متحدہ عرب امارات میں پہلی باقاعدہ یہودی عبادت گاہ

متحدہ عرب امارات میں پہلی مرتبہ باقاعدہ یہودی عبادت گاہ (سیناگوگ) تعمیر کی جائے گی۔ اماراتی سرکاری نیوز ایجنسی وام کا کہنا ہے کہ یہ سیناگوگ ایک بڑے کمپلیکس میں تعمیر کیا جائے گا جہاں ایک گرجا گھر اور ایک مسجد بھی تعمیر ہوگی۔

ابوظہبی میں تعمیر کیے جانے والے اس کمپلیکس کو ’ابراہمک فیملی ہاؤس‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد ابراہیمی مذاہب کی عبادت گاہوں کو ایک جگہ تعمیر کرنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس عبادت گاہ کی تعمیر کا کام اگلے برس شروع ہوگا اور یہ منصوبہ 2022 تک تکمیل پائے گا۔ ابراہمک فیملی ہاؤس کو ابوظہبی کے سعدیات جزیرے پر تعمیر کیا جائے گا۔ ابراہمک ہاؤس بنانے کا اعلان نیویارک میں ’انسانی بھائی چارے کی ہائیر کمیٹی‘ کے اجلاس میں کیا گیا جہاں متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے خارجہ امور اور بین الاقوامی تعاون شیخ عبدالله بن زاید النہیان اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ رواں برس فروری میں پاپائے روم کے جزیرہ نما عرب کے پہلے دورے کے موقع پر اس منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا۔ مسلمانوں کی اکثریت والا ملک متحدہ عرب امارات اپنے آپ کو مختلف مذاہب کے لیے برداشت اور قبولیت کے تشخص کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔ ابوظہبی حکومت کے مطابق متحدہ عرب امارات میں تمام ثقافتوں اور مذاہب کے لیے مکمل آزادی موجود ہے۔ تاہم یہ بات بھی واضح ہے کہ مقامی حکومت ملکی حکم رانوں پر تنقید یا ملکی پالیسیوں سے اختلاف کی اجازت نہیں دیتی اور انسانی حقوق کے درجنوں کارکنان مختلف اماراتی جیلوں میں قید ہیں .

گو کہ یہ سیناگوگ متحدہ عرب امارات میں یہودیوں کی پہلی باقاعدہ عبادت گاہ ہو گا، مگر متحدہ عرب امارات میں یہودیوں کی ایک بہت قلیل تعداد آباد ہے، جو دبئی میں نجی طور پر ایک مکان کو اپنی عبادات کے لیے استعمال میں لاتی ہے۔ غیرمسلموں کے لیے تاہم اس وقت چرچوں کے علاوہ ایک ہندو مندر اور سکھوں کا ایک گردوارا تعمیر کیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں زیادہ تر غیرملکی ملازمت پیشہ ہیں کرتے ہیں اور ان غیرملکیوں میں سب سے بڑی تعداد بھارتی شہریوں کی ہے۔ ابوظہبی میں قائم بھارتی سفارت خانے کے مطابق اس وہ متحدہ عرب امارات میں بسنے والے بھارتی شہریوں کی تعداد دو اعشاریہ چھ فیصد ہے، جو اس ملک کی مجموعی آبادی کا 30 فیصد بنتی ہے۔گو کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں، تاہم متعدد اسرائیلی سیاست دان مختلف بین الاقوامی تقاریب میں شرکت کے لیے متحدہ عرب امارات کا دورہ کر چکے ہیں۔