روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 3 )

کالج کے میٹنگ ہال میں ملکی مسائل پر میٹنگ جاری تھی۔ کالج کے پرنسپل صاحب اپنی پریزینٹیشن میں بتا رہے تھے۔ اس وقت پاکستان عجیب و غریب مسائل کی آمجگاہ بنا ہوا ہے۔ ملکی آبادی مختلف طبقوں میں بٹی ہوئی نظر آرہی ہے۔ عوام حکمرانوں اور افسر شاہی کے درمیان مالک اور غلام جیسا فاصلہ نظر آ رہا ہے۔ عام شہری ہر طرح کے ظلم سہنے پر مجبور ہیں۔ حکمران طبقہ اپنی عیش پرستی میں مگن ہے۔ ملک میں غربت اور افلاس کا تناسب بہت بڑھ چکا ہے۔

دولت کی تقسیم انتہائی غیرمساویانہ ہے۔ یہاں 10 فیصد امیر لوگ پاکستان کی کل آمدنی 28.6 فیصد کماتے ہیں۔ جبکہ انتہائی غربت کی حالت میں زندگی گزارنے والے 10 فی صد لوگ صرف 4.1 فی صد ہی کما پاتے ہیں۔ بےروزگاری، علم و ہنر کی کمی، ناکافی اجرت اور امن و امان جیسے مسائل اس کے علاوہ ہیں۔ ان گھمبیر معاشی مسائل میں گھرا یہ ملک کیسے ان مسائل سے باہر آسکتا ہے؟ اسی پریزینٹیشن کے آخری مقرر اشرف صاحب تھے۔ وہ کہہ رہے تھے۔ بات صرف پاکستان تک محدود نہیں آج پوری حیات انسانی بحران کا شکار نظر آتی ہے۔ متضاد مادہ پرستانہ نظریات کی یلغار ہے۔ عالمی قیادت خدا ناشناس طاقتوں کے ہاتھ میں ہے۔ گھروں سے لے کر بین الاقوامی تنظیموں تک ہر جگہ بدگمانی،کچھاٶ، کشمکش اور تصادم کا سا سماں ہے۔ پوری اولاد آدم خواہشات نفس کے شنکجے میں ہے۔ دولت و اقتدار کے لیے ہاتھا پائی ہے۔ نفسیاتی الجھنوں کا زور اور زہنی سکون مفقود ہے۔ اعتقاد و نظریات میں توازن نہیں۔ روحانی قدریں معدوم ہیں۔ روح قانون عدل سے خالی ہے۔ سیاست خدمت کے جزبے سے بےنیاز اغراض پرستی کا دوسرا نام بن چکی ہے۔ معیشت کا میدان ظالم و مظلوم کے دو طبقوں میں بٹا نظر آتا ہے۔ فنون لطیفہ اور ثقافت کے نام پر نفسانی خواہشوں کی ترویج و اشاعت کا کام ہو رہا ہے۔

ہمارے سامنے معیشت عالمی بحران کا چیلنج لیے کھڑی ہے۔ اس چیلنج کا جواب دینے کی صلاحیت موجودہ مادی تہزیب اور اس کے بنائے ہوئے انسان میں نہیں۔ چاروں جانب نگاہیں گھمائیے آپ اپنے آپ کو تاریکی کے ایک شش جہت سمندر میں گھرا پائیں گے۔ ہاں البتہ چودہ صدی کی دوری پر ایک نور دکھائی دیتا ہے۔ انسانیت کے سب سے بڑے محسن پیغمبر آخر الزماں حضرت محمدﷺ کے پیغام کا نور، انؐ کی سیرت کا نور۔ آج کا انسان ضرورت مند ہے کہ سیرت پیغمبر انقلاب محمدﷺ کا مطالعہ کرے۔۔ ہاں مگر مطالعہ کرتے ہوئے یاد رہے کہ یہ مطالعہ ہے۔
صرف حصول ثواب کی نیت سے نہیں اتباع کی نیت سے، صرف اس احساس تفاخر کی تسکین کے لیے نہیں کہ ہماری نسبت امام النبیاء سے ہے بلکہ اپنی پوری زندگی ان کی اقتداء میں دے دینے کی نیت سے۔ سیرت رسولؐ سے صرف چند اعتقادات، رسوم و عبادات اور اورادو وظائف اخز کرنے کے لیے نہیں بلکہ حضورؐ کے پیغام کو ایک نظام حیات سمجھتے ہوئے کلی اختیار کرنے کے لیے۔
یقین مانیے سیرت انقلاب کی پیروی میں اٹھنے والا ہمارا ہر قدم ویسے ہی انسانی فلاح کی منزل کی جانب بڑھے گا جیسے چھٹی صدی عیسوی کا انسان بحرانوں سے نکل کر اطمنان اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 2 )

