ریڈ بُل - خالد ایم خان

بہت سال پہلے میں نے ایک کالم امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والی سرد جنگ کے حوالے سے تحریر کیا تھا ، جس کو بے انتہا پزیرائی ملی دونوں ملک دنیا کی دو طاقتو ر ترین قوتیں مانی جاتیں تھیں ،ایک سے بڑھ کر ایک ، دنیاوی معملات ہوں یاکے پھرخلائی ٹیکنالوجی میں مہارت دونوں ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لیئے سر دھڑ کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے .

اور بلکل ہمارے آج کے ٹی وی چینلوں کی طرح پوری دنیا کے آگے سب سے پہلے ہم ،، جی ہاں ،، سب سے پہلے ہم ، کی گردان کرتے نظر آتے تھے ، دونوں دنیا کے دیگر تمام ممالک کے لیئے وہ بگڑے ہوئے سانڈھ تھے جو جس پر چڑھ دوڑتے تھے اُس کو تھس نہس کردیتے تھے ، وقت کا دھارا بدلنا تھا ایک لال سانڈ(ریڈ بُل )سوویت یونین کے اُس وقت کے صدر Leonid Brezhnev گرم پانیوں کے حصول کی خاطر پاکستان میں گوادر پر نظرے جمائے افغانستان پر چڑھ دوڑے ،جس پر اُس وقت کے پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل ضیاالحق صاحب کو پریشانی لاحق ہوئی اور یہ ایک فطری عمل تھاکیوں کہ ہماری مشرقی سرحدوں پر ہندوستانی شروع دن ہی سے ہماری گھات میں لگے نظرآتے تھے ہمیشہ موقع کی تلاش میں دکھائی دیتے تھے کہ کہیں کسی جگہ سے کچھ ہو اور پیچھے سے ہم ان کی کمر میں اپنا خنجر پیوست کریں ، لیکن ہر بار کی طرح ہمیشہ ناکامی ان کا مقدر ٹہرتی ہے ۔ جنرل اخترعبدلراحمن اور جنرل ضیاالحق کے اعلیٰ دماغوں نے پاکستان کی بقا ء کی خاطر پلاننگ کی اور ایک ایسی پلاننگ کی کہ جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ایک وقت ایسا بھی آیا کہ روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور امریکیوں سمیت پوری دنیا انگشت بدنداں رہ گئی ۔ امریکہ میں جشن منائے گئے کیوں کہ پاکستان صرف او ر صرف پاکستان کی بدولت امریکہ بہادر دنیا کا بشرط غیرے تن تنہا حکمران بن گیا تھا .پوری دنیا کی واحد سُپر پاور ہونے کا خمار ابھی ٹھیک طرح سے اُترا نہیں تھا کہ یہودیوں نے آکر رنگ میں بھنگ ملا دی ، ناچتے گاتے امریکیوں کو سانپ سونگھ گیا،ظاہر ہے اُن کے لیئے اتنا کافی تھا کہ جو ملک قریب بیٹھے طاقت کے نشے میں چور روس کا گھمنڈ خاک میں ملا سکتا ہے تو تم کھیت کی مولی ہو وہ دن ہے اور آج کا دن ،،،،،

وہ کونسے جتن ہیں جو ملک خداداد پاکستان کو تباہ وبرباد کرنے کی خاطرامریکیوں نے نہیں کیئے ، آج تک ہر حربہ استعمال کیا گیا ہے، ڈومور ڈومورکی آوازیں آج بھی ہمیں یادہیں ، نائین الیون کے بعد کھیلا جانے والا اسرائیلی اور امریکی ڈرامہ آج اپنے پورے جوبن پر نظرآرہا ہے ، افغانستان! ۔ جہاں کھیل سج چکا ہے،افغانستان میں کابل کے تاریخی میوزیم میں مجھے امریکی ،اسرائیلی اور ہندوستانی فوجیوں کے حنوت شدہ مجسمے دکھائی دے رہے ہیں ، انشاء اللہ ۔ پاکستان آج دنیا کے ان تین ایڈئیٹس کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے ۔ جسکا اندازہ آپ لوگوں کو اقوام متحدہ کے لیئے ہونے والے اجلاس کے باہر ہو رہا ہوگا ،جناب وزیر عظم عمران خان صاحب اسلام ،پاکستان اور کشمیر کی جنگ صیہونیت کے ہر بازار میں یہودیوں اور ہندوؤں کے سامنے لڑتے دکھائی دے رہے ہیں ، براوو،،خان صاحب ،،براوو ۔آپ نے ثابت کردیاے کہ آپ اس ملک کے اصل لیڈر ہیں،امریکی جان گئے ہیں کی ہمارا پالا کسی مسٹر زرداری یا کسی مسٹر نواز شریف سے نہیں بلکہ ایک اصل لیڈر سے پڑا ہے جو اُن کے ساتھ اُن ہی کی زبان میں بات کرنے کا ہنر اچھی طرح جانتا ہے . اس لیئے مجھے ایسامحسوس ہوتا ہے کہ (ریڈ بُل ) ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی بیوکوفیوں کے بعداب امریکی بڑے سوفٹ انداز میں خان صاحب کا سامنا کریں گے اب امریکیوں کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی ہے کیوں کہ افغانستان میں اُن کی تمام افواج کی بقا ء کا دارومدار پاکستان کے ہاتھوں میں ہے دیکھنا یہ ہے کہ 27-9 کی خان صاحب کی جنرل اسمبلی کی تقریر کیسی ہو گی اور اُس پر امریکی ریڈ بُل کا جواب اور ردعمل کیا ہو گا ۔