کیا مسلمان دوبارہ عروج حاصل کر سکتے ہیں؟ پروفیسر جمیل چودھری

اس طرح کے سوالات کئی نوجوان مجھ سے پوچھتے رہتے ہیں۔ وہ جب اپنی ابتدائی زمانے کی تاریخ پڑھتے ہیں اور موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے انتہائی برے حالات دیکھتے ہیں، تب ان کا ذہن صاف نہیں رہتا۔ کئی دفعہ نوجوان اپنی تاریخ کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ دنیا کے بڑے بڑے ملکوں اور اقوام پر حکمرانی کرنے کی باتیں سنتے اور پڑھتے ہیں، اور آج کل اس کے برعکس ان پر حکمرانی کی جا رہی ہے۔ علماء دین ان کو گزشتہ دور کی باتیں انتہائی جذباتی انداز سے بتاتے ہیں۔ ابتدائی دور اسلام کا تجزیہ عقل و خرد پر مبنی نہ علماء بتاتے ہیں اور نہ ہی ابتدائی دور کے تاریخ دان۔ موجودہ دور کے تمام نوجوانوں کے سامنے ایک Paradox کی کیفیت ہے۔ وہ اپنی ڈیڑھ ارب آبادی جو موجودہ کئی اقوام سے زیادہ ہے، اس کو ایک بڑی طاقت کے طور پہ دیکھتے ہیں۔ ایسے ہی ممالک کی تعداد جو 56 کے قریب ہے۔ اس بڑی آبادی اور ممالک کو موجودہ کرۂ ارض کی طاقتور قومیں روندتی رہتی ہیں۔

نوجوان یہ بھی پوچھتے ہیں کہ آخر مسلمان ممالک میں ہی کیوں لڑائیاں ہیں۔ مسلمانوں کو ہی کیوں تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ 21 ویں صدی کے شروع میں ہی افغانستان اور عراق برباد ہوگئے تھے۔ شام کی نصف آبادی کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ لیبیا میں مسلم دھڑے آپس میں ہی لڑ رہے ہیں۔ فلسطین میں قتل و غارت گری ایک عرصے سے جاری ہے۔ ظلم و ستم کی ایک نئی کہانی کشمیر میں شروع ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ کشمیریوں کا مستقبل بھی اچھا نظر نہیں آتا۔ کرۂ ارض کے وہ تمام براعظم اور ممالک جہاں غیر مسلم رہتے ہیں، آرام اور سکون سے زندگی گزارتے نظر آتے ہیں۔ اگر آفت برپا ہے تو صرف اور صرف مسلم آبادیوں پر۔ اس صورت حال کی مسلمانوں اور خاص طور پر نوجوانوں کو سمجھ نہیں آتی۔

پھر ایک اور سوال کہ مسلمان آپس میں ہی لڑ رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی سنی اور شیعہ لڑائیاں اب کوئی ڈھکی چھپی باتیں نہیں۔ مسلمان ہی ایک دوسرے پر میزائل اور ڈرون پھینک رہے ہیں۔ آپس کی لڑائیوں میں لاکھوں لوگ مارے جا رہے ہیں۔ مذاہب اور مسالک دیگر ملکوں میں بھی ہیں۔ لیکن ایک دوسرے کو مارنے کا عمل وہاں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ عیسائیوں میں فرقہ بندی تو ہے لیکن یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں فرقہ وارانہ لڑائیاں نہیں ہیں۔ پریس میں یہ بات دہائیوں سے نہیں سنی گئی کہ پروٹیسٹنٹ، کیتھولک اور آرتھوڈاکس عیسائی آپس میں لڑ رہے ہوں۔ لیکن مشرق وسطیٰ تو مسلکی لڑائیوں کا کھلم کھلا میدان جنگ بنا ہوا ہے۔

