کیا لڑکی کی میڈیکل تعلیم جائز ہے؟ محمد رضی الاسلام ندوی

ایک صاحب نے مجھے تحریر کیا: "میں ایک ڈاکٹر ہوں _ میرا پورا گھرانہ دینی رجحان رکھتا ہے _ میں اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں ، لیکن سسرال کے لوگ مخالفت کر رہے ہیں _ کیا شرعی اعتبار سے لڑکیوں کو میڈیکل تعلیم دلانے میں کوئی حرج ہے؟

میں نے انہیں یہ مختصر جواب دیا : آپ کی سسرال والوں کی مخالفت کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ لڑکی کو ڈاکٹر بننے کے بعد اسے عورتوں کے ساتھ مردوں کا علاج بھی کرنا پڑے گا . اگر ایسا ہے تو اس وجہ سے مخالفت درست نہیں. شرعی طور پر اجازت ہے کہ عورت مردوں کا علاج کرسکتی ہے . امام بخاری نے اپنی صحیح میں بعض ایسی احادیث درج کی ہیں جن سے عورتوں کے ذریعے مردوں کا علاج ثابت ہے . انھوں نے ان احادیث پر یہ عناوین (ترجمۃ الباب) قائم کیے ہیں:
باب ھل یداوي الرجل المرأة أو المرأة الرجل (اس چیز کا بیان کہ کیا مرد عورت کا علاج کرسکتا ہے؟ یا عورت مرد کا علاج کرسکتی ہے؟) باب المرأة ترقى الرجل (اس چیز کا بیان کہ عورت مرد کا علاج کرسکتی ہے)
* فقہاء نے یہاں تک لکھا ہے کہ دورانِ علاج مرد وقتِ ضرورت عورت کے قابلِ ستر اعضاء کو دیکھ سکتا ہے اور عورت مرد کے قابلِ ستر اعضاء کو دیکھ سکتی ہے . یہ کیسا دینی گھرانہ ہے جو لڑکی کی میڈیکل تعلیم میں رکاوٹ بن رہا ہے؟ عجیب بات ہے کہ مسلمان گھرانے اپنی عورتوں کا علاج مردوں سے کرانا تو گوارا کرتے ہیں ، لیکن ایسی خواتین ڈاکٹر تیار نہیں کرتے جو ان کی عورتوں کا علاج کر سکیں .

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.