جموں و کشمیر اور عالمی رویہ - چوہدری محمدالطاف شاہد

امریکا، انڈیا اور اسرائیل کا رومانس اگرقیام امن کیلئے معاون ہوتا تو ہمیں خوشی ہوتی مگر یہ تو انسانیت کیلئے زہرقاتل ہے۔ڈونلڈٹرمپ اور نریندرمودی دونوں کامائنڈسیٹ مختلف نہیں۔کشمیرمیں بھارتی جارحیت نے مقتدرقوتوں کی منافقت بے نقاب کردی۔ مودی نے جموں وکشمیرمیں جوظلم کا بازارگرم کیا وہ اپنے بیرونی آقائوں کی آشیرباد کے بغیر ایسا ہرگز نہیں کرسکتا تھا ۔

حیوانوں کے ہمدرد نام نہاد مہذب ملک جموں و کشمیر میں انسانوں کے حقوق کی پامالی پرکیوں خاموش ہیں۔ جموں کشمیر میں کشمیری بیٹیوں کی آبروریزی پرامریکا ، برطانیہ ، کینیڈا ، فرانس اوریورپ کی خواتین نے ابھی تک شورکیوں نہیں مچایا۔کشمیریوں اورفلسطینیوں سمیت دنیا کے مظلوم مسلمانوں کی باری اقوام متحدہ کا "چارٹر'' مقتدر ملکوں کے پائوں کیوں چاٹ رہا ہوتا ہے ۔ مودی نے کشمیرمیں جوآگ بھڑکائی ہے اگر وہ فوری نہ بجھی تو پورابھارت اس میں جلے گا۔جموں وکشمیرمیں ہر روز اور ہر پل تاریخ کا بدترین انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، ہزاروں کو شہید اور ہزاروں کو قیدکردیا گیا اور جوباقی ہیں انہیں زندہ نعش بنادیاگیا ہے۔ دنیا کے دوہرے معیار نے انسانیت کیلئے کشت وخون کے سوا کچھ نہیں دیا ۔عالمی ضمیرکے دوہرے معیار نے مودی کوہٹلر بنادیا ۔برطانیہ ، یورپ اورپاکستان سمیت دنیا کے متعدد ملکوں میں کشمیر میں بھارتی بربریت کیخلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ پچھلے دنوں امریکن قونصلیٹ لاہور کے باہر ستم زدہ کشمیریوں کے حقوق کی پامالی کیخلاف اور جموں وکشمیرکی آئینی حیثیت کی بحالی کے حق میں انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے عہدیداران اور ارکان نے پر امن احتجاجی مظاہر ہ کیا ۔مظاہرے میں خواتین اورمعصوم بچے بھی شریک ہوئے، بیسیوں بچے کشمیری بچوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کرنے کیلئے اپنے چہروں پرمصنوعی خون لگا کرمظاہرے میں شریک ہوئے۔

مظاہرے کے دوران پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔میں سمجھتاہوں اقوام متحدہ اپنے رواں اجلاس میں دوٹوک انداز میں کشمیریوں کواپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کاحق اوراختیار دے۔ مودی مائنڈسیٹ نے کشمیریوں کی آزادی کیلئے مزاحمت اوران کے علم بغاوت پرسچائی کی مہر ثبت کردی ہے ۔ دنیاجہان کے مہذب اورباضمیرانسان جموں وکشمیرمیں مسلسل 50 روز سے کرفیو کی آڑ میں کشمیریوں کی نسل کشی ، ماورائے قانون گرفتاریوں جبکہ کشمیری خواتین کی آبروریزی اوربھارتی درندوں کی طرف سے وہاں سیب کے باغات کی کٹائی پر انتہائی غم وغصہ اورگہری تشویش کااظہارکرتے ہوئے مودی کوجنگی مجرم قرارد ینے اور عالمی عدالت انصاف میں اس کا فوری ٹرائل کرنے پرزورد ے رہے ہیں۔ امریکن قونصلیٹ لاہورکے باہر پرامن احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ اورورلڈکالمسٹ کلب کے مرکزی عہدیداران محمددلاورچوہدری ،محمدناصراقبال خان،کاشف سلیمان ،محمدرضاایڈووکیٹ،تنویرخان ،مخدوم وسیم قریشی ،اشفاق احمدکھرل،میاں محمداشرف عاصمی ، کامران رفیق ، ممتازاعوان ، سلمان پرویز ، سلطان حسن بٹ ، ناصر چوہان ، محمدیونس ملک ، عمران حیدر ، جان محمد ، نوشادحمیداورافشاں لطیف دوران خطاب اپنے اپنے انداز میں مودی کی مجرمانہ سرگرمیوں کی چارج شیٹ سنائی بلکہ دہائی دی جبکہ محمدناصراقبال خان نے بھارتی فسطائیت کیخلاف قراردادپیش کی جوشرکاء نے متفقہ طورپر پاس کردی ۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ جگہ جہاں مرد بھی محفوظ نہیں - نعیمہ احمد مہجور

