ایک اور ادھوری کہانی- خالد مسعود خان

کہانی بچپن سے میری کمزوری بھی ہے اور محبت بھی۔ کہانی سے میری شناسائی حرف اور لفظ سے آشنائی سے پہلے کی بات ہے۔ میں اب بھی جب کہانی پڑھتا ہوں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے سردیوں کی رات ہے۔ چوک شہیداں والے مکان کا بڑا کمرہ ہے۔ اسے ہم سب ہال کمرہ کہتے تھے۔ وہاں کوئلوں والی بڑی انگیٹھی جل رہی ہے۔ ابا جی مرحوم اور چچا رئوف مرحوم بڑے پلنگ پر ہیں اور باقی سب لوگ زمین پر بچھی دری پر گدے ڈال کر رضائیاں لیے کہانی سن رہے ہیں۔ ان سب لوگوں میں ماں جی، بھائی طارق مرحوم، گڑیا مرحومہ اور نگہت یعنی ہم سب گھر والے ہیں۔ تایا جی کے بچے ہیں۔ چچا عبدالرئوف کے سارے گھر والے ہیں۔ مونگ پھلی اور چلغوزے چل رہے ہیں۔ تب چلغوزے سٹیٹس سمبل نہیں ہوتے تھے۔ میں کبھی دادا جی والے بڑے پلنگ پر ابا جی کی گود میں گھس جاتا تھا اور کبھی نیچے آ کر ماں جی کی گود میں گھس جاتا۔ ماں جی کے پاس سب سے زیادہ مزے کی بات یہ تھی وہاں چلغوزے چھلے چھلائے مل جاتے تھے۔ ابا جی کی گود میں یہ سہولت ندارد تھی۔

ایسا ہر روز نہیں ہوتا تھا۔ تبھی ہوتا تھا جب اماں ممتازی اپنی بہو سے ناراض ہو کر ڈیرہ غازی خان سے ملتان آ جاتی تھیں۔ یہ اماں ممتازی کیا چیز تھیں۔ دنیا بھر کا وہ کون سا کام تھا جو انہیں نہیں آتا تھا۔ کھانا پکانا اور گھر گرہستی کے سارے کام تو بالکل عام سی بات ہے۔ گاچنی مٹی اور پرانے اخبارات کو پانی میں بھگو کو ملیدہ سا بناتیں اور اس ہلکے اور مضبوط مکسچر سے پیالے بناتیں جن میں پھول وغیرہ رکھے جاتے۔ اسی ملغوبے سے چھوٹے چھوٹے مکان بنا کر دیتیں۔ باریک سرکنڈے برابر کاٹ کر ان سے پہاڑی علاقوں میں بننے والی ڈھلوان دار چھتیں بناتیں۔ میری بہن اپنے سکول کے لیے درجنوں چیزیں ایڈوانس بنوا لتیں‘ جو وہ ''خانہ داری‘‘ والے دن سکول لے کر جاتیں اور شاباش حاصل کرتیں۔ اماں ممتازی سٹیپل کا دھاگہ منگواتیں اور دیوار میں کیل پھنسا کر آٹھ دس انچ کی لمبائی میں کاٹے ہوئے سرکنڈوں کو کام میں لاتے ہوئے ایسے شاندار ازاربند بنتیں کہ دیکھ کر جی خوش ہو جاتا۔ دستکاری میں ایسی مہارت کہ بندہ حیران رہ جائے لیکن ہمیں اماں ممتازی کی کسی اور چیز سے نہیں، صرف کہانیوں سے مطلب تھا۔

دنیا میں بے شمار لوگوں سے ملنے اور سننے کے بعد میں آج بھی پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں صرف ایک شخص کو اماں ممتازی سے بڑھ کر داستان گو پایا۔ وہ مرحوم اشفاق احمد صاحب تھے۔ دوسرے نمبر پر بلا شبہ اماں ممتازی تھیں۔ اماں ممتازی ہمارے بچپن کی، میرا مطلب ہے میرے بڑے بہن بھائیوں کے بچپن سے ہمارے گھر کا حصہ تھیں۔ تنخواہ لیتی تھیں مگر اب بھی انہیں ملازمہ لکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی اور ملازمہ تھیں بھی کب؟ ماں جی سے زیادہ ڈانٹ ڈپٹ کرتیں۔ ان سے بڑھ کر لاڈ پیار کرتیں۔ ابا جی سے ہماری خاطر جھوٹ بولتیں۔ نہلاتی دھلاتی، سر میں تیل لگاتیں، کپڑوں کا انتخاب کرتیں اور جس کو اس دن کا سالن پسند نہ ہوتا اس کے لیے دس طرح کے مختلف فٹا فٹ والے ٹوٹکوں سے سالن کا بندوبست کرتیں۔ جن دنوں وہ اپنی بہو سے ناراض ہو کر ہمارے پاس آتیں وہ دن عید جیسے ہوتے تھے۔

