’دیودار‘ کا داشتہ سے کیا تعلق ہے؟۔۔۔عبدالخالق بٹ

کلیم الدین سے ہماری دوستی ربع صدی پرانی ہے۔شخصیت میں توازن اور طبیعت میں تواضع ان کی پہچان ہے۔موصوف کم عمری ہی سے ’فارغ البال‘ ہیں، اس لیے انہیں اکثر پتہ نہیں چلتا کہ منہ کہاں تک دھونا ہے اور مسح کہاں تمام کرنا ہے۔خیر سے ڈبل ایم۔اے کرنے کے بعد ڈبل حج بھی کرلیا ہے۔ ایسے میں ہمارے لیے فیصلہ مشکل ہوگیا ہے کہ وہ صوفی بڑے ہیں یا صحافی۔
ایک دن کہنے لگے :’ اگر ضیائ الدین کا مطلب ’دین کی روشنی‘ ہے اور قمرالدین کا مطلب ’دین کا چاند‘ ہے تو کیا کلیم الدین کے معنی ’دین کا کلام‘ ہیں؟۔۔۔۔ہمیں تو یہ نام اور اس کے معنی سمجھ نہیں آئے‘۔
ہم نے کہا ’جس ’ڈائریکشن‘ میں آپ جا رہے ہیں اس کےمطابق تو ’کلیم الدین‘ کے معنی واقعی عجیب معلوم ہوتے ہیں۔مگر ہمارا محتاط اندازہ ہے کہ کلیم الدین کا مطلب ’دین کا ترجمان‘ ہے۔الحاج ہونے کے بعد یہ نام آپ کو ’سوٹ‘ بھی کرتا ہے کہ اب آپ ’اسم بامُسمّیٰ‘ ہوگئے ہیں‘۔
بولے: یہ ’اسم بامُسمّیٰ‘ کیا ہوتا ہے؟‘
’ اس کا مطلب ہے ’جیسا نام ویسا کام‘ مثلاً ایک مشہور درخت کو خوب بلند و بالا ہونے کی وجہ سے ’دیو دار‘ کہتے ہیں۔اس میں’دیو‘ وہی ہے جسے انگریزی میں giant کہتے ہیں۔عربی زبان میں اس درخت کو ’شجرۃ الجن‘ کہتے ہیں جو اس ’دیودار‘ کا لفظی ترجمہ ہے۔ جب کہ ’دار‘ درخت کو کہتے ہیں۔کچھ لوگ اسے ’دیو دار کا درخت‘ بھی کہتے ہیں،ظاہر ہے کہ ’دار‘ کے معنی ہی درخت کے ہیں ایسے میں ’درخت‘ بولنا یا لکھنا اضافی ہے۔
اپنے ’بے ریش‘ سرپر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے : ’مگر ’دار‘ پر تو پھانسی دی جاتی ہے۔وہ فیضؔ نے کہا ہے ناں :’دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے‘۔
ہم نے کہا: ’پہلی بات تو یہ سمجھ لو کہ ایک لفظ کے ایک سے زیادہ معنی ہوسکتے ہیں۔دوسری بات یہ کہ جملے کا سیاق و سباق بتاتا ہے کہ لفظ کس معنی میں استعمال ہوا ہے۔یہی کچھ ’دار‘ کے ساتھ بھی ہے۔
ایک ’دار‘ عربی زبان کا ہے جس کے معنی میں ’گھر، محلہ اور مقام‘ وغیرہ داخل ہیں۔جسے دارالحکومت، دارالمطالعہ، دارالصحت، درالاسلام اور دارالامان وغیرہ۔
اتنا سنتے ہی بولے: ’ پھر تو ’دارِارقم‘ کہنا درست نہیں اسے تو ’دارالارقم‘ ہونا چاہیے کیونکہ ’دارِ ارقم‘ کا مطلب تو ’ارقم کا پھانسی گھاٹ‘ ہوا۔
ہم نے کہا: عربی قاعدے کے مطابق تو ’دارالارقم‘ ہی درست ہے تاہم اگر ان عربی الفاظ کو فارسی ترکیب میں بیان کریں تو پھر’دارِ ارقم‘ کہہ سکتے ہیں۔ اب ذرا ’دارِ فانی‘ کی ترکیب پر غور کرو، آپ کے اعتراض کے مطابق تو اسے ’دارالفانی‘ ہونا چاہیے مگر ایسا نہیں ہے۔روز مرہ میں اسے ’دارِ فانی سے کوچ کرنا ‘ ہی بولا اور لکھا جاتا ہے۔
