بابا بلھے شاہ کی نگری میں پھر خوف کے سائے - رانا ظفر اقبال

بابا بلھے شاہ کی نگری ، امن و سلامتی کی علامت، پنجاب کی ثقافتی پہچان قصور آج کل ایک بار پھر شہہ سرخیوں کی زد میں ہے۔ ننھی زینب کے قاتل کو سزا ملنے کے بعد دل کا ایک سکون ہو چلا تھا کہ اب ہمارے بچے محفوظ ہوگئے ہیں، ان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، لیکن شہر میں بچوں کے اغواء اور زیادتی و قتل کی دل ہلا دینے والی خبروں نے پھر سے خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

مائیں اپنے جگر گوشوں کو سینے سے لگائے پریشان ہیں کہ وہ انھیں کہاں چپھائیں جہاں وہ شیطان نہ پہنچ سکیں۔ تین بچوں جن کی عمریں دس سے گیارہ سال کے درمیان تھیں، ان کی لاشیں جھاڑیوں سے ملیں۔ زینب واقعہ کے بعد امید باندھ گئی تھی کہ اب نوعمر بچیوں اور بچوں کے ساتھ تشدد اور قتل کے واقعات رک جائیں گے، لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں ہے کہ تین چار واقعات رونما نہ ہوتے ہوں۔ چونیاں کے تہرے قتل کے ہولناک واقعات سے ملک سوگوار ہے اور عوام میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ان بچوں کے والدین کی کیفیت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

قصور میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کو 2015 ء کا سب سے بڑا سکینڈل سمجھا جا رہا ہے۔ 2006ء سے 2014ء کے دوران حسین والا ضلع قصور میں 280 سے 300 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر اْن کی ویڈیو بنائی گئی اور پھر ان ویڈیوز کی مدد سے ماں باپ کو بلیک میل کر کے لاکھوں روپے بٹورے گئے۔ واضح رہے کہ غیرسرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں ہر روز تقریباً11 بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ بچوں کے خلاف جو بڑے جرائم رپورٹ ہوئے، ان میں اغواہ کے1455 کیس، ریپ کے 502 کیس، بچوں سے بدفعلی کے453 ، گینگ ریپ کے271 کیس، اجتماعی زیادتی کے 268 ، جب کہ زیادتی یا ریپ کی کوشش کے 362 کیس سامنے آئے۔

زیادتی کے بعد 31 فیصد بچوں کو قتل کر دیا گیا۔ یقینارپورٹ پر نظر پڑتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ہمارا مستقبل، ہمارے بچے کتنے بڑے خطرے سے دوچار ہیں۔ بچوں سے زیادتی، تشدد، ریپ کیسز میں مسلسل اضافہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون بنا کر سخت ترین سزا کا اجرا کرنا ہوگا، کیونکہ جب کوئی عمل فطری، اخلاقی احساس، تعلیم و تربیت اور سماج کے دباؤ سے ماورا ہو جائے تو قانون کا خوف جرم کے سدباب کا واحد ذریعہ ہے۔ بلاشبہ معاشرتی خرابیوں کے خلاف قانون بنانے کا مقصد معاشرے کو جرائم سے پاک کرنا ہوتا ہے اگر پھر بھی حالات جوں کے توں رہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون میں کوئی پہلو ایسا رہ گیا ہے کہ جس سے جرائم کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ مغربی ممالک میں تو انٹرنیٹ پر چائلڈ پورنوگرافی کو جنسی زیادتی کا بڑا سبب قرار دیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان کے ماہرین نفسیات و سماجیات کو بھی اس کے اسباب پر روشنی ڈالنا ہو گی۔ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بچوں پر تشدد کے واقعات میں سے صرف 112مجرموں کو سزا ہوئی جن میں سے 25 مجرموں کو سزائے موت، 11 کو عمر قید اور باقی مجرمان کو دیگرسزائیں سنائی گئی تھیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کی بڑی تعداد رشتے داروں یا جان پہچان والوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے - میمونہ رحمت

