کراچی: کچرا پھینکنے اور گٹر بلاک کرنے والوں کی نشاندہی پر انعام کا اعلان

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ماضی میں تخریب کاروں، ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور سٹریٹ کرائم میں ملوث ملزمان کی نشاندہی کرنے پر انعامات کا اعلان تو ہوتا رہا ہے لیکن اس بار حکومت سندھ نے کچرا پھینکنے اور گٹر بلاک کرنے والوں کی تلاش میں ایک انوکھی سکیم کا اعلان کیا ہے۔

سندھ حکومت نے کچرا پھینکنے اور گٹر بلاک کرنے والے مبینہ شرپسندوں کی نشاندہی کرنے پر ایک لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں ان دنوں حکومت سندھ کی جانب سے صفائی مہم جاری ہے۔ اس سے قبل وفاقی حکومت اور شہری حکومت کے اشتراک سے یہ مہم چلائی گئی تھی۔ رواں مہم کے دوران سات ہزار ٹن یومیہ کچرا اٹھایا جا رہا ہے۔

’واٹس ایپ پر ویڈیو بھیجیں لکھ پتی بنیں‘
صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ کی مشاورت سے ایک واٹس ایپ نمبر مختص کیا گیا ہے۔ اس نمبر پر شہری ان شرپسندوں کی ویڈیو بھیجیں جو سڑک کے بیچ میں کچرا پھینک رہے ہیں، سیوریج لائن میں بوریاں، رضائیاں، تکیے، اینٹیں، فٹبال ڈال کر اسے بلاک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


ان لوگوں کی نشاندہی کرنے والوں کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا اور ایک لاکھ روپے نقد انعام بھی دیا جائے گا۔

’کچرا سڑکوں پر‘
حکومت سندھ کی جانب سے کراچی شہر میں ایک ماہ کے لیے صفائی مہم جاری ہے جس کی نگرانی کے لیے صوبائی وزرا کی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے اپنے ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ منگل کو وہ بلدیہ نمبر چار سے گزرے تو سڑک کے بیچ میں کچرا موجود تھا۔ انھوں نے جب حکام سے سوال کیا تو بتایا گیا کہ کل ہی کچرا اٹھایا گیا تھا رات کو پھر کسی نے پھینک دیا ہے۔ بقول صوبائی وزیر کے اگر کچرے کا معائنہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پرانا ہے۔

سعید غنی کے مطابق پاک کالونی کی سڑک پر جاتے ہوئے انھوں نے خود دیکھا کہ کچرا سڑک کے سائیڈ پر موجود تھا ایک شخص بیلچے سے اسے بیچ سڑک پر پھینک رہا تھا۔ انھوں نے اس کی تصاویر بھی بنائی ہیں لیکن وہ شخص بھاگ گیا۔

کراچی میں تین اضلاع سے کچرا اٹھانے کی ذمہ داری سندھ سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ کی ہے۔ صوبائی وزیر سعید غنی کے مطابق ایک ایسی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں گلستان جوہر کے علاقے میں چینی کمپنی کے ٹرک میں ڈسٹ بن لادنے کے بجائے ایک نوجوان کچرا سڑک پر پھینک دیتا ہے اور خالی ڈبہ گاڑی میں لوڈ کر دیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا ’جتنے بھی ڈسٹ بن ہیں ان میں ایک چپ لگی ہوئی ہے، چینی کمپنی کا جو کمانڈ اور کنٹرول روم ہے اس میں ریکارڈ ہوتا ہے کہ کتنی بار ڈبہ خالی ہوا۔ حکومت کے پاس یہ ویڈیو موجود ہے اور اس شخص کی تلاش کی جا رہی ہے۔‘


سیوریج لائن کا بہاؤ روکنے کی کوشش
کراچی میں سالڈ ویسٹ کے ساتھ سیوریج لائن بند ہونے اور پانی سڑکوں پر آنے کی شکایت بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ گذشتہ دنوں بارشوں کے بعد شہر کی مرکزی سڑکوں، شاہراہ فیصل اور ایم اے جناح روڈ پر پانی موجود رہا۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا کہنا ہے کہ دانستہ طور پر گٹر لائن بلاک کی گئی۔

یاد رہے کہ شاہراہ فیصل کا شمار ریڈ زون میں ہوتا ہے جس پر فوج، فضائیہ اور بحریہ کی تنصیبات کے علاوہ ایئر پورٹ اور ایئر بیس بھی واقع ہے۔ یہ ہی سڑک قومی شاہراہ کو بھی شہر سے منسلک کرتی ہے۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ایم ڈی اسد اللہ کا کہنا ہے کہ شہر کی ایم اے جناح اور شاہراہ فیصل سمیت چار مقامات پر دانستہ طور پر لائنیں بلاک کی گئیں کیونکہ پتھر اور بوریاں لڑھک کر مین ہول میں نہیں جا سکتے۔

’ملیر پندرہ، غصنفر علی روڈ، صدر میں ایم پی اے ہاسٹل کے پیچھے موجود سیوریج نالے میں بوریاں ڈالی گئیں، جبکہ بابائے اردو روڈ پر نویں محرم کے جلوس سے قبل سیوریج سڑک پر نکل آیا جب تلاش کی گئی تو اس میں سے بوریاں برآمد ہوئیں، لہذا مجھے سو فیصد یقین ہے کہ یہ دانستہ طور پر کیا گیا ہے۔‘


مین ہولز کی نگرانی
کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے زیر انتظام شہر میں چھوٹے بڑے چار لاکھ سے زائد مین ہول ہیں۔ چلیا سے لیکر کیماڑی تک بورڈ کے پاس 12 ہزار سے زائد ملازم ہیں۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ایم ڈی اسد اللہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے انجنیئرز کو کہا ہے کہ 18 سے 56 انچ کی جو بڑی لائنیں ہیں ان کے فاصلے سے مین ہول کھول کر دیکھیں کہ بہاؤ کہیں رکا ہوا تو نہیں ہے۔

وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے واٹر بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے دیکھیں اور لائن بلاک کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرائیں جبکہ ایڈیشنل آئی جی پولیس غلام نبی میمن کو بھی یہ ہی ہدایت دی گئی ہیں۔

صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا ہے کہ اس شہر کی وراثت کے جو دعویدار لوگ ہیں وہ ہی اس شہر کو گندہ بھی کرتے ہیں اور سیوریج لائن بھی بند کرتے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ صفائی مہم کامیاب ہو ورنہ ان کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی۔