عمران خان کشمیر کی آڑ میں کب تک بچیں گے - سردار عمران اعظم

کشمیر میں مودی سرکار کا غیر آئینی اقدام وزیر اعظم عمران خان کے لیے نعمت ثابت ہوا۔ ایک سال کی کارکردگی کے پوسٹ مارٹم کا وقت آیا تو ہر ٹاک شو، ہر تجزیے اور شہ سرخیوں کا رخ کشمیر کی جانب مڑ گیا۔گو کہ میڈیا کو جہاں مثبت رپورٹنگ کی ہدایت ہے وہیں مالکان بھی فرمانبرداری میں ہر حد پار کر چکے ہیں۔ آج بھی حکومت کی صفر کارکردگی کے بجائے کئی ٹاک شوز کراچی کی چھوٹی سے چھوٹی خبر سے شروع ہوتے ہیں اور مخصوض اینکرز صاحبان آج بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں کہ ملک میں اس وقت حکومت اور عمران خان کی اکثر ناکامیوں کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے۔ کچھ رہ جائے تووہ نون لیگ کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔

کشمیر کے ساتھ پاکستانی عوام کی وابستگی 72 سال بعد بھی کم نہیں ہوئی۔ اگرچہ اہل کشمیر اپنے خون سے اس کی آبیاری کرتے آ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن نے بھی کشمیر کو چھوڑ کر ایک سالہ کارکردگی کا جواب مانگنے سے گریز ہی کیا۔ لیکن سوال یہ ہے خارجی چیلنجز اپنی جگہ وزیراعظم عمران خان کشمیر کی آڑ میں داخلی محاذ پر جواب دہی سے کب تک بچ سکیں گے؟ ایک سال بعد کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں معمولی سی بھی بہتری آئی ہو۔ مہنگائی کا عالم یہ ہے کہ غریب اب ہاتھ اٹھا کر اس حکومت کو بددعائیں دیتا نظر آ رہا ہے۔ چینی 80، پیاز 100 روپے کلو، مرغی کا گوشت 330 روپے اور دال مونگ 180 روپے کلو فروخت ہو رہی ہے۔ خوردنی تیل تیار کرنے والے بھی ہاتھ کھڑنے کرنے کے قریب ہیں، حالانکہ اس کے بغیر غریب ہو یا امیر، کسی کا گزارا ممکن نہیں۔ فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ لوگوں کی قوتِ خرید اتنی کم ہوتی جا رہی ہے کہ وہ معیار کے بجائے سستے تیل کی جانب راغب ہیں، گھی یا تیل کا بڑا پیکٹ لینے کی بھی اب شہریوں میں سکت نہیں رہی، اس لیے ان کی ترجیح چھوٹا پیکٹ یا ڈبہ ہے۔ چھ ماہ پہلے ادویات کی قیمتوں میں 400 فیصد اور اب ایک بارپھر 7.2 اضافہ کردیا گیا ہے۔ پنجاب کے تما م سرکاری ہسپتالوں میں مفت لیبارٹری ٹیسٹ کی سہولیات بھی ختم کر دی گئیں۔

دل تو چاہتا ہے کہ ایک کالم میں صرف اگست 2018ء اور اگست 2019ء کی اشیاء خور و نوش کی ریٹ لسٹ لکھ دوں کہ چوروں کے جانے کے بعد غریب کا درد رکھنے والے حکمران آئے تو انہوں نے عوام کے ساتھ کیا کیا۔ مہنگائی کی یہ شرح آئندہ دو سال تک یونہی برقرار رہنے کی توقع ہے۔ آئی ایم وفد نے بھی دورے میں کہہ دیا، وعدے کے مطابق اہداف پورے کرنے کے لیے مزید اقدامات کریں۔

