کتب بینی کی اہمیت -گہرام اسلم بلوچ

آج کے اس جدید دور (فورتھ جنریشن) میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی دنیا میں ہر چیز آسانی سے دستیاب ہوتا مگر جن سرکلوں اور رویتوں نے ہماری ذہنی و فکری تربیت کر کہ مہذب بنانے میں ایک کلیدی کردار ادا کی ہے اس کو ہم سے تیزی کے ساتھ دور ہوتے جا رہے ہیں۔

کُتب بینی (Book Reading) کلچر، اگر آج کے دور کے تقاضوں کے مطابق ہم survive کررہے ہیں تو یہ انھی اسٹڈی سرکلز، کتب بینی، مکالمہ اور بحث و مباحثے کی رویتوں اور فکری تربیت کی مرہون منت ہے، مکالمہ، بحث مباحثہ تربیتی نشست اور تنقید برائے تعمیر ہمارے معاشرے کی خوبصورتی تھی۔ دنیا گلوبلائزیشن کی جانب بڑتا رہا مشینوں نے انسان کا کام آسان کرنا شروع کیا اور آگے چل کر سوشل میڈیا تک پہنچ گئے ٹیکنالوجی اور خاص کر سوشل میڈیا کی ضرورت سے زیادہ کی استعمال نے آہستہ آہستہ ہم باقی رویتوں کیساتھ ساتھ جو سب سے زیادہ ہمیں نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہ نوجوانوں کی کتاب ، تحقیق، تخلیق اور تربیتی نشستوں سے دوری کی ہے۔ بے شک سوشل میڈیا نے دنیا میں بہت ساری سماجی مسائل کو کم مدت میں ہنگامی بنیادوں پر اُجاگر کرنے میں بے مثال کردار ادا کی ہے مگر کتاب نے ہمارے اور دنیا کے تمام معاشرے میں انسانوں کے اندر انکساری برد و باری شعور پیدا کیا ہے۔ فیس بک اور دیگر سماجی ربطوں کے ویب سائٹس کے سامنے انسانی سماج میں کتاب کی زیادہ اہمیت ہے۔ بےشک انٹر نیٹ معلومات کی جنگل ہے مگر اس میں مستند کی دعوی کرنا مشکل ہوگا۔ میرے نزدیک کتاب پڑھنے سے کتنی تاثیر اور سکون ہے، اس کا اندازہ ہم لگا نہیں سکتے۔

کتاب میں انسان خود کو اور اپنی وجود سے آشنا ہوسکتا ہے۔ آج میرا س تحریر کا بنیادی مقصد اپنی زندگی میں کتاب و قلم کی اہمیت اور ان سے فطری رشتے کو قائم و دائم کرنا ہے۔ اگر نوجوان کتاب و قلم سے دوری اختیار کریں تو و دنیا میں اکیلا رہ جاتا ہے کتاب اور قلم سے دوری سے نا آپ دوسروں کے احساسات کا علم ہوگا نا اپنے خیالات و احساسات کو دوسروں تک پہنچا سکت ہیں۔ جیسا کہ باقی لٹریچروں کی طرح ہمارے ہاں بھی تراجم کا ایک رویت موجود ہے اسی خیال سے جڑا میرا بھی ایک خواب ہے کس کتاب ی اکسی بھی لٹریچر کو اپنے لیے فائدہ مند سمجتھا ہے دوسروں تک شیئر کرنے کی عمل و رایت کو آگے بڑائیں تاکہ علم منتقلی کی رواج پیدا ہوکر ہمارے نوجوان بیراروی سے نکل کر کتب بینی اور تربیتی و فکری کاموں کر طرف بڑھیں اور دوسروں کو بھی راغب کریں یہ کام انفرادی صورت میں شروع تو کی جاسکتی ہے مگر اس کی پرورش اور آگے لے جانا بحیثیت نوجوان ہم سب کی سماجی زمہداری ہے۔۔۔آج کا زیر نظر مضمون میں میں اُن کتابوں کا مختصر خلاصہ اور اقتباسات کا ذکر کرتا ہوں جو اب تک میں پڑھ چکا ہوں اور اپنی کم علمی اور شعور سے میں نے یہ محسوس کیا کہ ان کتابوں کا مطالعہ شاید وقتی طور پر میرے لیے ضروری ہیں۔