دانیال شہر کی مصروف شاہراہ کے ساتھ بنے فٹ پاتھ پر آہستہ روی سے چل رہا تھا۔ وہ بےروزگار ہونے کے باعث اگرچہ ناامید نہیں تھا مگر پریشان ضرور تھا۔ چلتے چلتے اس نے نگاہ اٹھا کر سامنے دیکھا۔ سڑک کے پار جگمگاتی روشنیوں سے منور بڑی بڑی دکانیں اور لوگوں سے کچھا کھچ بھرے اشتہا انگیز کھانوں سے مہکتے ریستوران تھے۔ زرا فاصلے پر بڑے سائز کے بل بورڈز پر غیر ملکی مصنوعات کے بےباک اشتہارات اور پرائیویٹ چینلز پر چلنے والے اسلامی اور پاکستانی اقدار پر وار کرتے ڈراموں کی تشہیر ہو رہی تھی۔ شہر کے معروف بیوٹی پارلرز دولہا دلہن کے میک اپ اور فوٹو سیشن کے لیے عوام الناس کو ابھار رہے تھے۔ اس نے نگاہ گھما کر دیکھا ساتھ ایک دیوار پر کسی بابے کا اشتہار تھا۔ شرطیہ پرائز بانڈ جیتنے کا آسان وظیفہ۔ جوئے پر جوا۔ اس نے دکھ سے سوچا۔ آگے کچھ کالے جادو کا توڑ اور ستاروں کی چال پر قسمت کے احوال جاننے کے اشتہارات موجود تھے۔ ہم مبتلائے توہمات و شرک کن کن معاشرتی برائیوں میں گھر چکے ہیں؟ عقائد و اعمال سب اصلاح طلب ہیں۔ اس نے خود سے سوال کیا۔ اللہ کے نام پر بابو۔ ایک کریہہ شکل فقیر نے اس کے آگے دست سوال دراز کیا۔ سامنے چند بچے شام کا اخبار بیچنے کے لیے بےدھڑک رواں دواں گاڑیوں کے بیچ دوڑ رہے تھے۔

زرا فاصلے پر ایک سبزی والے کی ریڑھی کیچڑ میں پھنسی ہوئی تھی۔ جسے نکالنے کے لیے وہ بیچارا اپنا سارا زور صرف کر رہا تھا مگر ساتھ ایک طرف کھڑے چند اوباش لڑکوں کے آوازے اور تمسخرانہ ہنسی اس کی ہمت توڑ رہی تھی۔ رسول اللہؐ کی بعثت کے مقاصد میں ظلم و ستم کا خاتمہ اور عدل کے قیام کا نظام شامل تھا۔ آپؐ نے لوگوں کو باطل عقائد و اعمال اور بے جا رسومات کے طوق سے نجات دلائی۔ اس نے گویا خود کو یاد دہانی کروائی۔ یہ ہی وہ مقدس انقلاب تھا دانیال جس کا ہمیں پاسبان بنایا گیا تھا۔ اسی پیغام کے لیے ہمیں امت وسط ہونے کے بلند ترین منصب پر فائز کیا گیا۔ اسی دین کی امانت ہمیں تفویض کی گئی تھی کہ حضورؐ کی نیابت میں ہم قیامت تک انسانیت کے نجات دہندہ بنیں اور جب بھی زندگی مسائل کے بھنور میں پھنس جائے تو ہم اس کے لیے سہارا بنیں مگر ہم نے اس دین کے پرچم کو بلند رکھنے میں کوتاہی کی ہے۔ نتیجتاً انسانیت شاہراہ حیات پر بھٹک رہی ہے اور ہم اپنا فرض ادا کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ اپنی بے روزگاری سے ہوتے ہوئے اس کی سوچیں قومی و بین الاقوامی مسائل میں جا الجھی تھیں۔ انہی سوچوں میں گم اس کا پاٶں کیلے کے چھلکے پر آتا آتا رکا تھا۔ ریاست مدینہ میں اگر کسی راستے میں کوئی تکلیف دہ چیز پڑی ہوتی تو سب جان لیتے تھے کہ یہاں سے کوئی پیروکار محمدؐ نہیں گزرا کیونکہ اگر گزرا ہوتا تو یہ تکلیف دہ شے راستے سے ہٹ گئی ہوتی۔

