شام کے سیاسی ایوانوں میں جگہ بنانے والا اسرائیلی جاسوس

تم خط کسے لکھ رہے ہو یہ این کون ہے؟

کچھ بھی تو نہیں بس ایسے ہی این سے نادیہ، میں کبھی کبھی وقت گزارنے کے لیے یہ سب لکھتا رہتا ہوں۔

یہ نادیہ کون ہے ؟

نادیہ میری بیوی کا نام ہے۔ لیکن مجھے لگا تھا تمہاری شادی نہیں ہوئی۔

کامل کی شادی نہیں ہوئی لیکن ایلی کی شادی ہوئی ہے۔

ایلی کوئی نہیں۔

مجھے کبھی کبھی اکیلا پن محسوس ہوتا ہے جس کی وجہ سے میں لکھتا ہوں، کامل کو کبھی اکیلا پن محسوس نہیں ہوتا۔

یہ کوئی کھیل نہیں ہے کامل اور نہ ہی کوئی کردار جو تم ادا کر رہے ہو۔ یا تو تم کامل ہو یا پھر مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔

جولیا غصے میں اس شخص کی گردن دبوچ کر کھڑی ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی دھمکی بھی دیتی ہے کہ مجھے اس بارے میں اپنے اعلیٰ افسران کوخبر دینی ہوگی۔

کامل سمجھ جاتا ہے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے۔

خط آگ میں جل کر راکھ ہو گئے اور ساتھ ہی نادیہ سے وابستہ ارمان بھی اور ایلی نے ایک بار پھر کامل کا جامہ پہن لیا۔


حال ہی میں نیٹ فلکس پر چھ قسطوں کی ایک سیریز'دی سپائی' نشر ہوئی اور اس سیریز کی ایک قسط کا یہ منظر ایک عام انسان کے جاسوس بننے اور پھر واپس ایک عام انسان بننے کی چاہت اور ضرورت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایلی یا کامل، کامل یا ایلی، اسرائیلی یا شامی، جاسوس یا کاروباری۔

کہانی چاہے فلمی لگ رہی ہو لیکن ایلیاہو بین شال کوہن کی زندگی کچھ اسی طرح ہنگامہ خیز تھی۔

انہیں اسرائیل کا سب سے بہادر جاسوس بھی کہا جاتا ہے۔ وہ جاسوس جس نے نہ صرف چار سال شام میں دشمنوں کے درمیان گزارے بلکہ وہاں اقتدار کے ایوانوں میں بھی ایسے تعلقات بنائے اور اعلیٰ سطح تک پہنچنے میں بھی کامیاب رہے۔

'دی سپائی ' سیریز میں دکھایا گیا ہے کہ کوہن کامل بن کر شامی صدر کے اس قدر نزدیک پہنچ گیا تھا کہ وہ شام کے نائب وزیر دفاع بننے جا رہا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ کوہن کی جانب سے ملنے والی خفیہ اطلاعات 1967 کی عرب اسرائیلی جنگ میں اسرائیل کی جیت میں اہم ثابت ہوئی تھی۔

مصر میں پیدا ہونے والے ایلی اسرائیل کیسے پہنچے۔ ایلی کی پیدائش 1924 میں مصر کے شہر الیگزینڈریا میں ایک شامی یہودی خاندان میں ہوئی تھی۔ انکے والد 1914 میں شام کے شہر حلب سے یہاں آکر آباد ہوئے تھے ۔ جب اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تو مصر کے کئی یہودی خاندان وہاں سے نکل گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   عرب اور مغربی میڈیا اور ترکی کے حالات - عالم خان


1949 میں کوہن کے والدین نے بھی یہی فیصلہ کیا اور اسرائیل جا کر بس گئے لیکن کوہن الیکٹرانکس کی تعلیم حاصل کر رہے تھے اس لیے انہوں نے مصر میں رہ کر اپنی تعلیم مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسائیکلو پیڈیا بریٹینیکا کے مطابق عربی، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں پر غصب کا عبور رکھنے والے کوہن میں اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کی دلچسپی پیدا ہوئی۔

1955میں کوہن جاسوسی کا چھوٹا سا کورس کرنے اسرائیل گئے اور پھر واپس مصر آ گئے۔


سوئز بحران کے بعد دوسرے لوگوں کے ساتھ انہیں بھی مصر سے نکال دیا گیا اور 1957 میں وہ اسرائیل آگئے۔

یہاں آنے کے دو سال بعد ان کی شادی نادیہ مجالد سے ہوئی جو عراقی یہودی تھیں۔

1960 میں خفیہ ایجنسی میں بھرتی ہونے سے پہلے انہوں نے بطور مترجم اور اکاؤنٹنٹ کام کیا۔

ارجنٹینا سے سوئزر لینڈ اور شام تک کا سفر
1961 میں باقی کی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد کوہن ارجنٹینا کہ شہر بیونس آئرس پہنچے جہاں انہوں نے بطور شامی شہری اپنا کاروبار شروع کیا۔

کامل امین تھابت بن کر کوہن نے شامی باشندوں کے درمیان تعلقات بنائے اور جلدی ہی شامی سفارت خانے کام کرنے والے اعلیٰ اہلکاروں سے دوستی کر کے انکا اعتماد حاصل کر لیا۔