پہلے عالم استغراق میں سر ہلاتے رہے پھر یک دم بولے : ’او کے‘۔
ہم نے کہا: ’ لگے ہاتھوں عربی الفاظ کے فارسی استعمال پر ایک واقعہ بھی سن لو۔۔۔ایک مولانا سے ان کے دو معتقدین ملنے آئے۔ اتفاق سے دونوں کا نام ’جان محمد‘ تھا۔مولانا نے انہیں ایک ساتھ دیکھا تو خوشی سے پکارا ’ آہا۔۔۔جانانِ محمد‘۔۔۔ یہ سنتے ہی اُن کے قریب بیٹھے ایک صاحب نے تصحیح کی: ’ مولانا عربی قاعدے کے مطابق درست ’جانینِ محمد‘ ہے۔ مولانا جھٹ بولے: ’میں نے فارسی قاعدے کے مطابق کہا ہے‘۔
بات درست بھی ہے کہ فارسی میں ’جان‘ کی جمع ’جانان‘ ہے۔ایسے میں اس کے عربی اصولِ جمع پر اصرار نامناسب ہے۔
بال پوائنٹ سے کمر کھجاتے ہوئے بولے: ’موضوع پر آؤ ‘۔
فارسی ’دار‘ کے معنی میں ’درخت، لکڑی ، لکڑی کا ٹکڑا اور سولی یا صلیب‘ داخل ہیں۔غور کرو تو حقیقت میں سب ’درخت‘ ہی سے متعلق ہیں۔ ایک درخت کی چھال جو میٹھی ہوتی ہے اسے ’دار چینی‘ کہتے ہیں۔یہاں لفظ ’دار‘ لکڑی اور لکڑی کا ٹکڑا، دونوں معنی ادا کررہا ہے۔ رہی بات ’سولی‘ کی جسے فیضؔ نے ’دار‘ کہا ہے تو وہ بھی لکڑی سے متعلق ہے۔خود ’دار کی خشک ٹہنی‘ اسی جانب اشارہ کر رہی ہے۔
اتنا سن کر چہک اٹھے : ’ اگر یہ بات ہے تو ’مال دار، وضع دار اور رشتے دار‘ وغیرہ میں بطور لاحقہ آنے والے ’دار‘ کے کیا معنی ہیں؟‘
’یہ ’دار‘ بھی فارسی کا ہے‘ ۔۔۔ ہم نے کہا اور بات آگے بڑھائی۔۔۔’ بطور لاحقہ آنے والا ’دار‘ فارسی مصدر ’داشتن‘ سے نکلا ہے۔ ’داشتن‘ کا مطلب ہے ’ رکھنا ‘ اور ’دار‘ کا مطلب ہے ’رکھنے والا‘۔ اس لیے ’مال دار‘ کا مطلب ہوا ’مال رکھنے والا ‘۔
آنکھ مار کر بولے: ’ یہ ’داشتن‘ کا ’داشتہ‘سے کیا رشتہ ہے؟‘
ہم ہنسے، تو فوراً سنجیدہ ہوگئے : ’ سوال علمی ہے اسے ہنسی میں مت اڑاؤ‘۔
ہم نے عرض کیا: لفظ ’داشتہ‘ بھی ’داشتن‘ ہی سے نکلا ہے اور اس کے معنی ہیں ’رکھا ہوا ‘۔مجازاً ایسی عورت کو ’داشتہ‘ بولتے ہیں جسے زن و شوئی کے تعلق کے لیے بغیر نکاح کے ’رکھا ‘ہو۔ ہندی زبان کی رعایت سے اردو میں اس ’داشتہ‘ کا لفظی ترجمہ ’رَکھیل‘ ہے جو ہندی مصدر ’ رکھنا ‘ سے نکلا ہے۔بات یہیں تمام نہیں ہوئی لفظ ’ رکھنا ‘ کو انگریزی میں ’ Keep‘کہتے ہیں ان معنوں میں یہ Verb ہے، مگر یہی ’ Keep‘ جب Noun ہوتا ہے تو اس کے معنی ’داشتہ اور رَکھیل‘ ہوجاتے ہیں۔
ساری بات چسکے لے کر سنتے رہے پھر اچانک بولے: ’ لاحول ولا قوۃ ۔۔۔ یار تم نے تو گھڑی کے گھڑی میں ’ ریشم گلی ‘ پہنچا دیا، اپنی عمر کا نہیں تو میری شرافت کا خیال کرلیا کرو‘۔۔۔۔اتنا کہا اور ہمیں ہکا بکا چھوڑ کر وضو کرنے چل دیے۔
بشکریہ اردونیوز

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.