میں اپنے نوجوانوں کو1492ء میں لے جانا چاہتا ہوں۔ یہ بڑا اہم سال ہے۔ اس ایک سال پر کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہ وہ سال ہے جب مسلمانوں کی سپین میں آخری حکومت ختم کر دی گئی تھی۔ ملکہ ازابیلا اور فرڈیننڈ نے غرناطہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ سورج سپین پر 7 صدیاں شعاعیں بکھیرنے کے بعد مکمل طور پر غروب ہوگیا تھا۔ مسلمان کچھ افریقہ آ گئے، کچھ مارے گئے اور کچھ نے اپنے کاروبار اور جائیدادیں بچانے کے لیے مذہب تبدیل کر لیا۔ سپین کے رہنے والے یہودی ترکی کی طرف ہجرت کرگئے اور وہاں جا کر اپنے مخصوص رہائشی علاقے بنا لیے۔ اسی سال کا دوسرا اہم واقعہ نئی دنیا کی دریافت ہے۔ کولمبس 3 اگست 1492ء کو اپنے 3 جہازوں کے ذریعے سفر پر روانہ ہوا۔ 12 اکتوبر کو وہ کیوبا کے جزائر تک پہنچ گیا تھا۔ بعد کی مہمات میں اس نے براعظم شمالی امریکہ کے تمام ممالک کو دریافت کر لیا تھا۔ یورپین اقوام نے یہ کام آئندہ بھی جاری رکھا۔ براعظم جنوبی امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی نئی دنیا پر یورپین قابض ہوگئے۔ اگر ہم گہرا غور و خوض کریں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ 1492ء سال کے بعد تمام کی تمام نئی دنیا عیسائی قبضے میں آگئی تھی۔ ان تمام نئے براعظموں کے علاقوں پر یورپین قومیں آ کر آباد ہو گئیں۔ یہاں سے بے شمار سونا، چاندی اور ہیرے جواہرات یورپ میں آئے۔ اس دولت کو یورپی لوگوں نے یونیورسٹیاں اور کارخانے بنانے پر صرف کیا۔ دوسری طرف یورپ میں احیاء علوم اور اصلاح مذہب کی تحریکیں بھی کامیابی سے جاری تھیں۔ فرانسیسی انقلاب نے بھی یورپ کو بدلا اور صنعتی انقلاب سے تو یورپ انتہائی طاقتور ہوگیا۔ پھر اس نے قدیم ایشیاء اور افریقہ پر بھی قبضہ کیا۔ افریقہ چونکہ بہت غریب تھا لہذا یہاں عیسائیت کو پھیلنے میں دیر نہیں لگی۔ براعظم افریقہ کا تمام جنوب عیسائی ہوگیا۔ کرۂ ارض کے شمال میں روس کا علاقہ ایک عرصہ پہلے سے آرتھوڈکس عیسائت کے تحت تھا۔ اگر آپ 1492ء کے بعد کا کرۂ ارض دیکھیں گے تو یہ کرۂ ارض آپ کو عیسائی کرۂ ارض نظر آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمانوں کی موجودہ صورتحال اور اسکا علاج - عطاء الرحمن بلھروی

یہ صورت حال اب تک جوں کی توں ہے۔ اس میں تبدیلی کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نہیں ہے۔ صلیبی جنگوں کے وقت عیسائت صرف یورپ تک محدود تھی۔ لیکن اب یہ مذہب اور اس کے تحت حکومتیں پورے کرۂ ارض پر چھائے ہوئے ہیں۔ لبرلزم کی باتیں ایک حد تک ہیں۔ میں نے جو علاقے گنوائے ہیں، وہاں کے لوگوں کی رگوں میں عیسائی خون دوڑتا ہے۔ ترکی کو یورپی یونین کا ممبر نہ بنانے کے راستہ میں بھی عیسائیت رکاوٹ ہے۔

میں نے کرۂ ارض پر قابض موجودہ طاقتوں کو کافی وضاحت سے بیان کیا ہے۔ مسلمانوں کے پاس وہ تمام علاقہ بھی نہیں ہے جو ابتدائی اسلامی صدیوں میں فتح کیا گیا تھا۔ چین اور روس نے کافی علاقوں پر آگے بڑھ کر مسلمانوں سے علاقے واپس لے لیے تھے۔ زاروں کے زمانے اور کمیونسٹوں کے زمانے میں روس جنوب کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا رہا اور مسلم علاقوں پر قبضہ کرتا رہا۔ جب کمیونسٹ روس ٹوٹا تو مسلمانوں کو تھوڑا بہت پرانا علاقہ واپس ملا۔ ترکی کا فتح کردہ یورپ عیسائی قوتوں نے جلد ہی واپس لے لیا تھا۔ اب ترکی اپنے قدیم اور آبائی علاقے تک محدود ہے۔ جب نئی دنیا دریافت ہو رہی تھی تب مسلمانوں کی 3 طاقتور ریاستیں کرۂ ارض پر موجود تھیں۔ ترکی، ایران اور مسلم انڈیا۔ لیکن یہاں کے حکمرانوں، نوابوں اور سپہ سالاروں کو نئی دنیا کی طرف جانے کی سوجھی ہی نہیں۔ یہ حکمران خواتین کے جھرمٹوں میں مصروف رہے اور عیاشیاں کرتے رہے۔ سکالر اکبر ایس احمد نے ان باتوں کو کافی تفصیل سے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے۔

