فرقہ واریت کے اندھیرے اور وحدت کا چراغ- خورشید ندیم

ان شیعہ علما کے لیے بہت دعا جنہوں نے فتنے کا بر وقت ادراک کیا اور اہلِ فساد سے اعلانِ برات کرتے ہوئے، معاشرے کو خلفشار سے محفو ظ رکھا۔ محترم افتخار حسین نقوی صاحب کا صوتی پیغام میرے فون پر موجود ہے۔ ایک سے زائد بار سن چکا اور ان کے لیے دستِ دعا بلند کر چکا۔
اِس فتنے کا ایک ظہور بھارت سے ہوا لیکن ان کے بہت سے مظاہر وہ ہیں جن کا ماخذ وہ مقامی جاہل مقررین ہیں، منبر و محراب جن کو سونپ دیے گئے اور وہ لگے فتنہ پھیلانے۔ جسارت کا یہ عالم ہے کہ رسالت مآبﷺ کا موازنہ غیر انبیاء سے ہونے لگا اور معاذاﷲ، ثم معاذاﷲ غیر نبی کو رسول اﷲ سے افضل ثابت کیا جانے لگا۔ اس کے ساتھ صحابہ کرام اور امہات المومنین اس مہم کا خصوصی ہدف ہیں۔ اثباتِ امامت کے نام پر وہ فساد برپا ہے کہ الامان والحفیظ۔ سوشل میڈیا نے حسبِ روایت ہوا دی اور شیعہ علما مداخلت نہ کرتے تو قریب تھا کہ اس چنگاری سے آگ بھڑک اٹھتی۔ وہ کچھ کہا گیا کہ دھیما مزاج رکھنے والوں کے لیے بھی دل و جگر کو تھامنا مشکل ہو گیا۔
بھارت میں وسیم رضوی نام کے ایک شخص نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی حیاتِ مبارکہ پر فلم بنانے کا اعلان کیا۔ اس سے مقصود سنی شیعہ فساد برپا کرنا تھا۔ جسٹس (ر) سید منظورحسین گیلانی ایک سنجیدہ صاحبِ علم و فضل اور اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن ہیں۔ ان کی تحقیق یہ ہے کہ مودی سرکار اس منصوبے کی پشتی بان ہے جن کے مشیر سلامتی 'ہندوتوا‘ کے تصور کو فروغ دینے کے لیے، مسلمانوں میں فرقہ وارانہ فساد پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ لکھنو کے علما کو خبر ملی تو انہوں نے فی الفور وسیم رضوی سے اعلانِ لا تعلقی کیا اور اس حرکت کی مذمت کی۔

اس کی صدائے بازگشت پاکستان میں بھی سنی گئی۔ اس سے پہلے کہ جہلا کی خرافات پر سنی علما کسی ردِ عمل کا اظہار کرتے، شیعہ علما میدان میں نکلے۔ علامہ افتخار حسین نقوی، علامہ عارف حسین واحدی اور ثاقب اکبر جیسے علما و سکالرز نے اس کی اعلانیہ مذمت کی۔ اسلام آباد کے جامعہ الکوثر میں بہت سے شیعہ علما جمع ہوئے اور انہوں نے ایسی جاہلانہ حرکتوں سے اعلان برات کیا۔ یہی نہیں شیعہ علما اس سے ایک قدم آگے گئے۔ انہوں نے ایسے جاہل ذاکروں کے خلاف مقدمات درج کرائے جو توہین صحابہ اور توہینِ امہات المومنین کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان کو یہ شکایت ہے کہ مقدمات کے اندراج کے باوجود ایسے فسادیوں کے خلاف قانون حرکت میں نہیں آیا اور وہ دندناتے پھر رہے ہیں۔

علامہ افتخار حسین نقوی، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور معاصر شیعہ علما میں ممتاز تر ہیں۔ انہوں نے اپنے صوتی پیغام میں دو اور دو چار کی طرح یہ بتایا ہے کہ ام المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہؓ کی توہین دراصل توہین رسالت ہے کہ وہ رسول اﷲ کی آبرو ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس توہین کا مرتکب اسلام کے دائرے سے باہر ہے کیونکہ امہات المومنین کی شان خود قرآن مجید نے بیان کی ہے اور اس میںکوئی استثنا نہیں۔ انہوں نے بغیر کسی ابہام کے یہ بتایا ہے کہ شیعہ مجتہدین کا یہی موقف ہے اور آئمہ اہلِ بیت کے اقوال میں بھی یہی بات نقل ہوئی ہے۔ اس بروقت اور واضح اقدام کے بعد کوئی وجہ نہیں کہ جاہل مقررین کو اہلِ تشیع کا نمائندہ سمجھا جائے اور ان کے خرافات کو شیعہ طبقے سے فی الجملہ منسوب کیا جائے۔

