تقریر تو اچھی، بہت اچھی تھی - فیض اللہ خان

تقریر تو اچھی، بہت اچھی تھی کوئی کلام نہیں۔ بےشک اسلامی دنیا کی قیادت سے ایسی تقاریر شاذ و نادر ہی سننے کو ملیں، اردگان یا چند دیگر کے استثنی کے ساتھ۔ عمران کی تقریر صدر زرداری کے اس خطاب سے کروڑ ہا درجے بہتر تھی جس میں وہ بی بی محترمہ کا فوٹو ڈائس پہ لگا کر عالمی رہنماؤں کی ہمدردیاں سمیٹتے نظر آئے یا مشرف کی مغرب و امریکا کی چاپلوسی پہ مبنی تقاریر، جس میں اس کا منشاء اپنے اقتدار کے طول کی بھیک کے سوا کچھ نہ ہوتا یا پھر نواز شریف کی ڈری سہمی بے جان و بے ربط سی تقریر۔

تقریر ہوگئی کشمیر کا کیا ہوگا؟ آزادی کیسے ملے گی؟ تقاریر سے معاملہ نمایاں ہوتا ہے، آزادی نہیں ملتی۔ عمران خان نے بہترین صلاحتیوں کے مطابق اپنے حصے کا کام کر دیا۔ بقیہ ذمہ واری جنرل باجوہ اور ٹیم کی ہے کہ وہ کب کشمیر میں محدود پیمانے پہ جنگ چھیڑتے ہیں تاکہ دنیا ان تقاریر کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور حل کی طرف پیش رفت ہو۔

آپ جنگ نہیں چاہتے، ٹھیک، لیکن پلواما جیسا ممبئی جیسا اس سے ملتا جلتا کم یا زیادہ ہند و کشمیر میں ہوکر رہے گا عالمی جہادی اپنے ایجنڈے کے مطابق کشمیر میں قدم جما چکے، اس کے بعد کیا ہوگا؟ مودی چین سے نہیں بیٹھے گا کچھ تو کرے گا۔ ایسے حالات میں بہترین دفاع حملہ ہی رہ جاتا ہے۔ ایٹمی جنگ کا کوئی خطرہ نہیں مودی پاگل ہے مگر اتنا بھی نہیں کہ یہ آپشن استعمال کرے ، ہم تو ویسے بھی نہیں کرنے والے۔ شیند ہے کہ پاکستان پہ ایران کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا دباؤ ہے، دوسری صورت پھر ہند سے جنگ ہے۔ اپنے آگے کھائی، پیچھے کنواں ہے فیصلہ ہم نے کرنا ہے۔

یمن جنگ سے اب تک بچنے کی کوشش کی ہے۔ میری ناقص رائے ہے کہ ایران و ہند میں سے کسی ایک سے جنگ کرنی پڑ جائے تو ہند ہی اچھا آپشن ہے۔ کیونکہ اس میں قومی تعصب کے ساتھ غزوہ ہند کا تڑکہ بھی حسب ذائقہ کم زیادہ کیا جاسکتا ہے {گو کہ جنگ کبھی بھی اچھی چیز نہیں رہی } ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت ملک کو اسی جہنم میں دھکیل دے گی، جیسا کہ افغانستان پہ حملے میں معاونت کے بعد ہوا، اپنے دیس کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں موجود سعودی عرب و ایران کے چاہنے والے پاکستان سے زیادہ سعود و فارس کے وفادار ہیں { اسلامی اصول کسے یاد ہیں}۔ خدا نخواستہ اس لڑائی میں شمولیت کے بعد پاڑہ چنار تا کراچی تباہی مچ جائے گی، شام و عراق میں جنگ لڑنے والے حزب اللہ کے ہزاروں تربیت یافتہ پاکستانی اہل تشیع یہاں موجود ہیں، سوچیں وہ جنگ پاکستان کو کہاں لے جائے گی؟ کبھی کبھی اس خیال کی تائید کا من کرتا ہے کہ بانی پاکستان عجلت میں تقسیم پہ راضی نہ ہوتے تو کشمیر سلگتا۔ حیدر آباد دکن قبضے میں جاتا نا ہی جونا گڑھ والے روتے یا شاید تقسیم ہی ٹھیک نہ تھی۔ بہرحال ماضی پہ کیا کہنا سننا۔ حال و مستقبل کی فکر اہم ہے۔

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.