مندرجہ ذہل کتاب کے حوالہ سے میر کام ا صرف اکھٹا کرنا تھا۔ اگر قاری کو میری یہ کوشش پسند ہوگی اور اس مستفید ہوں گے تو میں اسکو تواتر کیساتھ جاری رکھو گا۔اب تک صرف یہی چھ کتابوں کی تعارف شامل کر رہا ہوں۔ کتاب سے دوستی کا ایک فائدہ ضرور ہے کہ اچھے انسانوں سے آپکی دوستی کرائے گی۔ اور خاموشی سے اکیلے میں دوسروں کے خیالات آپ تک پہنچائے گی۔

سبطِ حسن، موسی سے مارکس تک: میں لکھتے ہیں کہ،، اس بات کو پنتیس سال سے زیادہ مدت بیت چکی ہے۔ اس اثنا میں دنیا میں اَن گِنت انقلابات آئے۔ کئی ملکوں میں اشتراکی قوتوں کی حاکمیت وائم ہوئی۔ سوشلسٹ تحریکوں نے ایشیاء اور افریقہ میں فروغ پایا اور سوشلزم کا چرچا عام ہوا حتی کہ ہمارے ملک میں بھی اب شاید ہی کوئی پڑھا لکھا شخص ہو جس نے سوشلزم کا نام نہ سُنا ہو۔ اب تو یہاں پر بھی سوشلسٹ لٹریچر آسانی سے دستیاب ہوجاتا ہے۔ ایک اور جگہ فرماتے ہیں (سوشلزم کے دشمن عام لوگوں کو سوشلزم سے بدگمان کرنے غرض سے یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ سوشلسٹ معاشعے میں کسی شخص کو ذاتی ملکیت کا حق نہیں ہوتا۔ لیکن یہ تہمت غلط ہے۔ بات یہ ہے کہ ذاتی ملکیت دوطرح کی ہوتی ہے، ایک وہ ذاتی ملکیت جس کے ذریعہ دوسروں کی محنت کا استحصال کر کے اپنہ دولت و ثروت بڑھائی جاتی ہے۔

رسول حمزاتوف اپنے کتاب میرا داغستان جنکا اردو میں ترجمہ اجمل اجملی نے کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ جب میں پیدا ہوا تو ابا نے گاوں کے بڑے بوڑھوں کودعوت دی کہ وہ جمع ہوکر میرے لئے کوئی نام چن دیں۔ سبھی لوگ آئے اور اتنی سنجیدگی اور اطمینان سے بیٹھ گئے گویا کسی ملک کی قسمت کا فیصلہ کرنے جارہے ہوں۔ ہر ایک کے ہاتھ میں بلخار کے کوزہ گروں کا بنایا ہوا بڑا سا جام تھا، سارے ہی جام جھا گدار بوزا سے لبریز تھے۔ صرف ایک شخص کا ہاتھ خالی تھا، یہ گاوں کے سب سے معمر بزرگ تھے، جن کے سر اور داڑھی کے بال یکسر سفید ہوچکے تھے اور جن کے چہرے پر پیغمبروں جیسا نور برس رہا تھا۔ پھر بغل کے کمرے سے اماں داخل ہوئیں اور انہوں نے مجھے اُنہی بزرگ کے حوالے کردیا۔ ادھر میں ان کی گود میں لہک رہا تھا اور اُدھر میری اماں اُن سے کہہ رہی تھیں: محترم بزرگ! آپ نے ہماری شادی پر گیت گائے تھے، کبھی ہاتھ میں پاندور لے کر کبھی طنبورہ لے کر۔ آپ کے گیت بہت ہی پر لطف تھے۔ اب جبکہ میرا بچہ آپ کے ہاتھوں پر ہے، آپ کونسا نغمہ عنایت فرمائیں گے؟ نیک دل خاتون! ماں کی حیثیت میں اب تو اسے گیت سنائے گی، اس کا پالنا ہلاہلا کر، پھر پرندے اور دریا اسے گیت سنائیں گے، یوں تو یہ تلواروں اور گولیوں سے بھی گیت سنے گا لیکن سب سے اچھا اور خوبصورت ترین گیت تو اسے اس کی دلہن ہی سنائے گی۔ تو پھر آپ اس کا نام رکھ دیجیے، تاکہ میں ہمارا سارا گاوں اور سارا داغستان اس نام سے واقف ہوجائے جو اس کے لئے آپ اس وقت تجویز کریں گے۔ اُس بزرگ انسان نے مجھے اپنے ہاتھوں پر اوپر اُٹھایا اور کہا: ۔۔۔ لڑکی کا نام ایسا ہونا چاہیے کی اُس میں ستاروں جیسی چمک اور پھولوں جیسی مہک ہو۔ لیکن مر د کے نام میں تلوار کی جھنکاریا کتابوں کے علم و دانش کا اظہار ہونا چاہیے۔ میں نے کتابوں میں بہت سے نام پڑھے ہیں۔ میری کتابیں اور میری تلوار یں اس وقت مجھ سے سرگوشی میں ایک ہی نام گونج رہا ہے وہ ہے رسول، رسول حمزا توف)

