کتے کا مذہب - ابو مصعب محمد

کچھ دن پہلے، انڈیا میں ہونے والے ایک واقعہ کی دلچسپ ویڈیو نظروں سے گزری جس میں کوئی شخص کسی ٹی وی چینل کے نمائندے کو بتا رہا تھا کہ ایک کتے نے ایک گائے کو کاٹ لیا۔ لوگ مشتعل ہو گئے کہ کتے کو گائے ماتا کی بے حرمتی کرنے کی جرات کیسے ہوئی؟ پھر فیصلہ ہوا کہ کتے کے مذہب کا پتہ لگایا جائے کہ کس دین کو ماننے والا ہے۔

کھوج لگانے والوں نے پتہ لگا لیا کہ کتا کسی اور کا نہیں بلکہ ایک مسلمان کا ہے۔ لہٰذا، کتے کا مذہب اسلام قرار دیا گیا۔ اس کے بعد جو ہونا تھا وہ ہوا یعنی کتے کے مسلمان مالک کی خوب پٹائی کی گئی۔ بعد میں پتہ چلا کہ کتا، مار کھانے والے مسلمان کا نہیں بلکہ ایک ہندو ہی کا ہے تب جا کر مسلمان کی جان چھوٹی۔ مگر لاتوں، گھونسوں، لاٹھیوں اور گالیوں کا جو لطف بیچارہ مسلمان لے چکا تھا، کتے کا ہندو مالک اس سے محروم رہا ۔ پاکستان میں مذہبی منافرت کی مَد میں ہونے والے گھوٹکی جیسے واقعات کی تعداد اگر گنی جائے تو وہ سال بھر میں پانچ سات سے زیادہ نہیں نکلی گی اس کے برعکس بھارت، میانمار، سری لنکا اور اب یورپ و امریکہ جیسے پڑھے لکھے ملکوں میں ہونے والے واقعات کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ بھارت میں محض گائے کی بے حرمتی کے الزام پر سال بھر میں درجنوں مسلمان مارے جاتے ہیں یا پھر بدترین تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ مذہبی منافرت یا توہین مذہب کے نام پر تشدد، چاہے جس ملک اور جس مذہب کے ماننے والوں کی جانب سے ہو، قابلِ مذمت اور افسوسناک ہے ۔ لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ پورے سال میں ایسا کوئی ایک واقعہ بھی پاکستان میں کہیں رونما ہو جائے تو لبرل اور دین بیزار حضرات کو اسلام اور ملک کی دینی شناخت پر حملے کرنے کا موقع مل جاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   مبلغین اسلام کا عالمی اجتماع!رانا اعجاز حسین چوہان

لیکن یہی لوگ، ہندوستان اور دنیا کے دیگر ملکوں میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے اسی طرح کے واقعات پر بالکل خاموش رہتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ دو تین سال پہلے مشتعل عیسائی ہجوم نے پنجاب کے کسی علاقے میں دو مسلمان نوجوانوں کو زندہ جلا دیا تھا۔ حالانکہ وہ بالکل بے قصور تھے اور اپنی راہ جا رہے تھےلیکن مشتعل عیسائیوں کے ہتھے چڑھ گئے۔ افسوس کہ نہ صرف ہمارے دیسی لبرل اس پر بالکل خاموش رہے بلکہ عالمی انسانی حقوق کے اداروں نے بھی اس واقعہ کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی۔

ٹیگز