اماں ممتازی میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ریٹائر ہو کر اپنے بیٹے کے پاس چلی گئی تھیں۔ میں تو انہیں سال میں انہی پندرہ بیس دنوں یا کبھی کبھار مہینے ڈیڑھ مہینے کے لیے دیکھتا جب وہ ناراض ہو کر ہمارے پاس آتی تھیں۔ مجھے یاد ہے‘ جب ان کا بیٹا انہیں لینے آتا تھا تو اس وقت میرا برا حال ہوتا تھا اور ان کی رخصتی کے وقت دھاڑیں مار کر روتا تھا۔ ان کے بیٹے کو مکے مارتا تھا اور اماں ممتازی سے ''کٹی‘‘ لگاتا تھا۔ اماں ممتازی کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے مگر وہ مجھے اپنے ساتھ لپٹا کر پیار کرتیں۔ مجھے گدگدی کر کے ہنسانے کی کوشش کرتیں اور دو چار دن بعد دوبارہ آنے کا وعدہ کرتیں۔ اور ساری عمر دوبارہ شکل نہ دیکھنے کا اعلان کرنے والی اپنے بیٹے رفیع کے ساتھ چلی جاتی۔
جب اماں ممتازی کو میں نے دیکھا وہ کافی بوڑھی ہو چکی تھیں۔ سر سفید، چھوٹا سا قد اور ٹانگیں تھوڑی اندر کو مڑی ہوئیں۔ عجب طریقے سے چلتیں۔ میں انہیں دیکھ کر ہنستا تو وہ مجھے چپت لگاتیں اور پھر کھلکھلا کر خود بھی ہنستیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا وہ گھر میں وی آئی پی مہمان ہوتی تھیں۔ صرف ہم سے لاڈ پیار کرتیں۔ ہمارے لیے مختلف چیزیں بناتیں۔ نئی ملازمہ کو سلیقہ مندی پر لیکچرز دیتیں اور رات کو کہانیاں سناتیں۔ میری دونوں بہنیں اماں ممتازی کی ٹانگیں دباتی تھیں۔

ہر رات کو عشاء کی نماز کے بعد کہانی کا دور چلتا۔ ہر کہانی دو تین دن چلتی۔ اماں ممتازی کی مادری زبان اردو تھی اور اردو بھی بہت صاف والی۔ آواز کا اتار چڑھائو، الفاظ کا چنائو، بیان کرنے کا انداز اور ادائیگی میں ڈرامائی زیروبم۔ وہ سب چھوٹوں بڑوں کو مسحور کر کے رکھ دیتیں۔ کہانیاں کیا ہوتیں؟ جنوں پریوں کی، بادشاہوں اور شہزادوں شہزادیوں کی۔ ملک فارس کی اور پرستان کی۔ نوشیرواں عادل اور امیر حمزہ کے کرداروں والی۔ بادشاہ کی گفتگو میں شاہانہ پن اور دیو کی دھمکی میں کرختگی۔ شہزادی کی بات میں ملائمت اور امیر حمزہ کے ڈائیلاگ میں ٹھہرائو۔ اگر کسی فلم کی ہدایتکار ہوتیں تو فلم سپر ہٹ ٹھہرتی اور انہیں ایوارڈ ملتا مگر وہ ان لوگوں میں سے تھیں جو ساری عمر غربت اور عسرت سے لڑنے میں گزار دیتے ہیں۔ اماں ممتازی کی کہانیاں ''ہمارا تمہارا خدا بادشاہ‘‘ سے شروع ہوتی تھیں اور ''پھر سب راضی خوشی رہنے لگے‘‘ پر ختم ہوتی تھیں۔ کیا زمانہ تھا جب کہانی کا یہ انجام ہر کہانی کا مقدر ہوتا تھا اور ہم خواب میں ایسی کہانیاں دیکھا کرتے تھے۔ یہی بچپن کی وہ خوبصورتی ہے جس سے ہم محروم ہو چکے ہیں۔ کہانی کا اختتام ہوتا تھا اور صرف اختتام ہی نہیں، خوشگوار اختتام ہوا کرتا تھا لیکن حقیقی زندگی میں کوئی کہانی ختم ہی نہیں ہوتی۔ زندگی ختم ہو جاتی مگر کہانی چلتی رہتی ہے۔ اس چلتی ہوئی کہانی کو جب بھی قلمبند کریں یہ ادھوری رہتی ہے۔ سجاد جہانیہ کی انہتر ادھوری کہانیوں کی طرح۔

