قرآن کا چاند بننا ہے، مگر کیسے؟ - حنانرجس

١. اتباع کیا ہے؟ ہم میں سے کون نہیں چاہتا کہ ہمارا شمار بھی ان نفوس میں ہو جنہیں دنیا و آخرت کے چیلنجنگ سفر میں نہ کوئی خوف ہوگا، نہ رنج؟ اس کیٹیگری میں شامل ہونے کے لیے آیت مبارکہ (البقرہ ٣٨) میں ایک ہی شرط بتائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی گئی ہدایت کی اتباع کرنی ہو گی.

یہ نہیں کہا گیا، اسے پڑھنا ہوگا. یہاں لفظ "اتباع" قابلِ غور ہے. اس کا مطلب ہے پیچھے پیچھے چلنا، ایسی اطاعت کرنا جس میں محبت کا رنگ غالب ہو. قرآن امام ہے اس کو فالو کرنا ہو گا. یہ نور ہے، اس کی روشنی میں راستہ تلاش کرتے ہوئے قدم آگے بڑھانے ہوں گے. یہ الھدی ہے، ایسی واضح رہنمائی جو منزل تک پہنچا کر ہی دم لے، گائیڈ اسی کو بنانا ہو گا. یہ فرقان ہے، جو ہر دوراہے پر صحیح اور غلط کی نشاندہی کر کے کنفیوز ہونے سے بچاتا ہے، اس کو سفر کا ساتھی بنانا ہو گا.

٢. جاہل کسے کہتے ہیں؟ قرآن مجید میں جب "جاہل" کا لفظ آتا ہے تو اس سے مراد وہ "جاہل" نہیں جو ہم اردو میں سمجھتے ہیں یعنی ان پڑھ. بلکہ ہر وہ انسان مراد ہے جو اپنے جذبات پر کنٹرول نہ رکھ سکے اور بآسانی ان سے مغلوب ہو جائے، خواہ وہ بظاہر کتنی ہی اعلی و ارفع ڈگریاں لے چکا ہو.

٣. ہمیں قرآن کا چاند بننا ہے، مگر کیسے؟ قرآن نور ہے، لائٹ ہاؤس ہے، اور ہم میں سے ہر ایک کو اس کا چاند بننا ہے. اس کی روشنی کو خود میں سمو کر منعکس کرنا ہے.

٤. قرآن میں موضوعات کی تکرار کیوں؟ قرآن مجید میں اہم موضوعات الفاظ کی ہلکی پھلکی تبدیلی کے ساتھ کم از کم دو بار بیان ہوئے ہیں. عموماً الفاظ کی تکرار کو تحریر کا نقص سمجھا جاتا ہے لیکن اسلوبِ قرآنی میں اسے اہم باتوں کو ذہن نشین کرانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے. اور لطف یہ ہے کہ تکرار کا یہ انداز، گراں گزرنے کے بجائے خوبصورتی سے دل کو چھوتا اور دماغ کو اپیل کرتا ہے.

ٹیگز

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.