اس وقت بڑے بڑے اور پورے کے پورے براعظم کرسچین قوت کے ماتحت آ چکے ہیں۔ وسائل اور علاقے کا یہ فرق کم ہوتا نظر نہیں آتا۔ مسلمانوں کا سائنسی دور عروج گزرے 5 صدیاں گزر چکی ہیں۔ یورپ میں ہی تعلیم، سائنس اور معیشت میں بڑی بڑی تبدیلیاں گزشتہ صدیوں میں آئیں۔ یہی تعلیمی، سائنسی اور معاشی روایات امریکہ پہنچیں، اور یورپ کی طرح یہاں بھی سائنس، ٹیکنالوجی اور نئی نئی ایجادات نے ہر شے کو بدل دیا۔ کبھی فرانس اور برطانیہ سپرپاور تھے۔ اب امریکہ سپر پاور ہے۔ کچھ عرصہ کے لیے عیسائی روس بھی سپر پاور رہا۔ اگر کل کلاں امریکہ پر زوال آتا ہے تو 28 ممالک کے وسائل پر مشتمل یورپی یونین امریکہ سے سپرپاور کا چارج لینے کے لیے پہلے ہی تیار ہے۔ روس پھر ایک طاقتور ملک بن گیا ہے۔ چین کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ وہ دنیا کی دوسری بڑی معاشی قوت بن چکا ہے۔ اسے میں اشیاء سازی کا کوہ ہمالیہ کہا کرتا ہوں۔ جاپان کی بنائی ہوئی معیاری مشینری اور آٹوموبائل کی دنیا بھر میں بڑی مانگ ہے۔ جاپان تیسری بڑی معاشی قوت شمار ہوتا ہے۔ بھارت ہمارے ہمسائے کا ذکر میں اکثر اپنے کالموں میں کرتا رہتا ہوں، اس کی معیشت اب گنتی کے لحاظ سے 7 ویں بڑی شمار ہوتی ہے۔ اس کی آہستہ روی کسی وقت ختم بھی ہو سکتی ہے۔

امریکہ نے اب خلا پر بھی کافی کچھ بنا لیا ہے۔ سپیس سنٹر اور ہبل دوربین اور بےشمار مصنوعی سیارے اس وقت اوپر گردش میں ہیں، اور وہ ان سے بےشمار فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس کا نیا اعلان خلائی فورس بنانے کا ہے۔ صرف امریکہ خلائی قوت نہیں ہے۔بلکہ روس، چین اور اب بھارت بھی اس دوڑ میں شریک ہوگیا ہے۔ کرۂ ارض پر کون کون کہاں قابض ہے، اور کتنی قوت رکھتا ہے۔ آپ کو اس کا اندازہ ہو گیا ہوگا۔ امریکہ اس وقت اگر سپر پاور ہے تو سائنس، ٹیکنالوجی اور بڑی معیشت کی وجہ سے ہے۔ چند دن پہلے ٹرمپ اور مودی نے امریکہ کے ایک بڑے ہال میں مل کر خطاب کیا۔ اس میں مسلمانوں کے خلاف مل کر لڑنے کا اعلان تھا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ کرسچن قوت کے ساتھ اب ہندو بھی شامل ہوگئے ہیں۔ مجھے پاکستان کے لیے خطرات بڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ امریکی افواج پہلے ہی خلیج کے ہر ملک میں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   امت مسلمہ کی آواز - انیلہ افضال