آج کشمیریوں اور فلسطینیوں سمیت دنیا کا ہر مظلوم انسان امن ، انصاف اور اپنے حقوق کیلئے بہت امید کے ساتھ اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہا ہے، انہیں آزادی کی نویدکون سنائے گا ۔ دعا ہے اقوام متحدہ کی عمارت میں تجارت نہیں بلکہ انسانیت کی بنیاد پر فیصلے ہوں اورہماری دنیا امن وآشتی کاگہوارہ بن جائے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا جدید سے جدید تر ہتھیاروں کی تیاری اور تجارت چھوڑ کر بھوک اور بیماریاں مٹانے کیلئے اپنے وسائل صرف کرے ۔اقوا م متحدہ کے سیکرٹری جنرل تاریخ رقم کرسکتے ہیں ، یقینا ہر دور کا مورخ انہیں فراموش نہیں کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ انسانیت اورعالمی امن کوبچانے کیلئے حکمران نہیں مسیحا اور نجات دہندہ ہوناضروری ہے۔ اگربھارت نے کئی دہائیوں بعد بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری نہیں کی تواس کاوہاں کیا کام ہے ۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کودو ٹوک انداز سے کشمیریوں اورفلسطینیوں کے مستقبل کافیصلہ کرنا ہوگا ۔ بھارتی وزیراعظم مودی کے انتہا پسندانہ اقدام نے دنیا میں بدترین عدم استحکام پیدا کر دیا ہے۔ عالمی ضمیر کو انسانیت کی بقاء اورجمو ں و کشمیرکا پرانا آئینی تشخص بحال کرنے کیلئے بھارت پر دباو ڈالنا ہوگا ورنہ دو ایٹمی ملکوں میں تصادم سے ماحولیات اورفطرت پرانتہائی منفی اثر پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ مودی اپنے اقتدار کے دوام اوراستحکام کیلئے نوملین کشمیریوں کوزندہ درگورکرنے کے درپے ہے۔

جموں و کشمیرمیں پچھلے پچاس دنوں سے کشمیریوں کیلئے پانی ، خوراک ، ادویات ،مساجد ، تعلیمی ادارے ، بازار اور ہسپتال بند ہیں ، وہ جی سکتے ہیں اور نہ انہیں چین سے مرنے کاحق حاصل ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی سات دہائیوں سے جاری تحریک آزادی کوایک آئینی ترمیم سے کچلنے کی سازش کامیاب نہیں ہوگی ۔کشمیری بچے پچھلے پچاس روز سے تعلیم اور تفریح کے بنیادی حق سے محروم ہیں ،بچوں کی آنکھوں کے سامنے ان کے پیاروں کوشہید کیاجارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے بندوق اور بارود کے زور پرجموں وکشمیر کے نسل درنسل مقامی افراد کو بےدخل کرنا اور وہاں ہندوئوں کو آباد کرنا انصاف ہے اور نہ انسانیت ۔ جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کے نظربند ہرایک سرخیل اور ہرایک گرفتار کشمیری کو فوری رہا کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ انسانیت کا تقاضا تو یہ ہے کہ دنیا کی مقتدرقوتوں کی طرف سے کشمیر ی جوانوں کے قتل عام جبکہ کشمیری بیٹیوں کی آبروریزی میں ہر ایک انتہا پسند اور متعصب ہندو فوجی اور سویلین کو جنگی مجرم قراردیتے ہوئے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔دنیا کا ہر مہذب ملک بھارت پر تجارتی پابندیاں عائد اور اسے شدت پسند ریاست ڈکلیئر کرے ۔انہوں نے کہا کہ مودی نے انسانیت کی رگ رگ میں نفرت کا زہر بھر دیا ، وہ عالمی امن کی نابودی کے درپے ہے ۔