ان میں شامی ملٹری اٹیچی امین الحافظ بھی شامل تھے جو بعد میں شام کے صدر بنے۔


کوہن نے اپنے نئے دوستوں میں یہ پیغام پہنچا دیا تھا کہ وہ جلد از جلد شام واپس جانا چاہتے ہیں۔ 1962 میں جب انہیں دمشق جانے کا موقع ملا تو ارجنٹینا میں انہوں نے جو تعلقات بنائے تھے ان کی مدد سے انہیں شام میں اقتدار کے ایوانوں میں زبردست رسائی حاصل ہوئی۔

قدم جمانے کے فوراً بعد انہوں نے شامی فوج سے وابستہ اہم خفیہ معلومات اسرائیل تک پہنچانی شروع کر دیں۔

کوہن کی جاسوسی کی کوششیں اس وقت بہت اہم تھیں۔ 1963 میں شام میں اقتدار بدلا۔ باتھ پارٹی کو اقتدار ملا اور اس حکومت میں بہت سے ایسے لوگ تھے جو ارجنٹینا میں کوہن کے اچھے دوست رہے تھے۔

کوہن شامی صدر کے قریب ہو گئے

شام میں تختہ الٹنے کی قیادت امین الحفیظ نے کی اور وہ صدر بنے۔ کوہن حافظ کے بہت قریب تھے اور ایسا کہا جاتا ہے کہ امین کوہن پر اتنا اعتبار کرتے تھے کے انہیں نائب وزیر دفاع بنانا چاہتے تھے۔

کوہن کو نہ صرف فوج کی خفیہ میٹنگوں میں رہنے کی اجازت تھی بلکہ انہیں گولان کی پہاڑیوں میں شامی ٹھکانوں کا دورہ بھی کروایا گیا۔ اس دور میں گولان کی پہاڑیوں کے حوالے سے شام اور اسرائیل کے درمیان کافی کشیدگی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   امن کے علمبردار ہی عالمی امن کے دشمن - رانا اعجاز حسین چوہان


'دی سپائی' سیریز میں ایک واقعہ دکھایا گیا ہے کہ کوہن شامی فوجیوں کو گرمی سے راحت کے لیے یوکلپٹس کے درخت لگانے کا مشورہ دیتے ہیں اور یہ درخت لگا بھی دیے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 1967 کی جنگ میں ان درختوں اور گولان کی پہاڑیوں کے بارے میں بھیجی جانے والی خفیہ معلومات نے اسرائیل کےہاتھوں شام کی شکست کی بنیاد رکھی تھی۔ انہیں درختوں کی وجہ سے اسرائیل کو شامی فوجیوں کے ٹھکانوں کا پتہ لگانے میں مدد ملی تھی۔

ایلی کیسے پکڑے گئے؟
جاسوسی پر زبردست پکڑ کے باوجود ان میں لا پرواہی کا عنصر بھی شامل تھا اور انکے پکڑے جانے کی وجہ بھی یہی بنی۔ انہیں بار بار متنبہ کیا جاتا تھا کہ وہ زیادہ روانی سے ریڈیو ٹرانسمیشن نہ کریں لیکن کوہن پرواہ نہیں کرتے تھے۔

جنوری 1965 میں شام کے انٹیلی جنس افسران کو ان کے ریڈیو سگنل کی بھنک مل گئی اور انہیں ٹرانسمیشن بھیجتے وقت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

کوہن سے پوچھ گچھ کی گئی، ان پر مقدمہ چلایا گیا اور سزائے موت سنائی گئی۔ 1966 میں کوہن کو کھلے عام ایک چوراہے پر پھانسی دیدی گئی۔

اسرائیل نے پہلے انکی پھانسی کی سزا معاف کروانے کےلیے عالمی سطح پر مہم چلائی لیکن شام نے انکار کر دیا۔ کوہن کی پھانسی کے بعد اسرائیل نے انکی لاش مانگی لیکن شام نے اس سے بھی انکار کر دیا۔


53 سال بعد ملی ایلی کی گھڑی
ایلی کی موت کے 53 سال بعد 2018 میں کوہن کی گھڑی اسرائیل کو ملی ہے۔ اسرائیل کے قبضے میں یہ گھڑی کب اور کہاں سے آئی، اس کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ محض اتنا بتایا گیا کہ موساد کے ایک خاص آپریشن میں اس گھڑی کو حاصل کیا گیا ہے۔ اس گھڑی کے ملنے پر اسرائیلی وزر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا تھا کہ 'میں اس جرت مند آپریشن کے لیے موساد پر فخر کرتا ہوں'۔

اس آپریشن کا مقصد کوہن جیسے عظیم سپاہی سے وابستہ کوئی نشانی اسرائیل لانا تھا جس نے اپنے ملک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اہم کردا ادا کیا ہے۔

کوہن کی گھڑی ایک تقریب میں انکی بیوہ نادیہ کے سپرد کر دی گئی۔ نادیہ نے اسرائیلی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'مجھے لگ رہا ہے کہ جیسے میں انکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں محسوس کر رہی ہوں، ایسا احساس ہوا کہ جیسے انکا ایک حصہ ہمارے ساتھ ہے۔‘