ایک سال میں تمام نسخے آزمانے، اربوں روپے کا قرض لینے اور وزراء بدلنے کے باجود معیشیت عملاً جمود کا شکار، سرکاری بابو کسی فائل کو ہاتھ تک لگانے کو تیار نہیں۔ وزیر اعظم کو آخر کار تنگ آکر ریڈ آرڈر جاری کرنا پڑا جو سیکریٹریز کے لیے آخری وارننگ سمجھی جا سکتی ہے لیکن اس کے بھی خاطر خواہ نتائج نظر نہیں آ رہے۔ ایک حالیہ معاشی سروے کے مطابق نئے بجٹ کے بعد سے صنعتی مصنوعات کی فروخت میں مزید تیس فیصد گراوٹ آئی ہے۔ اگر کمی کا یہ تناسب تین ماہ (جولائی تا ستمبر) مسلسل ایک ہی رفتار سے برقرار رہا تو اکتوبرتک اتنا تیار مال ذخیرہ ہو جائے گا کہ اس کے بعد فیکٹری کو بند کرنے یا چلائے رکھنے کے لیے پیداواری اخراجات مسلسل کمی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا، یعنی ملازمین اور مزدوروں کی چھٹی۔ نتیجہ مزید بے روزگاری۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک اور سیاہ دن ؟ نذیر ناجی

واضح مثال آٹو موبائل انڈسٹری ہے۔ چھ ماہ پہلے تک اگر آپ کو نئی کار خریدنی ہو تو کئی ماہ ایڈوانس بکنگ کرانی پڑتی تھی اور تین سے چار لاکھ روپے اضافی آن کے نام پر دینا پڑتے تھے۔ آج اخبارات میں مسلسل اشتہارات آ رہے ہیں کہ کار کی فوری نقد ڈلیوری لیکن خریدار نہیں۔ آٹو موبائل انڈسٹری میں دس سے بارہ دن کام بند ہونے لگا ہے۔ ملک میں پہلے سے تیار 3 ہزار سے زائد گاڑیاں ہی فروخت نہیں ہو رہیں۔ پہلی مرتبہ پاکستان میں ٹیوٹا گاڑیاں بنانے والی کمپنی انڈس موٹرز نے اپنا پلانٹ 30 ستمبر تک مکمل بند کر دیا ہے۔ 2019 میں ملک میں ٹیوٹا گاڑیوں کی فروخت میں 57 فیصد جبکہ مجموعی طور پر کاروں کی فروخت میں 41 فیصد سے زائد کی کمی ہوئی ہے۔ موٹر سائیکلوں کی فروخت میں بھی 13 فیصد کمی آئی۔ وزیر ا عظم آئے روز عوام کے لیے بڑے بڑے تعمیراتی منصوبے شروع کرنے کا اعلان کرتے ہیں، مگر 925 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں اب تک صرف 90 ارب روپے ہی جاری کیے جا سکے۔ یوں سیمنٹ، سریا اور ٹائلوں کے کاروبار میں کساد بازاری کم ہو نے میں نہیں آ رہی۔ کنٹریکٹرز کو پیسے نہ ملنے سے کنسٹریکشن انڈسٹری بھی بیٹھ چکی تو کیرج کاکا م ٹھپ ہونے سے ٹرکوں اور ٹریکٹروں کی فروخت میں گزشتہ مالی سال کے دوران 50 فیصد اور نئے مالی سال کے پہلے دو ماہ میں مزید 30 فیصد کم ہوئی ہے۔ یوں اگرایک سال پہلے اگر 100 ٹرک یا ٹریکٹر فروخت ہو رہے تھے تو اب 20 ہو رہے ہیں ۔

عمران خان کی حکومت 13.25 فیصد شرح سود مقرر کر کے لوگوں سے یہ توقع کرے کہ وہ بینکوں سے پیسہ نکال کر یا سرمایہ کار اس قدر بھار ی شرح پر قرض لیکر کاروبار میں لگائیں گے اور پھر اس پر کئی طرح کے ٹیکس بھی دیں گے تویہ بیوقوفی کا اعلٰی ترین در جہ ہوگا۔

