طلباء میں ڈیپریشن : وجوہات اور علاج - حافظ محمد زبیر

آج کل طلباء میں ڈیپریشن بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ 2002ء میں پبلش ہونے والی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کوئی 15 ہزار طلباء نے امتحانات کے پریشر میں خودکشی کی جبکہ سوا لاکھ کے قریب نے خودکشی کی کوشش کی۔ 2015ء کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف انڈیا میں ہر سال 9 ہزار اسٹوڈنٹس امتحانات کے دباؤ سے خودکشی کر لیتے ہیں۔

ایک اور تحقیق کے مطابق 2030ء تک ڈیپریشن، طلباء میں پائے جانے والی سب سے بڑی بیماری ہو گی۔ طلباء میں ڈیپریشن کی وجوہات کئی ایک ہوتی ہیں مثلا پڑھائی کا بے تحاشا بوجھ، نمبروں کی دوڑ (number game)، والدین کی بلند توقعات (high expectations)، گھر کے مالی مسائل (financial issues)، والدین کی آپس کی چپقلش ، محبت کے چکر (love affairs)، کاہلی وسستی اور بے مقصدیت وغیرہ۔ یہ آخری تین کا ذکر ہم نے خاص طور کیا ہے کہ عموما ان کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ ان تین فیکٹرز کو ختم کرنے سے طلباء میں ڈیپریشن کو کافی منظم (manage) کیا جا سکتا ہے۔ اصل میں طالب علم اپنے ڈیپریشن کی وجہ ہمیشہ خارجی (external) بتلائے گا جیسا کہ پڑھائی کا بے تحاشا بوجھ، اساتذہ کی طرفداری (teachers favoritism)، والدین کی بلند توقعات جبکہ بہت سے طلباء میں ڈیپریشن کی وجوہات اندورنی بھی ہوتی ہیں جیسا کہ محبت کے چکر، کاہلی وسستی اور بے مقصدیت وغیرہ۔ والدین نے تمہیں یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے بھیجا ہے، محبت کرنے نہیں لہذا ان چکروں میں الجھ کر پڑھائی کا نقصان ہو گا اور پھر اس نقصان کے پورا ہونے کی کوئی صورت نظر نہ آنے پر ڈپریشن پیدا ہو گا۔ اسی طرح بہت سے طلباء میں ضبط نفس (self control) نہیں ہوتا بلکہ انہیں سمجھایا جائے تو ان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ مجھ سے نہیں ہوتا حالانکہ اس جیسے کئی ایک وہ محنت کر رہے ہوتے ہیں جو اس سے کرنے کا کہا جا رہا ہوتا ہے۔

نمبروں کی اس دوڑ نے اب تو چھوٹے بچوں میں بھی ڈیپریشن پیدا کر دیا ہے۔ مائیں اسکول جانے والے بچوں کی پوزیشن اور گریڈز کے بارے میں زیادہ پریشان (over concerned) ہوتی ہیں کہ جس سے مسابقت کا ایک ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے کہ جس میں ہارنا بچے کا مقدر ہوتا ہے۔ اس میں ماؤں کا بھی قصور نہیں بلکہ سسٹم کی خرابی ہے کہ یہ ساری فضا اس سسٹم نے پیدا کی ہے اور اسے ٹھیک کرنا ایک آدمی کے بس میں نہیں ہے۔ کلاس میں اب تیس بچوں میں سے فرسٹ تو ایک ہی بچے نے آنا ہے لہذا اگر جیتنے کا معیار فرسٹ آنا ہے تو باقی انتیس بچے ناکام (loser) ہی شمار ہوں گے۔ اور جب وہ اپنے آپ کو ناکام سمجھیں گے تو ڈیپریشن میں مسابقت کی دوڑ (competition) سے ہی نکل جائیں گے۔ تو چھوٹے بچوں میں تو اتنی سمجھ نہیں ہے کہ آپ انہیں ڈیپریشن کا معنی تک سمجھا سکیں، وہاں تو جو کرنا ہے، والدین اور اساتذہ نے ہی کرنا ہے۔ والدین اور اساتذہ کو یہ کوشش کرنی ہے کہ بچے تقابل (comparison) سے نکل جائیں، مسابقت (competition) کی فضا سے نکلے بغیر۔ طلباء میں ڈیپریشن کی ایک بڑی وجہ پڑھائی میں پیچھے رہ جانا ہے اور پڑھائی میں پیچھے رہنے کی ایک بڑی وجہ تقابل کرنا ہے۔ لیکن اب ہمارا سارا تعلیمی نظام ہی تقابل پر کھڑا ہے۔ ٹھیک ہے کہ تقابل کے کچھ فوائد بھی ہیں کہ بچہ اسی کمپیرزن کی فضا میں محنت کر لیتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   میرا ڈیپریشن کیسے دور ہوا؟ - خواجہ فہد اقبال

