"سودا ہو گیا" ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی روز رات آٹھ نو بجے کا وقت تھا ہم بہن بھائی والدہ کے ساتھ اپنے گھر کی قریبی مارکیٹ میں کون آئسکریم کھانے گئے ۔ مارکیٹ ایک مرکزی پارک کے گرداگرد واقع ہے ۔ بھائی نے دکان کی روشنیوں سے زرا ہٹ کے پارک کی طرف کار روک لی یہاں دور دکانوں سے آتی روشنیوں نے کچھ اندھیرا اجالا سا کیا ہوا تھا ۔

پارک کی بیرونی باونڈری کے ساتھ واقع فٹ پاتھ پر ایک عبایا پوش خاتون ایسے ٹہل رہی تھیں جیسے روڈ کراس کر کے مارکیٹ کی دوسری سمت جانا ہو لیکن رفتار کم تھی مجھے یاد ہے کہ اسے اکیلی اندھیرے میں واک کرتے دیکھ کے میں نے سوچا تھا کہ یہ کتنی بہادر لڑکی ہے یا مجبور ضرورتمند ہے جو رات کو اکیلی یہاں چل رہی ہے ۔ شاید اس کے گھر میں کوئی بیمار ہو یہ دوا لینے کے لیے نکلی ہو یا یہ کہیں جاب کرتی ہو اور اب فری ہو کے گھر جا رہی ہو ۔ میرے اندر کی آئیڈیئلسٹ نے اس کے عبایہ اور نقاب سے مرعوب ہو کے یہ بھی سوچا تھا کہ اپنی اقدار پر عمل پیرا ہونے نے اس خاتون کو یہ بہادری عطا کی ہے ۔ لیکن بس ' ہر نقاب پردہ نہیں ہوتا ' ۔ اس روز میں اسے ہی دیکھتی رہی ۔ اس خاتون کے پاس پہلے ایک سفید کار رکی ۔کسی نے پسنجر سیٹ سے کچھ کہا خاتون نے نفی میں سر ہلایا اور کار روانہ ہو گئی ۔ میں یہی سمجھی کہ اکیلا دیکھ کے لفٹ کی آفر کی ہو گی اور ایک اچھی لڑکی کی طرح اس نے انکار کر دیا ہو گا ۔ مجھے اچھا بھی لگ رہا تھا اور دلچسپی بھی تھی بس اس کے سست قدم مجھے الجھا رہے تھے ۔ چند لمحات بعد ایک کالی پجیرو آہستہ ہوئی اور اس کے پاس رکی ۔ پھر پسنجر سیٹ کا شیشہ اترا ۔ جھلک سے اندازہ ہوا کہ دو مرد سوار ہیں۔ اس دفعہ گفتگو کچھ طویل تھی لیکن خاتون کا سر پھر نفی میں ہلا اور جیپ آگے چلی گئی ۔

جاسوسی کہانیوں کی ٹریننگ نے ذہن میں خیال ابھرا کہ شاید کچھ ممنوعہ اشیا مثلا منشیات وغیرہ بیچ رہی ہو ۔ اپنی سوچ میں گم تھی کہ ہماری کار کی ڈرائیونگ سیٹ سے آواز آئی " سودا نہیں ہوا " . میں پچھلی سیٹ پر تھی اس جملے پر چونکی ۔ غور کیا تو کار میں سوار سبھی کی توجہ کا مرکز وہی خاتون تھی ۔ ایک دو منٹ بعد وہی پجیرو جس کی لائٹس مشکوک طور پر بجھی ہوئی تھیں پارک کا چکر کاٹ کے واپس آئی ۔ خاتون کے پاس رکی ۔ عقبی دروازہ کھول دیا گیا ۔ نقاب پوش خاتون آرام سے پجیرو میں سوار ہو گئی ۔ اس دفعہ پجیرو کے جانے کی رفتار تیز تھی ۔ ہماری کار کی فضا میں سانس چھوڑنے کی آواز سنائی دی اور تین لفظی جملہ گونجا .... " سودا ہو گیا "

ٹیگز

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.