ان واقعات کی روک تھام کی خاطر قوانین موجودہیں مگر بدقسمتی سے دیگر قوانین کی طرح وہ بھی کاغذوں اور فائلوں تک ہی محدود ہیں۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 اور 377 کے تحت بچوں سے زیادتی کی کم سے کم سات سال قید بامشقت اورعدالت کی مرضی کے مطابق جرمانے کی سزا ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ اس کے علاوہ ہے مگر یہ سب قوانین بے بس ہیں۔ دوسری جانب اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے کم عمری میں غلط استعمال سے معاشرے میں جنسی ہوس کا بڑھ جانا معاشرے کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہورہا ہے جس کے لئے والدین اپنی اولاد کی بہتر تربیت پر توجہ مرکوز کریں بچوں کو زیادہ زیادہ وقت دیں،بچوں اور اپنے درمیان خوف ڈر کی فضا کو ختم کر کے ان سے روز مرہ کے معمولات پر گفتگو کریں ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ بچپن میں جنسی تشدد کا نشانہ بنے ہوں وہ اس طرح کے واقعات میں زیادہ ملوث پائے جاتے ہیں ،ایسے بہت سے واقعات میں قریبی رشتہ دار ، خاص طور پر محلے دار اور جاننے والے ملوث پائے گئے ہیں ، بچوں کی بات کو توجہ سے سنیں اور کسی بھی حرکت کو فوری نوٹ کریں۔معصوم بچے اکثر محلے کی دوکانوں پر یا سکول جاتے ہوئے کسی جاننے والے یا قریبی عزیز کی باتوں کے لالچ میں آکر اْس سے تنہا ملنا جلنا شروع کر دیتے ہیں جس سے اکثر بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بن جاتا ہے والدین ایسے معاملات کو دبانے کی بجائے فوری ایکشن لیں تاکہ کسی ایک بچے کے ساتھ جرم کرنے والا مزید ایسا فعل نہ کر پائے۔ جبکہ قصور کے واقعات ہمارے معاشرے کاالمیہ ہیں۔

ایک رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا تھا کہ کہ زیادتی کے واقعات میں صرف قصور میں دس برس میں 272 کیسز ہوئے لیکن چند ملزمان کو سزا ہوئی، واقعات کی تحقیقات اثرو رسوخ کے استعمال اور پولیس کو پیسے دے کر دبا دی گئی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ زیادتی کا نشانہ بننے والے بیشتر بچے غریب، ان پڑھ اور پسماندہ خاندانوں کے ہیں، جو پیسے اور دھونس دھمکی پر دباومیں آگئے جبکہ بچوں سے زیادتی کے شرمناک واقعات میں زیادہ تر بااثر سیاستدان، دولت مند اور پڑھے لکھے افراد ملوث نکلے۔اور اس بات کا انکشاف بھی ہوا کہ زیادتی کے واقعات کی بڑی وجہ منشیات کا استعمال، جسم فروشی، فحش فلمیں ہیں ۔ عام طور پر بچوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے، 2018 ء میں بچوں سے زیادتی کے صرف 250 سے زائدکیس درج ہوئے ۔خیال رہے زینب قتل کیس پاکستان کی تاریخ کا سب سے مختصرٹرائل تھا، جو چالان جمع ہونے کے سات روز میں مکمل کیا گیا تھا۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق بچوں کا ریپ کرنے والے افراد میں کافی مماثلتیں پائی جاتی ہے، مثلاً اْن کی عمریں 13 سے 25 سال کے درمیان ہیں اور یہ پورن ویڈیوز دیکھتے ہیں اور اپنی تصوراتی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے چھوٹے بچوں کا چناؤ کرتے ہیں۔ یہ افراد بچوں پر تشدد کرنے اور انہیں اذیت دینے سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ مغربی ممالک میں ایسے لوگوں کی سزا عام مجرموں سے زیادہ لمبی اور سخت ہوتی ہے کیونکہ عدالت انہیں ذہنی امراض کے ہسپتالوں میں بھیج دیتی ہے جہاں وہ ساری عمر گزارتے ہیں اور ایسی ادویات استعمال کرتے ہیں جو ان کی جنسی خواہشات ختم کردیتی ہیں۔یا پھر تمام عمر ہسپتال میں ہی گزار دیتے ہیں۔