لیکن اس کا نقصان زیادہ ہے کہ جب بچہ ایک دفعہ اس دوڑ میں گر جاتا ہے تو پھر گرا ہی رہتا ہے، اٹھنے کی ہمت نہیں کرتا کیونکہ دوڑ اتنی تیز ہے اور پھر یہ بھی طے ہے کہ جیتنا ایک ہی کو ہے۔ تو آپ اس تقابل سے نکل جائیں جو کہ ذہن میں ہوتا ہے لہذا ذہنی مسائل پیدا کرتا ہے لیکن مسابقت جاری رکھیں جو عمل میں ہوتی ہے۔ ذہنی مسائل کو کم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اپنی فزیکل ایکٹوٹی بڑھا دیں۔ جب جسم مصروف رہے گا تو ذہن کو بھی مصروفیت مل جائے گی۔ دوسرا یہ کہ مسابقت میں بھی اپنے بچوں کو اندھی دوڑ سے نکالیں جیسا کہ نمبروں کی دوڑ۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ دوڑنا ختم کر دیں، ظاہری بات ہے کہ منزل تک پہنچنے کے لیے دوڑنے میں حرج نہیں لیکن جس طرف سب دوڑ رہے ہیں، کیا ضروری ہے کہ منزل اسی طرف ہو۔ بعض اوقات آپ کا بچہ ایک اچھا بزنس مین بن سکتا ہے لیکن آپ اسے پی۔ایچ۔ڈی کرنے پر تلے ہوتے ہیں حالانکہ ایک اچھا بزنس مین بن کر وہ کئی ایک پی۔ایچ۔ڈیز کو اپنے ہاں ملازم بھرتی کر سکتا ہے۔
ڈیپریشن کی جو وجوہات تو خارجی ہیں، ان کا حل تو انسان کے پاس نہیں ہوتا، انسان انہیں درست کرنے کی ممکن کوشش کر سکتا ہے جیسا کہ پڑھائی کا بے تحاشا بوجھ، نمبروں کی دوڑ اور والدین کی بلند توقعات وغیرہ، تو انہیں ذہن پر سوار نہ کرے۔

دیکھیں، اگر باہر کے حالات اور ماحول آپ کی سوچ کے مطابق نہیں ہے اور آپ اسے اپنی سوچ کے مطابق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ آپ کی سوچ اور حالات کا فرق کم یا ختم ہو جائے تو اتنا ہی آپ سے مطلوب ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ اس سے زیادہ کا بوجھ اپنے اوپر ڈالیں گے یا اپنے آپ کو حالات بدلنے کی کوشش کی بجائے حالات کو عملا بدلنے کا ذمہ دار سمجھ لیں گے تو بستر پر گر جائیں گے۔ آپ اپنے والدین کی لڑائیاں ختم نہیں کر سکتے کیونکہ وہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ آپ انہیں سمجھا نہیں سکتے کہ وہ آپ سے بڑے اور زیادہ باشعور ہیں لہذا سمجھنا آپ کو ہی ہے اور وہ یہ کہ یہ آپ کی آزمائش ہے۔ آپ اس سسٹم کو ٹھیک نہیں کر سکتے البتہ ٹھیک کرنے کی کوشش کے آپ مکلف ہیں اور وہ کرتے رہیں۔ دیکھیں، انسان کو اپنے حالات یا دوسرے کو تبدیل کرنے کے لیے ممکن بھر کوشش کرنی چاہیے۔ جب آپ نے ہر کوشش کر لی تو اب اس کو قبول کیے بغیر چارہ نہیں ہے کہ آپ اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ جو کر سکتے تھے، وہ تو پہلے کر لیا۔ اب بس ذہن کو یہ میسج دیں کہ یہ میرے حصے کی آزمائش ہے، جو اللہ نے لکھ دی ہے۔ اگر میں اس پر صبر کر لوں تو میری آخرت سنور جائے گی اور اگر صبر نہ کروں تو پھر اس سے کوئی حالات بدل تو نہیں جائیں گے یا سب ٹھیک تو نہیں ہو جائے گا۔ البتہ صبر سے یہ ہو گا کہ چلیں ایک امید لگ جائے گی کہ یہاں نہیں تو آخرت میں کچھ مل جائے گا، اس کے بدلے اللہ میرے کچھ گناہ معاف کر دے گا،

