چھوٹی عمر کا نکاح ، اسلامی نظریاتی کونسل اور سول سوسائٹی - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ہمارے ایک محترم دوست نے صغر سنی کے نکاح کے متعلق کونسل کی راے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ایک پوسٹ لکھی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں: "سول سائٹی والوں کو تو خبر ہو گئی کہ مولوی چاہے جبہ و دستار والا ہے یا کوٹ پینٹ والا ، ہوتا مولوی ہی ہے ۔

مگر مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ کیا باقی اسلامی ممالک جہاں شادی کے لئے عمر کی حد 18 سال کی ہے کیا وہ اسلام ، اسلامی فقہ ، حدیث وغیرہ کو نہیں جانتے یا پھر ہمارا اسلام ان سے کوئی علیحدہ اسلام ہے۔" اس پر چند مختصر نکات ان کی خدمت میں پیش کیے:
1۔ دیگر ممالک سے یہ استدلال کہ "کیا وہ اسلام ، اسلامی فقہ ، حدیث وغیرہ کو نہیں جانتے یا پھر ہمارا اسلام ان سے کوئی علیحدہ اسلام ہے" بہت کمزور ہے۔ ایک تو اس لیے کہ دیگر لوگ کیا کرتے ہیں، اس سے یہ نہیں معلوم ہوسکتا کہ جو میں کررہا ہوں وہ غلط یا صحیح ہے۔ اگر مثال کے طور پر کوئی یہ کہے تو آپ کیا کہیں گے کہ فجر کی نماز میں دس بندے ہوتے ہیں اور ظہر کی نماز میں سو، تو جو فجر میں دس بندے آرہے ہیں وہ ویسے ہی اسے فرض سمجھ بیٹھے ہیں کیونکہ باقی نوے لوگ تو فجر کےلیے نہیں آتے؟ دوسرے، اہم قانونی وجہ یہ ہے کہ کیا یہ دیگر ممالک دستوری لحاظ سے "اسلامی" ممالک ہیں؟ کیا انھوں نے اسلام کو "ریاستی مذہب" قرار دیا ہے؟ کیا انھوں نے دستور میں تصریح کی ہے کہ ملک میں کوئی قانون اسلام سے متصادم نہیں بنایا جائے گا اور یہ کہ موجودہ قوانین سے خلافِ اسلام امور کو دور کیا جائے گا؟ کیا انھوں نے ملکی قانون میں تصریح کی ہے کہ تمام عدالتیں تمام قوانین کی تعبیر و تشریح اسلام کے مطابق کرنے کی پابند ہیں؟ اگر ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو پھر پاکستانی قوانین کےلیے ان ممالک کے قوانین سے استدلال اصولی طور پر غلط ہے۔

2۔ اسلامی نظریاتی کونسل پر تنقید "سول سوسائٹی" کی فائلیں بھرنے اور "ڈونرز" کو رپورٹ کرنے میں تو مفید ثابت ہوسکتی ہے، عملاً یہ محض خانہ پری ہے کیونکہ ہم اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب قوانین تبدیل کرنے ہوں تو اسلامی نظریاتی کونسل چیخے چلائے، روئے پیٹے، کوئی کان نہیں دھرتا۔ یہ تو جب قوانین کو تبدیل کرنے کا ارادہ نہ ہو تو پھر اسلامی نظریاتی کونسل کے انکار کا عذر پیش کیا جاتا ہے۔ سول سوسائٹی کو چاہیے کہ اصل سبب پر غور کرے۔ بے چاری کونسل کا کیا ہے؟ جب حکومت تبدیل کرنا چاہے گی تو کونسل کوئی رکاوٹ نہیں بن سکے گی۔
3۔ جب ڈاکٹر قبلہ ایاز جیسی شخصیت کی موجودگی میں بھی کونسل یہ سفارش نہیں دے سکتی کہ قبل از بلوغت نکاح شرعاً ناجائز ہے، تو پھر سول سوسائٹی کو بھی اپنی حکمت عملی اور موقف پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ بجاے اس کے کہ آپ اس نکاح کو غیر شرعی قرار دلوانے پر اپنی توانائیاں ضائع کریں، یہ کیوں نہیں کرتے کہ ہم اس نکاح کو شرعاً ناجائز نہیں قرار دیتے لیکن پاکستان کے معروضی حالات میں اس طرح کے نکاح کے مفاسد کو دیکھتے ہوئے چاہتے ہیں کہ حکومت اس پر پابندی لگائے اور شریعت کی رو سے حکومت نہ صرف یہ کہ جائز کاموں پر پابندی لگاسکتی ہے بلکہ خصوصاً نکاح کے متعلق امور میں کمزور فریق، خواتین اور بچوں، کے حقوق کے تحفظ کےلیے مناسب اقدامات بھی اٹھاسکتی ہے۔ اس زاویۂ نظر سے آپ کا مطلوبہ ہدف بہ آسانی پورا ہوسکتا ہے لیکن کیا کریں کہ سول سوسائٹی نے ڈونرز کے ہدف کو ڈونرز کی مرضی کے مطابق حاصل کرنا ہوتا ہے۔
4۔ اس زاویۂ نظر سے کچھ عرصہ قبل میں نے "قبل از بلوغت نکاح" کے متعلق پوسٹس کا ایک سلسلہ لکھا تھا۔ وہ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.