خواجہ فرید گنج شکر خواجہ بختیار کاکی کے مرید کیسے ہوئے - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

تاریخ تصوف کے عظیم ترین فرزند حضرت بابا فرید الدین مسعود ؒ کو بچپن سے ہی مطالعے کا بہت زیادہ شوق تھا۔ ابتدائی تعلیم کے لیے آپ ؒ کو کوٹھوال کے مدرسے میں داخل کرا دیا گیا۔ یہاں پر آپ ؒ کی ابتدائی علمی پیاس اُس زمانے کے عالم فاضل استاد جناب سید نذیر احمد ؒنے بجھائی۔ دن رات خوب محنت کے بعد 11سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کر لی۔ اِس سعادت کے بعد عظیم ترین والدہ ماجدہ کے ساتھ حج بیت اللہ کے لیے تشریف لے گئے۔

اِس قافلہ حج میں رشتہ داروں کی قربت بھی میسر تھی، لیکن اِن سب کی موجودگی کے باوجود ننھا فرید الدین ؒ اداس تھا، تو والدہ بولیں، فرید تم حج کی سعادت کے لیے مکہ مدینہ جا رہے ہو، پھر بھی تم خوش نظر نہیں آرہے تو سلسلہ چشت کا عظیم روشن چراغ بولا، اماں جان میری یہ شدید ترین خواہش ہے کہ اِس سفر میں میرے عظیم استاد گرامی بھی ہمارے ساتھ جائیں، کیونکہ استاد محترم سید نذیر احمد ؒمالی طور پر مستحکم نہیں تھے کہ حج بیت اللہ کے اخراجات برداشت کر سکیں، لیکن غیور اِس قدر تھے کہ کسی کے سامنے کبھی بھی دست سوال دراز نہ کیا۔ ننھے فرید اپنے استاد کی مالی تنگی اور غیرت سے بخوبی واقف تھے، اِس لیے اپنی والدہ صاحبہ سے اپنے استاد کی سفارش کی کہ میرے محترم استاد نے میرے اوپر علم کے تمام خزانے لٹا دیے ہیں، میری روح قلب کی تشنگی کو علم کے سمندر سے سیراب کر دیا ہے، اِس لیے میرا دل چاہتا ہے کہ میرے عظیم استاد حج بیت اللہ میرے ساتھ ادا کریں۔ خدا ئے بزرگ و برتر نے ہمیں اِس قابل بنایا ہے کہ ہم استاد گرامی کے سفری اخراجات برداشت کر سکیں۔ اِس طرح میں اپنے عظیم استاد کے احسانوں کا بدلہ نہیں دے رہا بلکہ احسانوں کے بوجھ کو تھوڑا کم کر نا چاہتا ہوں۔ بیٹے کا عظیم جذبہ دیکھ کر ماں کی آنکھیں بھر آئیں اور بولیں خدا تعالیٰ کا کس طرح شکر دا کروں کہ اُس عظیم ذات باری تعالی نے مجھے ایسے فرزند سے نوازا ہے جو کسی کا بھی احسان فراموش نہیں ہے۔

اب جب یہ قافلہ حج اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھ رہا تھا تو فرید الدین کے استاد گرامی بھی قافلے کا حصہ تھے۔ اِس وجہ سے ننھے فرید الدین کی خوشی ناقابل بیان تھی۔ اس طرح نو عمری میں ہی فرید الدین ؒحج کی سعادت سے سرفراز ہو گئے۔ واپسی پر آپ کو مزید تعلیم کے لیے ملتان بھیج دیا گیا۔ علم کا شوق آپ ؒ کو بچپن سے تھا۔ آپ ؒ شب و روز خوب محنت کر کے مولانا منہاج الدین کی مسجد میں اپنی علمی پیاس بجھا رہے تھے۔ جوانی میں جہاں عام نوجوانوں کے اپنے ہی مشاغل ہو تے ہیں، کھیل کو د اور تماشوں میں وقت گزارنا، لیکن فرید الدین ؒ کو تو کتابوں اور مطالعے کے علاوہ کو ئی شوق تھا ہی نہیں۔ دن رات کتابوں میں گم رہتے۔ آپ کی علمی اور روحانی پیاس ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔ یہاں پر آکر سینکڑوں کتابیں پڑھنے کے بعد من کی بے چینی اضطراب کھوج تلاش ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی کہ قدرت کو آپ ؒ پر رحم آگیا۔

