وزیراعظم کا دورۂ امریکہ ناکام کیوں - محمد عبداللہ گل

وزیراعظم عمران خان کے امریکہ جانے سے پہلے ایسا لگ رہا تھا کہ وہاں جاتے ہی کوئی جادو کی چھڑی ان کے ہاتھ لگ جائے گی اور جب وہ چھڑی گھمائیں گے تو بھارت کشمیر سے کرفیو اٹھا لے گا اور دفعہ 370 بھی واپس لے لے گا۔ کیا ہوا؟ پوری دنیا کے سامنے سبکی ہمارے حصہ میں آئی۔ نریندر مودی اور ٹرمپ کے مشترکہ جلسے نے تو حکومت کی صلح جوئی اور مصالحت پسندی کی دھجیاں ہی اڑا کر رکھ دیں ۔ فلاں ملک کے سربراہ، فلاں ملک کے صدر و وزیراعظم سے ملاقاتوں کو بڑی سفارتی کامیابی قرار دینا کہاں کی عقلمندی ہے؟

وزیراعظم عمران خان کا خطاب واقعی قا بل ستائش ہے۔ 50 منٹ میں دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھاتے ہوئے کشمیریوں پر ہو رہے ظلم و تشدد کی صحیح عکاسی کی۔ مگر دنیا احساسات و جذبات کو نہیں معاشی مفاد مدنظر رکھتی ہے۔ اسرائیل، امریکہ، فرانس سمیت یورپی ملکوں اور عرب ریاستوں کے ساتھ بھارت کے بڑھتے معاشی و عسکری تعلقات کی وجہ سے اب اقوام عالم میں ہندوستان کا کردار طے کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کی بھارت نواز پالیسی نے یہ ہمیں بتا دیا ہے کہ ہماری نیحف آواز پر توجہ نہیں دی جائے گی اور دیکھ لے کیا وزیر اعظم کی تقریر کے بعد کشمیر سے کرفیو اٹھا لیا گیا، فوج واپس بلا لی گئی، بلکہ کسی بڑے خطرے کی آمد کاپیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے۔

ہماری یہ روایت بن چکی ہے کہ کوئی بھی حکمران ہو، اس کے قصیدے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں، اور اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔ وزیراعظم صاحب نے اپنے خطاب میں دنیا کو کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی کہ اب اگر بھارت اپنی روایتی ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا تو کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ وزیر اعظم سے سوال ہے کہ اب اجلاس کے بعد کیا عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے؟ اور کس نہج پر جا فیصلہ لیا جائے گا؟۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ و زیراعظم نے دنیا کے ضمیر کو جگانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ بھی بخوبی جانتے ہیں یہ بےضمیروں کی دنیا ہے، بالخصوص مسلمانوں کے حوالے سے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا نیا چینل واقعی اسلام کو پیش کرے گا - حامد کمال الدین

یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ہم کب تک کشکول پھیلائیں گے؟ کب تک معذرت خواہانہ رویہ اپنائیں رکھیں گے؟ ابھی تک کشمیریوں کے قتل عام پر سفارتی تعلقات منقطع نہیں کیے، بھارت پر تجارتی و معاشی دروازے بند نہیں کیے اور نہ ہی کسی قسم کی فضائی حدود پر پابندی عائد کی۔ مسئلہ کشمیر کو اس کے ساتھ نتھی نہیں کیا۔ عسکری محاذ کے حوالے سے ابھی تک ہماری پالیسی مبہم ہے۔ َآخر اس مصالحانہ رویے سے اقوام عالم پر کیا ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ خراب و کمزور معیشت کا رونا رو کر جہاد سے روگردانی کر رہے ہیں۔ دشمن کو کھلی چھٹی دے دی ہے کہ جس طرح ظلم و تشدد کا بازار گرم رکھے۔ ایک خوف کی پالیسی مسلط کر رکھی ہے۔ اب یو این او کی طرف یا دنیا کی طرف دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔

یہ وقت ہے کہ دو ٹوک فیصلہ کر لیا جائے کہ کشمیر ہمارے لیے کتنا اہم ہے؟ کیا اس کے لیے ہم ہر حد تک جانے کو تیار ہیں؟ جبکہ امریکہ میں وزیراعظم کی مصروفیات، دلچسپیاں اور غیر سنجیدہ بیانات سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وزیراعظم صاحب کشمیر کا مقدمہ لڑنے نہیں پاکستان پر مقدمہ کروانے گئے تھے۔ القاعدہ کو تربیت دینے کی بات۔ دوسری جانب سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش؟ پہلی ملاقات زلمے خلیل زاد سے کیوں ہوئی؟

ضرورت اس وقت کی ہے کہ علمائے کرام سے جہاد کے متعلق اجتہاد کروایا جائے؟ کیا ان سنگین حالات میں جہاد لازم نہیں ہو جاتا۔ کشمیری بھارتی فوج کے محاصرے میں ہیں۔ کرفیو، ڈیڈ لاک سے ایک کروڑ سے زائد افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ خوراک کی شدید قلت ہے جان بچانے والی ادویات ناپید ہو چکی ہیں، لوگ گھروں میں قید ہیں، کیا ہمارا مقصد صرف کرفیو ہٹانا ہے، کیا اگر کرفیو میں نرمی ہو گئی تو لوگ خوش ہونگے۔ جب تک مسئلہ کی نہج پر نہیں پہنچ سکتا کامیابی تصور نہیں کی جائے گی۔ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن ان حالات میں جنگ کرنا پڑے گی تو تیار رہے گی۔ افسوس جب ہمارے وزیراعظم صاحب یہ فرما رہے ہوں کہ کیا ہم ہندوستان پر حملہ کردوں تو اس سے ہمارے دشمن کو کیا پیغام گیا ہوگا۔ اب وقت ہے کہ تمام علمائے کرام، سیاستدانوں سمیت تمام ریاستی مشینری کو ایک پیج پر اکٹھا کیا جائے اور کشمیر ایشو پر باقاعدہ قانون سازی کی جائے اور مودی کو گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام اور بنگلہ دیش بنانے کی سازش میں ملوث ہونے پر عالمی عدالت میں گھسیٹا جائے ۔ٹویٹروں ، فیس بک اور سوشل میڈیا پر جنگیں نہیں جیتی جاتیں۔ اس کے لیے بڑے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