یہ بھی پڑھیں:   بری صحبت کا اثر - محمد ارسلان رحمانی

افتادِگان خاک ، فرانز فینن کے قلم سے: استعمار کی شکست کبھی خاموشی سے عمل میں نہیں آتی اس لیے کہ یہ افراد کو متاثر کرتی ہے اور ان میں بنیادی تبدیلیاں لاتی ہے۔ یہ ان تماشائیون کو جو اپنی لامعنویت کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں بامعنی اداکاروں میں تبدیل کردیتی ہے اور وہ تاریخ کی عالی شان روشنی کی چمک دمک میں نمایاں ہوجاتے ہیں۔ اس سے انسانی وجود کا وہ فطری آہنگ پیدا ہوتا ہے جسے نئے لوگ بروئے کار لاتے ہیں۔ اس کیساتھ ہی ایک زبان اور ایک نئی انسانیت وجود میں آتی ہے۔ استعمار کی شکست نئے انسانوں کی حقیقی تخلیق ہوتی ہے۔ لیکن یہ تخلیق کسی مافوق الفطرت قوت کے زیراثر اپنا جائز وجود نہیں رکھتی۔ ہوتا یہ ہے کہ،، شے، جو استعمار کا شکار ہوتی ہے اسی عمل کے دوران میں جس میں آزادی حاصل کرتی ہے آدمیت کا جامہ بھی پہن لیتی ہے۔۔۔ بلوچستان آزادی کے بعد، میں ڈاکٹر انعال الحق کوثر / پروفیسر انور رومان، لکھتے ہیں: مورخین نے بلوچستان کی مختلف توضیحات پیش کی ہیں۔ لفظ بلوچستان، نادر شاہ افشار کی واضع کردہ یا عطا کردہ اصلاح ہے۔

قدیم دور میں نا اسک ایہ نام تھا اور نہ اسکی ترکیب موجود تھی اس کے شمال مشرقی حصے پنجاب میں شامل تھے، شمال مغربی حصے صوبہ قندھار میں شامل تھے۔ جنوب مغرب حصہ جسے اب (مکرانکہتے ہیں) جیدروشیا یا گدروشیا کہلاتا تھا۔ یہ نام سب سے پہلے ہمیں یونانی مورخین میں ملتا ہے۔