ان مشکل حالات میں رہتے ہوئے مسلمانوں نے اپنا مستقبل محفوظ بھی کرنا ہے، اور آگے بھی بڑھنا ہے۔ ابھی اپنے آپ کو اپنی قوت کو محفوظ رکھنا اہم ہے۔ عروج کی باتیں ابھی بہت دور ہیں۔ مسلمانوں کو سب سے پہلے فرقہ وارانہ لڑائیاں ختم کرنا ضروری ہیں۔ سعودی عرب اور ایران اپنی مسلکی لڑائیاں ختم کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ ترکی اور پاکستان اس میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔ جب تک مشرق وسطیٰ ان لڑائیوں کو چھوڑ کر متحد نہیں ہوتا، مسلمانوں کا مستقبل محفوظ نہیں ہو سکتا۔ دشمن چاہے گا کہ ان میں لڑائیاں جاری رہیں۔ مسلمانوں کے بہتر مستقبل کے لیے یہ نقطہ آغاز ہو سکتا ہے۔ ایران اپنے جنگجو نوجوانوں کو شام اور عراق سے واپس بلائے۔ حوثیوں اور سعودیوں میں کوئی مسلم ملک آگے بڑھ کر صلح کرائے۔ مسلم ممالک میں جنگ وجدل ختم ہوگی تو آگے بات بڑھ سکتی ہے۔

دوسرا اہم نقطہ مسلمانوں کے لیے تعلیم پر توجہ دینے سے متعلق ہے۔ اسلام کی تعلیم مسلک سے بلند ہو کر دی جائے تاکہ مسلمان اپنے کو ایک قوم سمجھیں۔ تعلیم کے لیے ہر مسلم ملک اپنی آمدنی کا بڑا حصہ صرف کرے۔ تعلیم، تحقیقی و تخلیقی طرز کی ہو، یونیورسٹیوں سے کچھ New Processes اور نئی ٹیکنالوجی پیدا ہوں۔ یہ ٹیکنالوجیز زندگی کے مختلف شعبوں میں استعمال ہوں۔ صنعتوں کو اپنی نئی ٹیکنالوجیز سے جدید بنایا جائے۔ ابھی تک تمام مسلم ممالک مانگی ہوئی ٹیکنالوجیز پر انحصار کر رہے ہیں۔ مغرب مسلمانوں کی اس کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔ تحقیق، تخلیق، نئے طریقے، نئی ٹیکنالوجیز، اختراعات اور ایجادات کا مسلم نوجوانوں کو کلچر بنانا چاہیے۔ اپنی ٹیکنالوجیز کی بنا پر صنعتوں میں اشیاء سازی کریں اور دنیا کو برآمد کریں۔ اسی صورت میں دنیا میں مسلمانوں کا اعتبار قائم ہوگا۔ زراعت میں بھی بہت کچھ نیا ہونا ضروری ہے۔ 21 ویں صدی کو نیا زمانہ سمجھ کر آگے بڑھیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجیز میں ذہین نوجوان اپنی زندگیاں کھپائیں گے تو مغرب کے برابر کھڑے ہوسکیں گے۔

پوری مسلم دنیا میں کتب بینی کو رواج دینا ضروری ہے۔ مذہبی کتابوں کے ساتھ ساتھ ادب، فلسفہ، سائنس، ٹیکنالوجی، ریاضی اور دیگر ہزاروں علوم کی طرف توجہ دینی ضروری ہے۔ شہروں اور دیہاتوں میں ہر ضروری مقام پر لائبریری کا قیام ضروری ہے۔ موجودہ طاقتور قوموں میں تبدیلی کتب بینی سے ہی آئی ہے۔ جب آپس کے جھگڑے ختم ہوجائیں گے تو مسلم ملک اپنا تجارتی گروپ بنائیں۔ آپس کی تجارت بڑھانا ضروری ہے۔ دنیا میں اتحاد مادی مفادات کی بنا پر بنتے اور کامیاب ہوتے ہیں۔ یہی تجارتی اتحاد بعد میں دفاعی اتحاد میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس طرح کرۂ ارض پر مسلمانوں کا مستقبل محفوظ بھی ہوگا۔ یہی طریقے انہیں عروج کی طرف لے جائیں گے۔

طاقتور غیر مسلم اقوام کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کے لیے ابھرنا اور عروج حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔ کرۂ ارض کے مرکز میں ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو کئی فوائد بھی حاصل ہیں۔ اکثر ہوائی اور بحری راستے مسلمانوں کے پاس ہیں۔ ان سے اجتماعی طور پر فائدہ اٹھایا جائے۔ یہ عرصہ کئی دہائیوں پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ اس عرصے میں جنگ و جدل سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ کسی حملہ آور کاجواب دینا دوسری بات ہے۔ میں نے آگے بڑھنے کا روڈ میپ واضح طور پر بنا دیا ہے۔ اس پر عمل درآمد کرانا لیڈرشپ کا کام ہے۔