جب آپ ؒ کی عمر اٹھارہ سال تھی تو آپ ؒ کی زندگی کا رخ موڑنے والا یہ عظیم واقعہ رونما ہوا۔ یہ 587 ہجری کی بات ہے کہ ایک دن آپ روزمرہ کی طرح کتاب پکڑے دنیا و مافیھا سے گم اُس کے مطالعے میں غرق تھے۔ انہماک کا یہ عالم کہ اردگرد سے بے خبر تھے کہ کیا ہو رہا ہے؟ اچانک محویت ایک سحر انگیر خوشبو سے ٹوٹ گئی۔ کسی کی آمد کے سبب ایک سحر انگیز خوشبو نے ماحول کو معطر کر دیا تھا۔ اِس اچانک خوشگوار تبدیلی کی وجہ سے فرید الدین ؒ کے خوابیدہ اعصاب بیدار ہو ئے تو کیا دیکھتے ہیں ایک روشن چہرے والے بزرگ پاس سے گزر کر وضو خانے کی طرف جا رہے ہیں۔ بابا فرید ؒساکت بت کی طرح ایک ٹک اُن کو دیکھے جا رہے تھے۔ یہ بزرگ برصغیر پاک و ہند کے عظیم ترین بزرگ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری شہنشاہ ِہند ؒ کے خلیفہ اکبر خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒتھے جو حضرت بہاؤالدین ذکریا کی دعوت پر ملتان میں آئے ہو ئے تھے۔ فرید الدین نے ایک نظر انہیں دیکھا تو کتابوں سے دل اچاٹ سا ہو گیا۔ بار بار مطالعے کی کو شش کرتے تو لفظ بے جان سوکھے نظر آتے۔ لطف ختم، بلکہ پڑھنے کی کو شش کر تے تو بیزارگی آگھیرتی۔ آخر تنگ آ کر کتاب بند کر کے رکھ دی اور خواجہ قطب الدین ؒ کو یکسو ہو کر دیکھنے لگے۔ خواجہ قطب وضو کر کے نماز کی ادائیگی میں مشغول ہو گئے تو فرید الدین نے ایک بار پھر کتاب میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن کتاب اب اپنی کشش کھو چکی تھی بلکہ ساری دنیا کے رنگ اب فرید ؒ کو بے رنگ لگ رہے تھے۔

ایک عجیب سی حلت فرید الدین ؒ پر طا ری تھی۔ یہ ساری تبدیلی روشن چہرے والے بزرگ کو دیکھنے کے بعد آئی تھی، کیونکہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کے چہرہ مبارک پر ایک خاص قسم کا نور پھیلا ہو اتھا، جو فرید الدین نے پہلے کسی دوسرے انسان کے چہرے پر نہیں دیکھا تھا۔ روشن چہرے والے بزرگ کے جسم اور چہرے سے عجیب مقناطیسی کشش اطراف کو سحر انگیز کر رہی تھی۔ نوجوان فرید الدین بھی اِس سحر انگیزی کا شکار ہو چکے تھے۔ اِس خوشگوار سحر انگیزی نے نوجوان فرید کو اپنے گرفت میں لے رکھا تھا۔ آپ ٹکٹکی باندھے روشن چہرے والے بزرگ کو دیکھی جار ہے تھے۔

خواجہ قطب الدین ؒ نے نماز ادا کی اور پھر مسجد کے اُس گوشے میں تشریف لائے جہاں فرید الدین مسعود مطالعہ کیا کرتے تھے۔ جیسے ہی خواجہ قطب الدین ؒ فرید الدین ؒ کے قریب ہوئے تو نوجوان فرید آپ کے جلال معرفت کی تاب نہ لاتے ہوئے احتراماً اٹھ کھڑا ہوا۔ جوان کا ادب و احترام دیکھ کر حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒرک گئے، دل آویز ملکوتی تبسم کے ساتھ بولے، اے نوجوان! کون سی کتاب پڑھ رہے ہو؟ تو آنے والی صدیوں کا عظیم درویش بزرگ کے جلال معرفت سے لرزنے لگا۔ جوان کی یہ حالت دیکھ کر خواجہ قطب ؒاور بھی شیریں و شفیق لہجے میں بولے، اے جوان! کون سی کتاب پڑھ رہے ہو؟ تو جوان لرزتے ہونٹوں سے بولا، جناب نافع کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ جوان فرید کے جسم کے انگ انگ سے ادب و احترام پھوٹ رہا تھا۔ خواجہ قطب الدین ؒ نوجوان کے اِس رویے پر خوش ہو کر بولے، بہت خوب، یہ بہت اچھی کتاب ہے جو تمہیں بہت نفع دے گی۔ میرا نفع تو آپ ؒ کی ایک نظر میں ہے جو مجھ پر پڑ جائے۔ جوان فرید ؒلرزتے لہجے میں درخواست گزار ہوا۔ جوان کی عقیدت دیکھ کر خواجہ قطب ؒخوشگوار حیرت سے بولے، اے جوان! تم جانتے ہو میں کون ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟ تو جوان فرید بولا، آپ ؒ بجا فرما رہے ہیں۔ میں اقرار کر تا ہوں کہ میں آپ کو نہیں جانتا اور نہ ہی یہ پتہ ہے کہ آپ کہاں سے آئے ہیں اور کدھر جا رہے ہیں، مگر میرا دل و دماغ ایک ہی بات کہہ رہے ہیں کہ تم کو جس رہنما کی تلاش تھی وہ یہی ہیں۔ اور اے شاہا! آپ ؒ کے قدموں سے اٹھنے والی خاک کے ذرات میرے لیے آسمانی ستاروں سے زیادہ روشن متبرک ہیں۔ اے عظیم مسیحا! مجھ غریب سیاہ کار کو اپنے قدموں میں جگہ دے دے۔ مجھے گمنامی کے اندھیروں سے واحدانیت کی روشنی میں لے آئیں۔ جوان فرید ؒ بلک بلک کر غلامی کی درخواست کر رہا تھا۔ خواجہ قطب ؒنواجوان کے جذبہ عقیدت و احترام سے بہت متاثر ہوئے۔ آگے بڑھ کر جوان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے، میں شیخ بہاءالدین زکریا ملتانیؒ کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوں، جب موقع ملے تو ملنے ضرور آنا۔ جوان فرید خو شی عقیدت و مسرت میں رونے لگا۔ خواجہ جی ؒ کا ہاتھ چوما اور وعدہ کیا قدم بوسی کو ضرور آؤں گا۔ نوجوان کو اپنی مراد مل چکی تھی۔