مودی ٹرمپ کا جشن "فتح کشمیر" اور ہماری "خوابوں کی دنیا" - محمد عاصم حفیظ

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ہو سٹن میں جشن منایا ۔ جی ہاں یہ دونوں ممالک کی مشترکہ کامیابیوں کا جشن تھا اور حالیہ سانحہ کشمیر کے معاملے پر مشن کی تکمیل کا اظہار۔ ٹرمپ نے اپنے اثر و رسوخ اور جھوٹی طفل تسلیوں سے اس پراجیکٹ کی کامیابی میں اہم ترین کردار ادا کیا اور اسی وجہ سے گزشتہ روز بھارتیوں نے اپنے جشن میں اسے مدعو کرکے شکریہ ادا بھی کیا۔

مودی کا غرور و تکبر مزید بڑھ گیا کیونکہ اس نے اپنے بنیاد پرست مسلم دشمن نظریے کو پروان چڑھایا ہے . انہوں نے تو جشن منا لیا ۔ لیکن اگر ہم غور کریں تو یہ موقعہ ہماری ناکام خارجہ پالیسی ۔ ڈرپوک اور بزدلانہ بیانات ۔ خواہشات کے محل میں رہنے کی عادت ۔ میڈیا کنٹرول کے ذریعے حقائق سے دوری ۔ عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے میں ناکامی اور مسلم ممالک سے دوری ۔ امریکی جال میں پھنسنا اور عربوں کے لالچ دینے پر سی پیک کی بندش اور چین سے دوری ۔ اندرونی معاملات میں بدترین صورتحال ۔ کشمیر کے مسئلے پر قومی موقف کے فقدان جیسے عوامل نے ہی بھارت و امریکہ کو یقین دلایا کہ ہم کشمیر کے حوالے سے کس قدر سنجیدہ ہیں ۔ ہم نے بھارتی اقدام کے بعد ایسی پالیسی اپنائی کہ انہیں پچاس دن کے بعد ہی معاملہ ٹھنڈا ہونے کا احساس ہو گیا اور اب انہوں نے جشن فتح منا ڈالا۔ جب بھارت نے پانچ اگست کو کشمیر پر شب خون مارا تو اس وقت ہم سینٹ کے معرکہ حق و باطل میں مصروف تھے کئی دن تک یہ خبر ہی میڈیا پر نہیں آنے دی گئی ۔ جب سینیٹ فتح ہو گیا تب ہی یہ خبر میڈیا پر آ سکی ۔ اس کے بعد ہم نے اپنے ہر بیان میں یہی کہا کہ اگر ہم پر حملہ ہوا تو منہ توڑ جواب دیں گے ۔ ۔ یعنی مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ مرضی ہوتا رہے ۔ پاکستان جنگ میں پہل نہیں کرے گا ۔ پاکستان کبھی ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا کشمیر کے حوالے سے قومی اسمبلی کے مشترکہ سیشن کو تباہ کیا گیا ۔

جو کشمیر جا کر جہاد کی کوشش کرے وہ پاکستان اور کشمیریوں کا دشمن ہو گا۔ کنٹرول لائن کی طرف جانیوالے کشمیریوں پر لاٹھی چارج کیا گیا ۔ ذرا سی جذباتی تقریر اور کشمیریوں کے لئے عملی اقدامات کے مطالبے پر وزیر اعظم کشمیر راجہ فاروق حیدر کی تقریر سنسر کر دی گئی ۔ حکومت نے جلسوں کو تفریحی بنانے پر توجہ دی ، فنکاروں ، کھلاڑیوں کو خصوصی طیاروں کے ذریعے لیجاکر جلسے رنگین بنائے جاتے رہے ، حکومتی سنجیدگی کا یہ عالم تھا کہ کبھی آدھا گھنٹہ کھڑے ہونے کا اعلان کیا جاتا ، حتی کہ کشمیر کے لیے احتجاج کو علامتی احتجاج تک کا نام دے دیا گیا ۔ حکومتی وزرا ء کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی بجائے اپوزیشن پر حملہ آور ہونے اور طعنے و گالیاں دینے میں مصروف رہے۔ ملکی اتحاد ، متفقہ پیغام اور قومی وحدت کا مظاہرہ کرنے کی ایک بھی کاوش نہیں ہوئی۔ آزاد کشمیر میں جاکر بڑے بڑے جلسے کرنیوالے مخالف سیاسی لیڈروں کی میڈیا کوریج تک روک دی گئی ۔ اس دوران حکومت کی زیادہ توجہ اپنے وزراء کو نوازنے ، اربوں کے ٹیکس معاف کرنے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تک کی جانب سے اس ٹیکس معافی کے دفاع پر توجہ دی گئی ۔ جب بھارتی وزیر اعظم مودی اپنے سفارت خانوں اور وزارت خارجہ کی مددسے مختلف مسلم ممالک میں ایوارڈ وصول کر رہے تھے، ہمارے وزیر اعظم نے کسی ایک بھی مسلم ملک کا دورہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں:   گودار کے ماہی گیروں کا مستقبل کیا ہے - ایاز رانا

