ناخن تراشنے کا شرعی حُکم

سوال: کیا ناخن تراشنے کا کوئی خاص وقت یا دن یا طریقہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے؟

جواب: حدیث میں ہے :ترجمہ:’’ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: ( رسول اللہ ﷺ نے) ہمارے لیے مونچھیں تراشنے ،ناخن کاٹنے ،بغل کے بال اکھاڑنے (یا مونڈھنے) زیرِ ناف مونڈھنے کی انتہائی مدت یہ مقرر فرمائی کہ ہم چالیس دن سے تجاوز نہ کریں‘‘۔ (صحیح مسلم:258)

اس حدیث کی شرح میں امام شرف الدین نوویؒ لکھتے ہیں: ترجمہ: ’’ جب صحابی ؓیہ کہے: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم فرمایا ہے یا ہمارے لیے فلاں کام کی یہ حد مقرر کی ہے تویہ حدیث مرفوع کے حکم میں ہے (کیونکہ صحابی رسولﷺ سے یہ بعید ہے کہ وہ آپ ﷺ کی طرف ایسی بات منسوب کریں جوآپ نے نہیں فرمائی)‘‘

علامہ ابن حجرعسقلانیؒ نے لکھاہے: ترجمہ:’’ جب بھی اور جس حال میں اس کی ضرورت ہو ،مستحب ہے ‘‘۔

صحیح مسلم میں مجہول کے صیغے سے اور سُنَن میں معروف کے صیغے سے روایات آئی ہیں ، مُحدّثین نے انہیں ضعیف کہا ہے اور فضائلِ اعمال میں ضعیف احادیث معتبر ہوتی ہیں اور مختلف ضعیف روایات ایک دوسرے کے لیے تقویت کا باعث ہوتی ہیں ۔

اسی طرح جمعہ کے دن زوال سے قبل ناخن تراشنے کو مستحب قرار دیا گیا ہے ،اس کی بابت بھی بعض ضعیف روایات موجود ہیں ۔

علامہ ابن حجر عسقلانی ؒنے کہا ہے: ترجمہ:’’جس صورت میں بھی ضرورت پڑے ،ناخن کاٹنے مستحب ہیں،(فتح الباری لابن حجر ،جلد10،ص:346) ‘‘ نیز انہوں نے لکھا :ترجمہ:’’نہ ناخن کاٹنے کی کیفیت (کہ کس ترتیب سے کاٹے جائیں )اور نہ کاٹنے کے لیے دن کی تعیین میں نبی ﷺ سے کوئی چیز ثابت ہے‘‘۔ (مقاصدالحسنہ : 772)

امام احمد رضاقادریؒ نے لکھاہے: ’’کَیْفَ مَااِتَّفَقَ‘‘یعنی جس ترتیب سے بھی بن پڑے اور جس دن بھی موقع ملے یا ضرورت محسوس ہو ،ناخن کاٹ لے ،اس کی تعیین یا منع میں کوئی حدیث صحیح وارد نہیں ہے‘‘۔

تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے : ترجمہ:’’ حدیثِ پاک میں ہے : ’’جو جمعہ کے دن اپنے ناخن تراشے گا ،اللہ تعالیٰ اسے اگلے جمعہ اورتین دن زائد تک مصائب سے محفوظ رکھے گا‘‘۔

’’دُرر‘‘ اور جواپنے ناخن مخالف سمت سے کاٹے گا ،اُسے کبھی آشوبِ چشم نہیں ہوگا۔

جس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے :’’ اپنے ناخن سنت اور ادب سے کاٹو ،اس کا دایاں خوابس ہے اور بایاں اوخسب ہے ‘‘ اس کی وضاحت اورتمام تفصیل ’’مفتاح السعادۃ‘‘ میں ہے ۔

’’شرح غزاویہ‘‘ میں یہ روایت بیان کی گئی ہے : رسول اللہ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگشتِ شہادت سے آغاز کیا اورخنصر تک انہیں تراشا ،پھر بائیں ہاتھ کی خنصر سے لے کر انگوٹھے تک اسے کاٹا اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر اختتام کیا ،امام غزالیؒ نے احیاء العلوم میں اس کی انتہائی خوبصورت توجیہ ذکرکی ہے ،پاؤں کی انگلیوں میں کوئی روایت ثابت نہیں ،فرمایا: بہتریہ ہے کہ انہیں یوں تراشا جائے ،جس طرح ان کا خلال کیاجاتاہے‘‘۔ (جلد9، ص:495-496، بیروت)

امام غزالیؒ نے لکھا:’’ناخن کاٹنے کی ترتیب کے بارے میں کُتُبِ احادیث میں مجھے کوئی روایت نہیں ملی ،لیکن ایک ترتیب نبی اکرم ﷺ کی طرف منسوب ہے کہ آپ ﷺ نے پہلے دائیں ہاتھ کی انگشتِ شہادت کا ناخن کاٹا پھر بالترتیب دائیں ہاتھ کے ناخن کاٹے، پھر بائیں ہاتھ کی چھنگلی سے شروع کیا اور انگوٹھے تک پورے ناخن کاٹے اور آخر میں دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹا، پھر انہوں نے اس ترتیب کی حکمت بھی بیان فرمائی،(احیاء العلوم ، جلد1، ص:141)‘‘۔

غرض رسول اللہ ﷺ سے ناخن کاٹنے کی ترتیب کے بارے میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے ،سو اس ترتیب کو آداب پر محمول کیاجائے ۔