میرے گھر میں آگ لگی ہے - موسیٰ مجاہد

میرے گھر میں آگ لگی ہے، دو ماہ سے ہم گھروں میں قید ہیں، بے شمار بچے گھروں سے اٹھا کر انڈین جیلوں میں منتقل کر دیے گئے ہیں، اس عرصہ میں کم و بیش 345 نوجوان بچیاں گھروں سے اغوا کی گئی ہیں، شیر خوار بچے بھوک سے تڑپ رہے ہیں، بیماروں کے لیے دوا نہیں، کھانے کو روٹی نہیں رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں، لوگوں کو اپنے پیاروں کی کوئی خبر نہیں۔

قبرستان کی بجائے گھروں میں میتیں دفن کی جارہی ہیں پوری وادی جیل میں تبدیل کردی گئ ہے ۔ ایسے حالات میں تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسے متلون مزاج فرد کی تقریر کی تحسین کی جائے جو کبھی اپنی بات پہ قائم ہی نہیں رہا ہمیشہ کی طرح قوم سے اب بھی یہی کہا جارہا ہے کہ تم تالیاں بجاؤ ، ناچو ، واہ واہ کرو، پاکستان اور سری لنکا کے میچ کو انجوائے کرو اور اس کی تعریف کرو جو اپنے ملک میں پردے کا نوٹیفیکیشن واپس لے کر دنیا کو یہ بتا رہا ہے کہ مسلمان خواتین ترقی یافتہ دنیا میں پردہ نہیں کر سکتیں ۔ اس کی تعریف کرو جس میں اتنی جرات بھی نہیں کہ قاتل مودی کا ساتھ دینے پر عربوں کا ہوائی جہاز ان منہ پہ مار سکے ۔ وزیراعظم صاحب آپ نے ٹھیک کہا کہ دنیا انڈیا کے ساتھ اس لئے ہے کہ انڈیا بہت بڑی مارکیٹ ہے لیکن دو ایٹمی طاقتوں کی جنگ میں یہ مارکیٹ قائم ہی نہیں رہے گی لیکن ساتھ ہی پریس کانفرنس میں یوٹرن لے کر امریکہ اور دیگر ممالک کو ضمانت بھی دے دی کہ ہم جنگ کے علاوہ ہر آپشن کو استعمال کریں گے۔

چلیے آپ نے کشمیر کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کر دیا اور مطالبات بھی کر دیے لیکن اب تک خود کیا کیا جنگ تو آپ سے ہوگی نہیں۔ کیا آپ نے انڈیا کے لیے اپنی فضاؤں کو بند کر دیا؟ کیا آپ نے انڈیا سے تجارت بند کر دی ، کیا آپ نے انڈیا سے سفارتی تعلقات ختم کیے؟ اگر آپ اتنا بھی نہیں کر سکتے تو دنیا سے کیسا مطالبہ ؟ آپ اقوام متحدہ جانے سے پہلے انڈیا سے تجارتی تعلقات ختم کرتے اور پھر دنیا سے یہی مطالبہ کرتے کہ تمام دنیا انڈیا سے تجارت بند کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   تقسیم کشمیر کے آخری مراحل ! - علی حسنین نقوی

آپ تو ایک نمائشی سرگرمی بھی جاری نہ رکھ سکے۔ آپ نے کہا ہر جمعہ کو آدھ گھنٹہ ہم کشمیر کے لیے کھڑے ہوں گے، اختلاف رکھنے کے باوجود ہم بھی کھڑے ہوئے، ایک عام کارکن سے لے امیر جماعت بھی مہم میں شامل ہوئے، ہم آج بھی کھڑے ہیں لیکن پہلے جمعہ کے بعد نہ آپ ہیں نہ آپ کے وزراء نہ آپ کے ایم این اے اور ایم پی اے ہیں اور نہ آپ کے ورکرز ۔

پہلی بار کی گردان بھی جاری ہے۔ حضور والا اس سے پہلے بھی بہت سے حکمرانوں نے اقوام متحدہ میں بہت کچھ کہا ذوالفقار بھٹو اور ضیاءالحق کی تقاریر سن لیجئے افاقہ ہوگا اور بھٹو کی تقریر تو انگلش میں تھی اس کے دلائل بھی بہت بہتر تھے لیکن کشمیر نہ تب آزاد ہوا تھا نہ اب ہوگا۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ انڈین وزیراعظم نے کشمیر سے متعلق ایک لفظ بھی نہیں کہا کیونکہ وہ ان ایکشن ہیں اور آپ ہوائی قلعے تعمیر کر رہے ہیں۔ حضور والا آپ کا آخری ہتھیار سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی جگت بازی ، بد تہذیبی اور بد زبانی ہے جاری رکھیے۔

ٹیگز