یہ بھی پڑھیں:   ہم اور سٹریس - بشری نواز

یا آخرت میں درجہ بلند کر دے گا یا آخرت میں کمپنسیٹ کر دے گا وغیرہ وغیرہ۔ اور جہاں ڈیپریشن کی وجہ ایسی ہے کہ آپ اسے ختم کر سکتے ہیں جیسا کہ بد محنتی یعنی محنتی نہ ہونا، تو محنت کریں کہ محض سوچ کو مثبت بنانے سے آپ کبھی اندر سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ کالج اور یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس اپنے ڈیپریشن سے نکلنے کے لیے سگریٹ نوشی، شیشہ، آئس، چرس اور ہیروئن جیسے نشوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن ان سے ڈیپریشن کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جاتا ہے۔ دیکھیں، ڈرگز کا کام صرف ایک ہے، اور وہ ہے ذہن کو سلانا، چاہے میڈیسن ہی کی صورت میں کیوں نہ ہوں۔ تو ذہن کو سلا دینے سے آپ کے مسئلے ختم نہیں ہو جاتے، جب آپ دوبارہ بیدار ہوتے ہیں تو وہی مسئلے سامنے کھڑے ہوتے ہیں لہذا مزید ڈیپریشن پیدا ہو جاتا ہے۔ تو ڈرگز ڈیپریشن کو کم نہیں کرتیں بلکہ بڑھاتی ہیں۔ امریکہ میں کولمبیا یونیورسٹی کے تحت 12 سے 17 سال کی عمر کے طلباء پر ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج یہ ہیں کہ سگریٹ پینے والے طلباء میں ڈیپریشن تقریبا پندرہ بیس فی صد زیادہ دیکھا گیا۔ تو اس کا حل کاؤنسلنگ ہے اور کاؤنسلنگ میں دو کام کرنے کے ہیں؛ ایک بچے کو تقابل کی فضا سے باہر لے آئیں، دوسرا اس کی مسلسل حوصلہ افزائی کریں یا یہ بچہ اگر بڑا ہے تو خود سے یہ دو کام کرے۔

اس سے اس میں ایک خود اعتمادی پیدا ہو گی، اور یہ اسے ڈیپریشن سے نکال لائے گی کیونکہ ڈیپریس طالب اپنی صرف خامیاں دیکھنا شروع کر دیتا ہے اور دوسروں کی ہر وقت خوبیاں گنتا رہتا ہے اور یہ تقابل اسے مزید گرا دیتا ہے۔ بعض ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ ہمیں خود کشی کرنے والوں کا نفسیاتی پوسٹ مارٹم (psychological autopsy) کرنا چاہیے اور ان میں سے ہر ایک پروفائل تیار کرنی چاہیے، یہ بھی کرنے کا ایک کام ہے لیکن اہم تر کام یہ ہے کہ والدین اور اساتذہ اپنے بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت کریں۔ ان کی حوصلہ افزائی (encourage) کریں، ان میں اعتماد (confidence) پیدا کریں۔ انہیں ہر وقت یہ مت کہیں کہ تم یہ کر سکتے ہو، یہ بھی کہیں کہ تم نے جو کیا، وہ تمہی کر سکتے تھے یعنی ان حالات اور اس شخصیت کے ساتھ یہ کچھ کرنے کے لیے جس عزم، ہمت اور محنت کی ضرورت تھی، وہ سب تم نے کر دکھایا۔ تو تقابل تو بنتا بھی نہیں ہے کہ سب بچے ایک جیسے ذہن کے نہیں ہیں، سب کے حالات ایک جیسے نہیں، سب کے وسائل ایک جیسے نہیں تو تقابل کس چیز کا۔ تو بچے کا ڈیپریشن والدین اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور اعتماد دلانے سے ختم ہو سکتا ہے لیکن اکثر وبیشتر والدین اور اساتذہ بچوں کو مزید طعنے دے دے کر ان میں اور ڈیپریشن پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ خود ڈیپریس ہوتے ہیں۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.