دراڑ - حنا نرجس

اگر لوگ اس کے سفید بیضوی وجود کو پتھر سمجھتے تھے تو ایسا غلط بھی نہ تھا. دوسرے کالے، خاکی، بھورے، نیلگوں پتھروں کے ساتھ پڑا وہ پتھر ہی تو لگتا تھا. کسے خبر تھی کہ یہ اوپری پتھریلی تہ ہمیشہ سے تو اس کے وجود کا حصّہ نہ تھی. کبھی وہ سراپا نرمی و لطافت، خلوص و گرماہٹ اور محبت و گرم جوشی کا حوالہ ہوا کرتا تھا.

پھر تہ پر تہ چڑھتی چلی گئی اور گزرے وقت نے سختی کو اس کی واحد پہچان بنا ڈالا. کچھ دنوں سے موسم بہت سہانا تھا. وہ بھی مصنوعی زندگی گزارتے تنگ آ چکا تھا. ایک ہلکی سی درز سے اس نے جھانک کر دیکھا. وقت بدل چکا تھا. بہار آ چکی تھی. دل تبدیلی کے لیے مچلا. تھوڑا سا زور لگانے کی دیر تھی، درز، گہری دراڑ میں بدل گئی. لمبی لمبی سانسوں کے ساتھ ایک عرصے بعد اس نے تازہ ہوا کو خود میں سمویا. اوپر دیکھا، نیچے دیکھا، دائیں بائیں دیکھا اور کھل کر مسکرا دیا. "سب کچھ تو ٹھیک ہے پھر کیوں میں وہ بنا رہا جو میں نہیں ہوں... شاید میں مجبور کر دیا گیا تھا... افسوس اتنا وقت ضائع ہو گیا... پتہ نہیں اب کتنی مہلت باقی ہے... بس اب اور نہیں دبنا... کب تک جبر کا بوجھ اٹھاؤں... اب کھل کر جینا ہے ... مضبوطی کے ساتھ ... خوشیوں پر آخر میرا بھی حق ہے..."

اچانک ایک دھاڑ بلند ہوئی، پھر ایک روتی ہوئی چیخ، کراہیں، سسکیاں، بغاوت، جوابی حملہ... کچھ ساتھی ظالم کو میسر آ گئے، کچھ مظلوم کو... پھر وہ کہرام مچا کہ اللہ کی پناہ ... منظر دیکھا نہ جاتا تھا... وہ آنکھیں میچنے کو ہی تھا کہ ایک زور کا دھکا لگا ... لڑھکتا ہوا وہ دور جا گرا ... دراڑ پھر سے بند ہو گئی تھی ... کبھی نہ کھلنے کے لیے...!

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.