دانیال نے چھلکے اٹھائے اور کوڑا دان میں پھینک دئیے۔ وہ چلتے چلتے ریڑھی والے کے قریب آگیا تھا۔ وہ لمحے بھر کو ٹھہرا پھر کچھ سوچتے ہوئے وہ ریڑھی والے کی مدد کے لیے بڑھا تھا۔ ریڑھی کیچڑ سے باہر آ گئی تھی۔ ریڑھی والا سراپا شکر بنا کھڑا تھا۔ تمسخر اڑاتے چہروں پر حیرت تھی۔ مشکل میں پھنسے ہوئے فرد کا مزاق نہیں اڑاتے دوستو اس کی مدد کرتے ہیں۔ وہ ان میں سے ایک کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مسکرایا تھا۔ ہمیں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ وہ خود سے مخاطب ہوا۔ ایک شخص تھا بہت غریب۔ گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا اور بچے بھی بھوکے تھے۔ وہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور مدد کے لیے فریاد کی۔ آپؐ کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس کے پاس صرف ایک پانی پینے کا پیالہ ہے۔ آپؐ نے وہ پیالہ منگوایا اور دو درہم میں ایک صحابی پر فروخت کر دیا۔ آپؐ نے ایک درہم اس کے ہاتھ پر رکھا اور فرمایا اس سے اپنے گھر والوں کے لیے کھانے پینے کا سامان بندوبست کرو اور دوسرے درہم سے اسے ایک کلہاڑی خریدنے کا کہا۔ آپؐ نے اس کلہاڑی میں دستہ اپنے دست مبارک سے لگایا اور فرمایا اس کی مدد سے لکڑیاں کاٹو اور بیچو۔ اس سے جو آمدنی ہو اسے اپنے اور گھر والوں پر خرچ کرو۔ چند دن بعد وہ شخص خدمت نبویؐ میں حاضر ہوا تو مطمئن و خوشحال تھا۔ زینب بہت دلچسبی سے امی جان سے سیرت رسولؐ کا واقعہ سن رہی تھی۔ امی جان واقعہ سنا چکیں تو زینب نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 5 )

امی جان ہمارے پیارے نبیؐ نے اس شخص کی فوری امداد کے بجائے ایسا طریقہ کیوں اختیار کیا؟ صحابی رسولؐ نے معمولی پیالہ زیادہ قیمت پر کیوں خریدا؟
کیا غریبوں کو مانگنے کے بجائے کام کے بارے میں سوچنا چاہیے؟ کیا امراء کو غریبوں کی ہر طرح سے مدد کرنی چاہیے؟
وہ اس واقعے میں پوشیدہ حکمت و دانائی کھوجنے کے لیے بےقرار تھی۔ ہاں وہی حکمت و دانائی جو فرد سے ریاست تک ہر ایک کا کاسہ گدائی توڑ کر اسے عزت کا رزق دلا سکتی ہے۔
*آپؐ کا مشن تھا کہ مختلف النوع افراد کے باطل نظریات و عقائد اور تصورات کی اصلاح کی جائے۔ معاشرتی برائیوں کو مٹا کر خیر و نیکی کو پروان چڑھایا جائے۔ ظلم و جبر کا خاتمہ ہو۔ بندوں کو بندوں کی غلامی سےنکال کر رب کی غلامی میں دےدیا جائے۔ آپؐ نے اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اپنے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ آپؐ نے ایسے نظام کے نفاذ کے لیے تعلیمات بھی عطا فرمائیں اور بالفعل نفاذ کر کے بھی دکھایا۔* احمد کی راتیں کتاب کے نام ہو چکیں تھیں۔ اس وقت بھی وہ مطالعہ میں مصروف تھا اور نہیں جانتا تھا کہ آئندہ لکھی گئی دو سطریں اس کی زندگی کا مقصد، راستہ اور منزل کا تعین کرنے والی تھیں۔لکھا تھا۔سنن دارمی کی روایت ہے۔ "جسے موت آئے اس حال میں کہ وہ علم حاصل کر رہا ہو تاکہ اس کے زریعے اسلام کو زندہ کرے تو جنت میں اس کے اور انبیاءؑ کے درمیان صرف ایک درجے کا فرق ہو گا۔ "

جاری ہے۔