امریکہ جاتے ہوئے سعودی عرب کے دورے کا مقصد آرمکو پر حملے کے حوالے سے اظہار یکجہتی تھا۔ سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ بھی کشمیر پر حمایت کرنے نہیں بلکہ سمجھانے کے لئے آئے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی میں قرارداد پیش کرنے کی ڈیڈ لائن گزر گئی اور ہمیں پتہ ہی نہ چلا اور عالمی فورم پر ہم مطلوبہ تعداد میں ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ کشمیر کے مسئلے پر ایک بھی عالمی کانفرنس نہ کرا سکے جس میں دیگر ممالک سے حکومتی رہنماوں اور عوامی لیڈرز کو مدعو کرکے اس مسئلے کو اجاگر کیا جا سکے۔ بلکہ کئی ممالک میں کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لئے جانیوالے ہمارے وزراء دیگر سرگرمیوں میں مصروف رہے ۔ فیشن شوز میں شرکت کرتے رہے اور میوزک و رقص کی محفلیں سجاتے رہے۔ کسی ایک بھی مسلم ملک یا دیگر میں ہمارا کوئی ایسا اعلی سطحی وفد نہیں گیا جس میں حکومت و اپوزیشن کی نمائندگی ہو تاکہ ان کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ دوسری جانب حکومتی وزراء کے ایسے بیانات نشر ہوئے جن میں اپوزیشن کے لیڈرز حتی کہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم تک کو غدار تک کہا گیا ، ان کے گلے میں پٹہ ڈال کر انہیں مظفر آباد کے کسی چوک میں پھانسی لگانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ۔ امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش کو یوں بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ واپسی پر یہ بیان تک دے ڈلاکہ ایسا لگ رہا ہے کہ "میں ورلڈ کپ جیت کر آ رہا ہوں" .

ہم نے تقریروں پر زور دیا ۔ جوش خطابت کے مظاہرے کئے ، ریلیاں اور علامتی احتجاج کرتے رہے اور اب ہم نے ساری امیدیں اقوام متحدہ میں وزیر اعظم کی تقریر سے لگا لی ہیں ۔ چلیں ایک تقریر اور سہی ۔۔ یقینا یہ تقریر پرجوش ہو گی ۔ طعنے ہوں گے ۔اپنے کاررناموں کا تذکرہ ہو گا ۔ ہم امن چاہتے ہیں ۔جنگ تباہی لائے گی۔ مودی ہٹلر ہے ۔مودی فاشسٹ ہے۔ بی جے پی ظالم ہے۔ بھارت تباہ ہونیوالا ہے۔ ہم راہ داری بنا رہے ہیں۔ پرجوش باتیں ہوں گی ۔ ہم دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں ، اگر پاکستان پر حملہ ہوا تو جواب دیں گے ۔ عالمی دنیا کشمیر پر ظلم و ستم کا نوٹس لے ۔ اس تقریر کو یقینا میڈیا پر بھرپور کوریج ملگ گی ۔ ملک میں آسمان سر پر اٹھا لیا جائے گا ۔واپسی پر ورلڈ کپ جیتنے جیسی خوشی کا اعلان ہوگا۔ وزراء استقبال کریں گے۔ اور بس۔ کشمیری بھگتیں ۔۔ وہ جانیں بھارت جانے۔ اس سے پہلے کیا ہوتا رہا؟ بھارت کو کیوں یہ شہ ملی کہ وہ کشمیر پر شب خون مار سکے ۔ اس کی بھی بہت سے وجوہات ہیں ۔ مختصر سے عرصے میں بہت کچھ ایسا کیا ہوا کہ بھارت نے سمجھ لیا کہ اب پاکستان کشمیر کے معاملے پر دفاعی پوزیشن بلکہ لاتعلقی کی پوزیشن پر جا چکا ہے۔ عمران خان نے وزیر اعظم بنتے ہی مودی کو خط لکھا۔ جس پر سرد مہری کا اظہار کیا گیا۔ اس کے باوجود مذاکرات کی بات کر دی گئی جس کی بھارتیوں کی جانب سے باقاعدہ تردید بھی کی گئی۔