تاریخ کا دریچہ، میں اوریانا فلاشی/ منیب شہزاد: میرے خیال میں مجھے قاری کو متنبہ کردینا چاہیے کہ میں اس بات سے کس قدر متفق ہوں اور اس سے بھی کہ سیبوں کے وجود کا مقصد ہی یہی ہے کہ انہیں کھایا جائے اور گوشت بھی کم از کم جمعے کے دن تو کھایا جاسکے۔ ایک بار پھر میں مردوزن دونوں کو برابر برابر یاد دلا دوں کی میں طاقت کی ابجد کو نہیں سمجھتی بلکہ میں ان لوگوں کو سمجھتی ہوں جو طاقت کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں، جو طاقت پر تنقید کرتے ہیں، جو طاقت کا مقابلہ کرتے ہیں اور خاص طور پر ان لوگوں کو جو ظلمت کی طرف سے مسلط کی ہوئی طاقت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اس سے ٹکرا جاتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ یہ تماشہ دیکھا ہے کہ انسانی سرکشی کا رجحان جابرانہ حکومت کی طرف ہوتا ہے کہ جیسے زندگی کا یہی ایک واحد مقصد ہو۔ میں نے ایسے لوگوں کی خامشی کو تحقیر بھری نظروں سے دیکھا ہے جو کبھی ردعمل کا اظہار نہیں کرتے یا وہ یقینا ایک مرد یاعورت کی حقیقی موت پر تالیاں پیٹتے ہیں، اور یاں غور سے سنیں! میرے لئے آج تک انسان کو عظمت کا شاندار تاریخی ورثہ وہی ہے جو میں نے Peloponnese کی ایک پاڑی پر دیکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   سراج احمد تنولی کی کتاب "بات کر کے دیکھتے ہیں" - نقاش احمد

بنیادی طور پر جب یہ کتاب کچھ بھی ہونے کا دعوی نہیں کرتی تو پھر اصل میں یہ کیا ہے؟ اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں مانگتی جو اس کا دعوی ہے یعنی کہ یہ ایک سیدھا چودہ ہم عصر سیاسی شخصیات کا حلفیہ بیان ہے جن میں سے ہر کوئی نمائندگی کے ایک تسلسل کا علاقائی پُرزہ ہے۔

آزادی ِ صحافت، سب سے بڑی جنگ، احفاظ اکرحمن/ اقبال خورشید: سال پہ سا؛ گرتے رہے ایک تاریخی جنگ، پاکستان کت صحافیوں کی سب بڑی جنگ، کی یادیں ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔ تمہیں لکھنا ہے، دوستوں کا حلقہ اصرار کرتا رہا۔ ارادہ ٹوٹتا رہا۔ وقت ٹلتا رہا۔ میں خود برنا صاحب سے درخواست کرتا رہا۔ وہ بھی وعدہ کرتے رہے، وقت ٹلتا رہا۔ اب وہ نہیں رہے جو اس تحریک کے معمار تھے۔ خود میری عمر جُھت پٹے کی آغوش میں داخل ہو چکی ہے۔ آخر کار، ایک دن پرانے کاغزات تلاش کرتے ہوئے 1977 -78کی اس یادگار تحریک کے بارے میں خاصا میٹر برآمد ہوا۔ مہناز نے گھر کی دو چھتی میں عرصے سے بند بہت سارے اخبارات اور رسائل برآمد کر لیے۔ ایک دم ذہن میں جھما کا سا ہوا، منزل آسان ہوسکتی ہے۔ پھر وہاب صدیقی سے ملاقات ہوئی۔

ظلم کی نشانیاں ہر طرف بکھری ہوئی تھیں۔ جمہوریت پسند کارکنوں، خاص طور پیپلز پارٹی کے سیاسی کارکنوں پر عذاب کی بھٹی کے دروازے کھول دیے گئے تھے۔انہیں گرفتار کیا جاتا سڑکوں۔ تھانوں اور جیلوں میں بہیمانہ انداز میں تشدد کا نشانہ بنایا آجاتا ، ملک دشمنی ، شر پسندی اور غداری کا الزام لگاتے رہے۔