میرا خیال ہے کہ اب اس باب میں کوئی ابہام باقی نہیں رہنا چاہیے کہ دورِ حاضر کے تمام نمائندہ مذہبی گروہوں کے نزدیک صحابہ کرام، امہات المومنین اور اہلِ بیت اس امت کا مشترکہ سرمایہ ہیں اور ان کی توہین کو کسی صورت روا نہیں رکھا جا سکتا؛ تاہم کسی رائے یا اقدام سے اختلاف اور توہین میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ قرآن مجید کی تفسیر سے لے کر سیاسی اقدامات تک، ہمارے اسلاف صحابہ کرام کی آرا اور موقف کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں اور کسی ایک کی بات کو، دوسرے کی رائے پر ترجیح دیتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امت کا سوادِ اعظم صرف انبیا کو معصوم مانتا ہے؛ تاہم اس کے باوجود سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ صحابہ کرام کو اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں یہ سند جاری کی ہے کہ وہ اللہ سے راضی ہیں اور اللہ ان سے راضی ہے۔ اس کے بعد کسی کو یہ حق نہیں کہ ایسی شخصیات کی اہانت کرے۔

علامہ افتخار حسین نقوی صاحب اور دیگر شیعہ علما نے اس باب میں اپنا موقف پوری طرح واضح کر دیا ہے۔ اس کے بعد لازم ہے کہ پاکستان کی حد تک اس باب کو ہمیشہ کے لیے بند ہو جانا چاہیے۔ اب اگر کوئی فرد اس باب میں جہالت کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے خلاف انفرادی حیثیت میں قانون کو متحرک ہونا چاہیے۔ اس کے قول یا فعل کی کوئی ذمہ داری اہلِ تشیع پر بطور گروہ نہیں ہے۔
شیعہ سنی اختلافات کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ تاریخ کے باب میں دونوں کا موقف جانا پہچانا ہے۔ اس کے باوجود دونوں گروہوں کے مابین سماجی ہم آہنگی موجود رہی ہے۔ اس کو نقصان اس وقت پہنچا جب ان مذہبی گروہوں کی قیادت علما کے بجائے 'پاپولسٹ مقررین و خطبا‘ کو منتقل ہو گئی۔ ایسے خواتین و حضرات دونوں اطراف موجود تھے جنہوں نے لوگوں کو تعلیم دینے کے بجائے، ان کے مذہبی جذبات کو بھڑکانا شروع کر دیا۔

عوام کی اکثریت جذبات میں جیتی ہے۔ یہ لوگ اپنی خوش الحانی اور فنکارانہ صلاحیتوں سے عوام کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ مذہب کے ساتھ وہی معاملہ کرتے ہیں جو پاپولسٹ سیاست دان، سیاست کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہ مذہبی بنیادوں پر ہیجان پیدا کرتے ہیں اور یوں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ان شعلہ بیان مقررین نے اس معاشرے پر کیا ظلم ڈھایا ہے۔ یہی رویہ ہے جس نے دونوں اطراف کے انتہا پسند گروہوں کو جواز بخشا۔ اگر صحابہ اور امہات المومنین کی اعلانیہ توہین نہ کی جاتی تو ہمارا معاشرہ فساد میں مبتلا ہوتا اور نہ اتنی جانوں کا ضیاع ہوتا۔
ان تجربات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مذہبی گروہوں کی قیادت جید علما کے ہاتھ میں ہونی چاہیے اور تمام مسالک کو اس کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ محراب و منبر کو کیسے نیم خواندہ لوگوں سے آزاد کرایا جائے۔ اب تو صورتِ حال یہ ہو چکی کہ جس کی مسیں تک نہیں بھیگی ہوتیں، وہ منبر پر کھڑا ہوتا اور سورج کو چراغ دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ نہ قرآن کا پتا نہ سنت کا۔ تاریخ کی خبر نہ کلام سے شغف۔

ضرورت ہے کہ تمام مسالک کے مدرسہ بورڈز اس معاملے میں ایک حکمتِ عملی اختیار کریں۔ ریاست کو بھی اس میں مداخلت کرنی چاہیے کہ کسی مسجد کا منبر کسی نیم خواندہ کے ہاتھ نہ لگے۔ خطیب کے لیے کم از کم تعلیم کا تعین ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ مساجد و امام بارگاہ کمیٹیوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ کن علما اور مقررین کو جلسوں اور مجالس میں بلا سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اگر کوئی زبان درازی کرے تو قانون کو اس کے خلاف متحرک ہونا چاہیے۔ یہ بات باعثِ حیرت ہے کہ خود شیعہ علما جن جہلا کو مقدمات میں نامزد کر رہے ہیں، ان کے خلاف قانون متحرک نہیں ہو رہا۔
مجھے امید ہے کہ سنی علما کی طرف سے شیعہ علما کے اس بروقت اقدام کی تحسین کی جائے گی۔ اس کے بعد اگر کوئی توہین کی جسارت کرتا ہے تو اسے انفرادی فعل پر محمول کیا جائے گا۔ اسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے اس عمل کو مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ بیانات اور کانفرنسوں کے بجائے، عملی اقدامات تجویز کیے جائے، جیسے محراب و منبر کو نیم خواندہ اور جہلا سے کیسے آزاد کرایا جائے۔ لازم ہے کہ ان اختلافات کو عوامی اجتماعات کے بجائے، علمی مباحث کا موضوع بنایا جائے۔ عوام میں بھی وہی لوگ بات کریں جو اس کا سلیقہ رکھتے ہوں۔