کہاں چلی گئی وہ جرأت ایمانی، جو ہماری شناخت تھی؟ محمد طاہر مدنی

دفعہ 370 اور 35 اے کو ختم کرنا، ایک خالص پولیٹیکل اسٹینڈ ہے، جو بھاجپا کے منشور میں بہت پہلے سے شامل ہے، 370 رہے یا نہ رہے، یہ ایک سیاسی بحث کا موضوع ہے، اس پر الگ الگ رائیں پائی جاتی ہیں، اختلاف رائے ہے اور رہے گا .

جمہوری ممالک میں مختلف موضوعات پر اختلاف ہوتا ہے اور مباحثہ بھی جاری رہتا ہے لیکن موجودہ حکومت نے جس طرح سے اس سلسلے میں قدم اٹھایا ہے ، اس سے بہت سارے لوگوں کو شدید اختلاف ہے اور اس کا اظہار بھی ہورہا ہے. یہ الگ بات ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت کے پاس عددی برتری حاصل ہے اس لیے آسانی سے منظوری مل گئی ، جس طرح طلاق ثلاثہ بل اور یو اے پی اے میں ترمیمی بل کو مل گئی. البتہ یہ سب جمہوری اقدار اور آئین کے روح کے منافی ہے ، اسی لیے ان تینوں معاملات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے. کشمیر کے سلسلے میں حکومت نے جو بے ضابطگی کی ہے اس کے متعدد پہلو ہیں؛ 1... اتنے اہم معاملہ پر کوئی ڈائیلاگ نہیں کیا گیا.... 2. بل کا مسودہ کم از کم دو روز قبل آنا چاہیے تھا ، عین وقت پر پیش کیا گیا، اس پر کیا بحث ہوپاتی؟ ....3. اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا.....4. کشمیری رہنماؤں سے کوئی بات چیت نہیں کی گئی.....5. کشمیر اسمبلی کے وجود کا انتظار نہیں کیا گیا. .....6.. 370 کی تاریخی حیثیت کو یکسر نظر انداز کیا گیا .....7. وادی میں اضافی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کے ذریعے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کردیا گیا......9.. اختلاف رائے کو ملک سے غداری باور کرایا گیا.....

10. عوام کو گمراہ کرنے کے لیے اس دفعہ کو ریاست کی ترقی میں رکاوٹ بتایا گیا جبکہ کشمیر کی حالت گجرات سے بھی اچھی ہے. ....11. سیاسی اور سماجی رہنماؤں کو قید کردیا گیا.......12.. 80 لاکھ کشمیریوں کو محصور کرکے دنیا سے ان کا رابطہ منقطع کردیا گیا، انٹرنیٹ اور موبائل کی سہولیات سے انہیں محروم کردیا گیا. 13.. ملک کے مختلف مقامات پر زیر تعلیم کشمیری طلبہ کا رابطہ اہل خانہ سے کاٹ دیا گیا......14.. اس اقدام کیلئے عید الاضحٰی کے موقع کا انتخاب کرکے اہل کشمیر کو نماز عید کی ادائیگی اور قربانی کی سنت سے محروم کر دیا گیا.....15.. جمعہ مساجد کو مقفل کردیا گیا ، سری نگر کی مرکزی جامع مسجد میں ہفتوں سے جمعہ نہ ہوسکا.....16. کرفیو اور دفعہ 144 کی وجہ سے محنت مزدوری اور چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والے بھکمری کے کگار پر پہنچ گئے........17. صحافیوں کے کام میں رکاوٹ کی وجہ سے ذرائع ابلاغ کی کارکردگی شدید طور سے متاثر ہوگئی......18. غلام نبی جیسے سیاسی رہنما کو دورہ کشمیر کیلئے سپریم کورٹ کا سہارا لینا پڑا................19. اپوزیشن کے وفد کو ائرپورٹ ہی سے واپس کردیا گیا.....................20. ایک ایسی ریاست جسے خصوصی حیثیت حاصل تھی، اس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا اور ریاست کا درجہ ختم کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنا دیا گیا......یہ سب کچھ کیوں کیا گیا؟

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کی چیخیں - صائمہ مطاہر

سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے، چنانچہ مہاراشٹر اسمبلی الیکشن کے بارے میں وزیر داخلہ نے اعلان کردیا کہ یہ چناؤ ہم 370 پر لڑ رہے ہیں. سیاسی رہنما، دانشور، صحافی اور سماجی کارکن اپنا احتجاج درج کرا رہے ہیں اور حکومت کے اقدامات پر سخت تنقید کر رہے ہیں اور کشمیریوں پر جو بے جا پابندیاں عائد ہیں ان کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور کشمیر کی اصل صورتحال بتانے کی جدوجہد کر رہے ہیں، مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملی رہنما یہ اعلان فرما رہے ہیں کہ ہم حکومت کے ساتھ ہیں، حد تو یہ ہے کہ بین الاقوامی پلیٹ فارم سے بھی اس کا اعلان کیا جارہا ہے. کہاں گئی ہماری جرات ایمانی؟ کہاں گئی ہماری حمیت و غیرت، کہاں گئی ہماری اخوت و محبت؟ اس وقت ملی رہنماؤں کو وادی کشمیر کا دورہ کرنا چاہیے تھا، کشمیریوں کے دکھ درد کو بانٹنا چاہیے تھا، وہاں کی اصل صورتحال بےنقاب کرنا چاہیے تھا اور ناروا پابندیوں کو ہٹانے کا پرزور مطالبہ کرنا چاہیے تھا، مگر افسوس صد افسوس ہم بھاجپا کے پروپیگنڈے کا آلہ کار بن رہے ہیں..... مؤرخ ہمارے بارے میں کیا لکھے گا؟
قلم نہ جانے مؤرخ کا ہم کو کیا لکھے - نہ مومنوں کی طرح ہیں نہ کافروں کی طرح