نچلی سطح پر بھی کرپشن میں پہلے سے کئی گنا اضافہ ہوا۔ جائز کام کے ریٹس بھی دگنے ہو چکے۔ راولپنڈی شہرکے مشہور تجارتی مرکز کمرشل مارکیٹ میں سڑک پر کپڑوں کا اسٹال لگانے والے ایک نوجوان سے پوچھا، کاروبار کیسا چل رہاہے؟ کہا گزشتہ 9 سال سے یہاں کام کر رہا ہوں، اتنی مندی کبھی نہیں دیکھی۔ نئی حکومت آتے ہی تجاوزات کے نام پر کارپوریشن نے اسٹالز بند کروا دیے۔ پھر ایک ماہ بعد پیغام آیا کہ اسٹالز لگانے ہیں تو ماہانہ 2 ہزار کے بجائے بھتہ 4 ہزار روپے ہوگا۔ اب کارپوریشن والے آتے ہیں اور ہر ماہ لے جاتے ہیں۔ عید آئے تو عیدی کے نام پر 10 ہزار روپے لے جاتے ہیں۔ فرضی آپریشن سے پہلے فون کرکے بتا دیتے ہیں۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ میونسپل کارپوریشن ریڑھی اور اسٹالز والوں سے صرف کمرشل مارکیٹ سے ماہانہ 80 سے 90 لاکھ بھتہ لیتی ہے لیکن پوچھنے والا کوئی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   جہاد کا نعرہ کشمیریوں کی موت؟ حبیب الرحمن

اب عمران خان کا یہ دعوی بھی کسی کام نہ آیا کہ اوپر دیانتدار آدمی بیٹھا ہو تو نیچے کرپشن کیسے ہو سکتی ہے؟ سوال یہاں نیت کا نہیں ، اہلیت اور سمت کے درست تعین کا ہے۔ وزیراعظم کی ٹیم میں سوائے شاہ محمود قریشی کے کوئی ڈھنگ کا آدمی ہی نظر نہیں آتا۔ ٹیکنوکریٹس کی فوج بھرتی کرکے عمران خان کا مختصر ترین کابینہ کا راگ بھی ختم ہوا۔ اس مختصر کابینہ میں 24 وفاقی وزراء، 4 وزراء مملکت، 5مشیران، 15 معاونین خصوصی اور 35 پارلیمانی سیکرٹری ہیں۔ یہ پارلیمانی سیکرٹری بھی حکومتی اراکین اسمبلی ہوتے ہیں جنھیں اچھی خاصی مراعات کیساتھ ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعظم عمران خان اب تک بے شمار یوٹرن لے چکے اور اب تعجب اس لیے بھی نہیں ہوتا کہ وہ اسے بڑے لیڈرز کا فخر اور نہ لینے والے کو بے وقوف قرار دے چکے ہیں۔

حالیہ یوٹرن صنعت کاروں کو ٹیکس کی مد میں لیے 407 ارب روپے معاف کرنے سے متعلق جاری آرڈنینس کی واپسی تھی۔ جب امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سینیٹ میں عمران خان کے الفاظ ہی انھیں یاد کروائے کہ وہ ماضی کے حکمرانوں کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ ان کے باپ کا پیسہ ہے جو معاف کر دیا گیا۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی عمران خان سے یہی سوال سے پوچھا کہ کیا یہ آپ کے باپ کا پیسہ ہے جو چپ چاپ جہانگیر ترین اور ان کے دوست صنعت کاروں کو معاف کر دیاگیا؟

اب ایک بار پھر کابینہ میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ ہونے جا رہی ہے۔ دیکھتے ہیں اب کون سے ارسطو عمران خان کی بھنور میں پھنسی کشتی پار لگانے کے لیے سامنے آتے ہیں۔ کالم نگار اور تجزیہ کار ہارون رشید صاحب اکثر دو باتیں لکھتے ہیں، پہلی، کوئی بھی اس دنیا سے اٹھایا نہیں جائے گا جب تک اس کا ظاہر و باطن آشکار نہ ہو، اور دوسری، زندگی اپنی خوبیوں پر بسر ہوتی ہے، دوسروں کی خامیوں پر ہرگز نہیں۔ عمران خان دوسری بات ہی سمجھ جاتے تو شاہد حالات مختلف ہوتے، لیکن ان کے پاس اب مہلت بہت کم رہ گئی ہے۔ وقت ریت کی طرح مٹھی سے پھسل رہا ہے، انہیں ادراک ہی نہیں۔ مولانا فضل الرحمان اکتوبر میں اسلام آباد کے لاک ڈاون کے لیے آ رہے ہیں، اللہ کرے وہ آ ہی رہے ہوں، انہیں لایا نہ جا رہا ہو۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان بھی آج کل قوم کو دھرنوں سے ملکی معیشیت کو پہنچنے والے نقصانات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ حکومت نے خارجی محاذ پر کیا جھنڈے گاڑے؟ یہ کہانی پھر سہی۔