اماں ممتازی کی کہانیوں کا سحر اپنی جگہ مگر پھر عقدہ کھلا کہ ہر کہانی ادھوری ہے۔ اماں ممتازی کی اپنی کہانی کی طرح۔ برسوں بعد ایک دن رفیع کسی کام کی غرض سے ابا جی کے پاس آیا اور بتایا کہ اماں ممتازی کو گزرے دو سال ہو گئے ہیں۔ اماں ممتازی چلی گئیں مگر ان کی کہانی ادھوری رہ گئی۔ سجاد جہانیہ کے جیرے کی طرح، کرم نواز جفت ساز کی طرح، اٹھارہ ہزاری والی نوری کی طرح، محلہ بھیڈی پوترہ کے قسور حیدری کی طرح، جیری ڈگلس کی طرح، تنور والی تسنیم کوثر کی طرح، الطاف خان کی طرح اور بابا رمضان ثانی کی طرح۔ یہ سب کی سب کہانیاں ادھوری ہیں۔ جہاں ختم ہوتی ہیں وہیں سے ایک اور کہانی کی بنیاد رکھتی ہیں۔ ایک اور سوال اٹھاتی ہیں اور ایک نئے گورکھ دھندے میں دھکیلتی ہیں۔

میں نے سجاد جہانیہ کی کتاب کو بڑے ہی عجب طریقے سے پڑھا ہے۔ کبھی درمیان سے اور کبھی شروع سے۔ کبھی آخری کہانیاں پڑھیں اور کبھی کتاب کھولتے ہی جو کہانی سامنے آ گئی۔ اگر پہلے نہیں پڑھی تھی تو اسی کہانی سے شروع کر لیا۔ یہ کہانیاں کیا ہیں؟ معروف، غیر معروف، بھولے بسرے اور زمین سے جڑے ہوئے ایسے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو ہمارے سامنے ہونے کے باوجود ہماری توجہ سے محروم ہوتے ہیں۔ سجاد جہانیہ نے ان لوگوں کو دیکھا ہے اور تیسری آنکھ سے دیکھا ہے جو نرم دل اور انسان دوست لوگوں کو عطا ہوتی ہے۔ یہ وہ فقیری آنکھ ہے جس سے وہ قلم کار محروم ہیں جن کی کہانیوں کے کردار بہت بڑے ہوتے ہیں لیکن ان کی کہانیاں بہت چھوٹی ہوتی ہیں۔ سجاد جہانیہ کا کمال یہ ہے کہ اس نے چھوٹے چھوٹے کرداروں سے بڑی بڑی کہانیاں کشید کی ہیں۔

سب کہانیوں کے بارے ایک نشست میں سب کچھ کہنا ممکن نہیں۔ مسلم سکول والے سلیم عرف جیرے کی ادھوری کہانی میں یہ کتاب چھپنے سے قبل تین بار پڑھ چکا تھا۔ ایک ہی دن میں تین بار۔ کل پھر پڑھی ہے۔ دو تین بار ہاتھ کی پشت سے آنکھیں صاف کیں۔ اب ان کمبخت آنکھوں کا معاملہ بھی سمجھ سے بالاتر ہوتا جا رہا ہے۔ آپ لوگ سوچتے ہوں گے کہ سجاد جہانیہ کی کتاب میں یہ اماں ممتازی کہاں سے آ گئی؟ دراصل اماں ممتازی بھی سجاد جہانیہ کی کہانیوں کا کردار ہے۔ اگر سجاد جہانیہ اسے لکھتا تو اس کی کتاب میں انہتر نہیں، ستر کہانیاں ہوتیں۔ اور مجھے یقین ہے وہ اسے ویسے لکھتا جیسا اس کا حق تھا‘ جو میں ادا نہیں کر پایا۔