قومی سوال کا مارکسی تناظر، تراجم و ترتیب، عابد میر:: اس ساری بحث کا خلاصہ یہ تھا کہ سامراج سرمایہ داری کا دوسرا مرحلہ ہے جس میں بڑے سرمایہدر ممالک کے درمیان دنیا کی تقسیم مکمل ہوچی ہے، سامراج کی ایک نہایت اہم خصوصیت سامراجی طاقتوں کی آپس میں دشمنی اور بالا دستی کے لیے جدوجہد ہے، جیسے کہ دنیا پہلے ہی تقسیم شدہ ہے اس لیے بالادستی کے لیے جدوجہد کا مقصد ہے دنیا کی دوبارہ تقسیم۔۔۔ نو آبادیاتی قوتیں زرعی خواہ صنعتی ہر قسم کی علاقوں کو آپس میں ملانے کی کوشش کر رہی ہیں بیشتر کو ان کی اقتصادی طاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی جنگی اہمیت کت باعث اور کسی کو براہ راست خود کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ دشمن کو کمزور کرنے کے لیے سامراج کی ایک اور خصوصیت ہے۔

جالب جالب، روداد ِوفا۔ ناصر جالب: اس وقت بھٹو کے خلاف تحریک سول نافر مانی چل رہی تھی۔ دوسرے روز جالب صاحب نے گرفتاری ایک گروپ کی شکل میں دی ۔ ان کے ساتھ نواب زادہ نصراللہ خان(مرحوم) ملک قاسم مرحوم نے بھی گرفتاری دی، گھر کی حالاتا نہاتیت ناگفتہ بہ ہوگئے۔ مفلسہ میں دن رات گزرنے لگے۔ یہاں تک کہ ہماری والدہ نے جو راشن لے رکھا تھا وہ بھی ختم ہوگیا، ہم فاقوں پر آگئے۔ میری والدہ نے باسی ٹکڑوں کو جمع کر کے اور ہمسایوں سے باسی ٹکڑے جمع کر کے مرچ مصالحہ ڈال کر ابال کر کھلانا شروع کر دیے۔

میں میری بہنیں جمیلہ نور افشاں، چھوٹے بھائیوں طاہر عباس، انور عباس نے یہ تنگی ترشی اور پریشانیوں و تکلیف سے بھر پور دن رات گزارے ۔ ہر گرفتاری کے بعد میرے دادا، دادی کراچی سے آجایا کرتے اور میرے تایا ابو مشتاق حسین مبارک جو کہ محکمہ تعلقات عامہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر تھے اور کراچی مقیم و تعینات تھے، وہ بھی ہمارے لاہور آجایا کرتے اور ہماری مدد فرمایا کرتے۔۔۔ میرا چھوٹا بھائی خدا اُسے اپنی جوار رحمت میں جگہ دے۔ نہایت شریف بچہ تھا۔ نمازی پرہیزگار اور جالب صاحب کی شخصیت کر قریب تین تھا۔ آج وہ زندہ ہوتا تو وہ دوسرا جالب ہوتا۔ وہ آئے روز پولیس کے چھاپوں سے پریشان رہتا۔ گلی محلوں کے بچوں کیساتھ کھیلنے جاتا تو ان سے یہ طعنے سننا پڑتے کہ اس کا باپ غدار ہے یہ ایک غدار کا بیٹا ہے۔ اس سے پوچھو کہ اس کے باپ کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے۔ میرے پاس ان کے الفاظ کا جواب نہ ہوتا۔ میں ان سے لڑتا جھگڑتا محلے کے بزرگ اور جاہل لوگ بھی مجھے ڈانٹتے۔ میں گھر آکر ماں سے سوال کرتا کہ ماں یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں؟ اور زار و افطار روتا میری ماں مجھے دلاسا دیتی اور کہتی کہ تم نہ جایا کرو ایسے دوستوں کے پاس اور پڑھو لکھو، تمہیں اس سے کچھ نہیں لینا دینا۔ میں پھر سکول جایا کرتا۔ وہاں مجھے بھی یہی الفاظ سننا پڑتے یہ غدار کا بیٹا ہے کیونکہ اس وقت پورے ملک میں ANP لیڈران، باچا خان، ولی خان کے ساتھیوں کو غدار کے لقب سے نواز ا جاتا تھا۔۔