڑی محبت اور پُر تکلف کھانے کے ساتھ ہماری تواضع کی، ہم مولانا کی محبت کے مشکور ہیں۔

پھر ہم اپنی منزل کی طرف چل پڑے، راستے میں دلکش اور دل لُبھانے والے مناظر سے محظوظ ہوتے اور ساتھ میں تاریخی شہہ پارے، ادبے لطیفے، علمی گفتگو نے مجلس کو کشت زعفراں بنایا ہوا تھا۔

مولانا عبد الباقی صاحب نے سفر کے شروع میں اپنے سب ساتھیوں کو بڑے ادیبانہ پیرائے، منظم انداز اور فصیح وبلیغ زبان میں سارے شیڈول سے آگاہ کیا تو ایسا لگ رہا تھا سارے مناظر سب کی نظروں کے سامنے ہیں، ساتھ میں ہر شہر اور مقام کا تاریخی پس منظر اور بزرگوں کے مفصل تعارف پر روشنی ڈالی، سب ساتھیوں کا اشتیاق بڑھتا جارہا تھا اور خوشی دیدنی تھی۔ بس ہر ایک کی چاہت تھی کہ سفر کی حائل رکاوٹیں جلد دور ہوجائیں اور ہم بلاتاخیر منزلِ مقصود پر پہنچیں۔

ہمارا اگلا پڑاؤ عمر کوٹ کے تاریخی قلعے میں تھا۔ یہ قلعہ مغل بادشاہ اکبر بادشاہ کی جائے پیدائش بھی ہے، عمر کوٹ ایک تاریخی شہر ہے جو سندھی لوک ادب کے مشہور کردار عمر اور مارئی کے نام سے منسوب ہے۔ یہ شاہی حکمرانوں اور خاندانوں کی انوکھی تاریخ سے بھرا پڑا ہے۔ اس شہر کی بنیاد سومرو دور حکومت (1350-1050) کے درمیان سومرو بادشاہ عمر سومرو نے رکھی۔ تیرھویں صدی کے آخر میں راچپوت راجا پرمار سوڈھو نے اس پر قبضہ کیا تھا، اس کے جانشین رانا پرشاد نے مغل شہنشاہ ہمایوں کو 1541ع میں اس وقت پناہ دی تھی جب وہ شیر شاہ سوری سے شکست کھاکر ادھر ادھر بھٹک رہے تھے۔ اس کا نامور بیٹا "اکبر " عمر کوٹ میں پیدا ہوا، راچپوت حکمرانوں سے کلھوڑا حاکموں نے قلعہ چھین لیا۔ بہرحال کلھوڑا حاکموں کے ورثاء نے قلعہ کو جودھپور کے راجا کو بیچ دیا تھا۔ 1813ع میں تالپور حکمرانوں نے اس قلعہ پر واپس قبضہ جما لیا۔

1843ع میں انگریزوں نے جب سندھ پر قبضہ کیا تو قلعہ ان کے تصرف میں آگیا، مستطیل شکل والے اس قلعہ کی ایراضی 785×946 مربع فٹ ہے۔ قلعہ کی دیواروں کے چاروں کونوں پر آدھی گولائی والی دفاع برج اور دوسری طرف محراب والا داخلی دروازہ ہے۔

مغرب کے قریب ہم قلعہ کے اندر پہنچے، سب سے پہلے میوزیم کا رخ کیا، اس عجائب گھر کی بنیاد 1968ء کو رکھی گئی، جس میں مخطوطات، اسلحہ، شاہی دستاویز، خطوط، اس دور کے سکے، مورتیاں، تھر کے جانوروں کی تصاویر تھیں۔ محکمہ ثقافت کی بے حسی پر کیا روئیں جو تاریخی مقام اور ثقافتی ورثہ ان کے حوالے ہوا، اس کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور اس کو مزید زبوں حال کر دیا، جس میں عمر کوٹ قلعہ بھی اس کی زندہ مثال ہے۔ نایاب اور نادر چیزیں غائب تھیں، جو بَچی کُھچی نادر چیزیں تھیں، ان کے دیکھنے پر اکتفا کی، جس کے بعد ہم نے مغرب کی نماز سندھ کے معروف عالمِ دین حضرت مولانا عبد الرحمن جمالی صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) کی قدیم اور تاریخی مسجد میں ادا کی جو ایک تاریخی شاہکار ہے۔ اور اُس دور کی صنعت اور کاریگری کا پتہ دیتی ہے۔ نماز کے بعد مولانا جمالی صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) کے صاحب زادگان (حضرت مولانا عبد القادر اور حضرت مولانا علی احمد) ہماری آمد کے منتظر تھے، انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا، وہاں پر معروف کالم نگار ارباب نیک محمد صاحب سے بھی ملاقات ہوئی جو ہم سے ملاقات کے انتظار میں تھے۔ اگلی قسط میں ہندوستان کے بارڈر اور کارونجھر پہاڑ وغیرہ کی داستان کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ ان شاء اللہ