الیکشن میں مودی کی جیت کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ مودی کی جیت کو مسئلہ کشمیر کا حل قرار دیا۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کی جیت پر مبارکبادیں دیں۔ نوجوت سدھو کو حلف برداری کی تقریب میں بلا کر آرمی چیف کے قریب ہونے کا موقعہ دے کر، پیار کی جھپی ڈلوائی گئی۔ رنجیت سنگھ کا مجسمہ نصب کیا گیا جس کا مقصد بھارت میں پاکستان کا مثبت تاثر پیدا کرنا قرار دیا گیا۔ ہندو مندروں کی بحالی کے لیے اربوں کے فنڈز جاری کئے اس سلسلے میں سیالکوٹ میں مندر کا باقاعدہ افتتاح بھی ہو چکا۔ کرتارپور کوریڈور کے لئے ترلے کئے۔ پوری پاکستانی قیادت اس تقریب میں شریک ہوئی جسے بھارت نے اپنی خوشامد سمجھ لیا۔ بار بار مذاکرات ملتوی کرنے کے باوجود پاکستان کی جانب سے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔ وزیر اعظم کی جانب سے یہ بات کی گئی کہ وہ بار بار بھارتی وزیر اعظم کو فون کر رہے ہیں لیکن رابطہ نہیں ہو سکا۔ ملکی تاریخ کا سخت ترین جہادی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔ حافظ سعید اور دیگر کو نظر بند کرنے کی بجائے پہلی مرتبہ باقاعدہ دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔ امین گنڈا پور جیسے بندے کو کشمیر کمیٹی کا سربراہ اور امور کشمیر کا وزیر بنا کر غیرسنجیدگی کا ثبوت دیاگیا۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان نے کمرشل فلائٹ پر جانے کا کہا تو محمد بن سلمان کیا بولا

مدارس کے خلاف شکنجہ کسا گیا اورعالمی سطح پر یقین دہانیاں کرا دی گئی ہیں کہ ان کا نصاب بدل دیا جائے گا۔ سلامتی کونسل میں بھارت کو ووٹ دیا گیا۔ بھارتی حملے کے دوران گرفتار ہونیوالے پائیلٹ ابھی نندن کو دو دن میں واپس بھیج دیا۔ پاکستان نے معمولی عالمی پریشر پر ذرا سا حکم ہوا تو بھارت کے لئے فضائی روٹ کھول دئیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی بات کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی اور یوں تاثر دیا گیا کہ جیسے اب مسئلہ کشمیر حل ہونے کو ہے اور ہماری ساری امید امریکی صدر سے وابسطہ ہے ۔ہم نے تو یہ سب کر دکھایا لیکن بھارت ہمارے ہرہر اقدام کو کمزور ی سمجھتا رہا۔ انڈیا کو یہ سب کرنے کی ہمت کیوں ہوئی؟؟ اس نے ہمیں کیوں اتنا کمزور اور بے توقیر سمجھا۔ دراصل ہم سیاست میں اتنے مصروف ہیں ۔ اندرونی سیاست میں، گرفتاریوں، جلسوں، گرما گرم بیانات اور الزام تراشیوں میں۔ کشمیر کے حالات پر اور کنٹرول لائن پر نظر رکھنے کی بجائے سائبر ٹیمیں بنا کر سیاسی ٹرینڈز چلوا رہے ہیں۔ انہیں یقین ہو گیا کہ اب پاکستانی صرف ٹوئٹر پر جنگ لڑ سکتے ہیں۔ ان کی توجہ اب دفاع پر نہیں صرف آپس کی لڑائیوں پر ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم کسی کو مورد الزام ٹھرا دیں۔ کسی کی حب وطنی پر شک کریں۔ ایک ایسا ملک جس حکومت اور اپوزیشن باہم دست و گریبان ہو۔

ہر کوئی ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہا ہو۔ ادارے ویڈیوز جاری کر رہے ہوں یا کسی ویڈیوز کی وضاحت میں لگے ہوں۔ معیشت اس حد تک گر چکی ہو کہ سٹاک مارکیٹ 20 ہزار پوائنٹس کی تنزلی کا شکار ہو جائے۔ اہل اقتدار کے اقدامات سے ایسا لگے کہ ان کی اب ساری امید کسی بیرونی ریاست کے صدر کی ثالثی کی پیشکش ہے اور ہم ہر صورت اپنا مثبت تاثر پیش کرنے کے چکر میں یہ بھول یہ جائیں کہ بعض اوقات "لاتوں کے بھوت، باتوں سے نہیں مانتے"۔ کشمیر پر بات کرنیوالی ہر آواز کو عالمی دباؤ پر خاموش کرا دیاگیا ہو حتی کہ ہمارا نام نہاد ثالث کشمیر کے لئے بات کرنیوالے ایک رہنما کی گرفتاری کو اپنے دباؤ کا نتیجہ اور کامیابی قرار دے۔ ۔ کشمیر میں جہاد کرنیوالوں کو ملک دشمن قرار دینے والے بیان پر پسندیدگی کا اظہار کرے ۔ اس کے دشمن جرات مند ہو ہی جاتے ہیں، وہ اپنی من مرضی کرتے ہیں کوئی بھی ان کے لئے بولنےو الا نہیں ہوتا۔ اور یوں ہماری شہ رگ کٹنے کا قصہ تمام ہوا ۔ بھارتی وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر ٹرمپ نے " جشن فتح" منا کر پوری دنیا میں اپنے اس مشترکہ مشن کی کامیابی کا اعلان کر دیا ہے۔ ہم اپنی خوابوں کی دنیا میں زندہ ہیں اور دنیا کو اس کی ذرا برابر بھی پروا نہیں حتی کہ ہمارے دوست ممالک کو بھی نہیں۔