جاوید غامدی کے صاحبزادے کا مثبت رویہ، خوشگوار حیرت - محمد عامر خاکوانی

آج ایک پوسٹ سے پتہ چلا کہ غامدی صاحب کے صاحبزادے نے ان کے دیرینہ شاگردوں کو ڈس اون کر دیا ہے۔ اسی پوسٹ کے کمنٹس میں ایک لنک تھا، لندن میں مقیم قدیر شہزاد صاحب کی پوسٹ تھی جس میں انہوں نے جاوید صاحب سے اپنی پچیس تیس سالہ قربت کی روداد رقم کی اور بتایا کہ لندن میں رہ کر انہوں نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکالا اور مختلف ویب سائٹس، فیس بک پیج اور واٹس ایپ گروپ بنا کر جاوید غامدی صاحب کے مختصرکلپس لوگوں میں پھیلانے کا کام کیا تاکہ دین کی ترویج ہو اور جاوید صاحب کی فکر زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ انہوں نے پھر شدید دکھ اور کرب کی کیفیت میں بتایا کہ جاوید غامدی صاحب کی آفیشل ویب سائٹ پر ان کے تمام پیجز، سائٹ اور واٹس ایپ گروپوں سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا گیا، گویا یہ ان کی تمام تر محنت اور کنٹری بیوشن پر پانی پھیرنے کے مترادف ہوا۔

اسی لنک کے ذریعے جاوید غامدی صاحب کے صاحبزادے جواد احمد کے فیس بک پیج پران کی پوسٹ دیکھی جس میں انہوں نے جاوید صاحب کی آفیشل سائٹس، واٹس ایپ گروپ کی تفصیل بتائی اور پھر دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس کے علاوہ جو لوگ مختلف پیجز،گروپس چلا رہے ہیں، وہ ان کی اپنی ذمہ داری پر ہے اور ان کا جاوید صاحب سے تعلق نہیں، مزید وضاحت کے طور پر ان دوسرے سائٹس کے سکرین شاٹس لگا کر ان پر کراس کا نشان لگا دیا۔

یہ سب پڑھ کر میں نے ویسے ہی جواد احمد کو مشورہ دیا کہ اگرچہ میں المورد کے حلقے سے تعلق نہیں رکھتا، ایک آئوٹ سائیڈر ہوں، مگر ایک عام قاری یا سامع کے طور پر سہی، میرا مشورہ ہے کہ یہ کراس کا نشان ہٹا دیا جائے، اس سے کھردرا، منفی تاثر جاتا ہے۔ اس کے بجائے آپ اپنی سائٹس کی ضرور وضاحت کریں، وہ آپ کا حق ہے، لیکن یوں دوسروں پر کراس لگانا انہیں فیک یا جعلی ہونے کا تاثر دیتا ہے، جس سے ان لوگوں کی دل آزاری ہوگی۔

یہ کمنٹ کرنے کے بعد میں اپنی دیگر مصروفیات کی طرف متوجہ ہوگیا۔ مجھے ایک فی صد بھی امکان نہیں لگ رہا تھا کہ جاوید غامدی صاحب کے صاحبزادے میرے مفت اور بلامانگے مشورے پرتوجہ دیں گے۔ دو گھنٹے پہلے اپنے نوٹیفکیشن چیک کئے تو جواد احمد کا جواب اسی کمنٹ پر موجود تھا کہ’’ جی بھائی ضرور، تصویر ابھی تبدیلی کئے دیتا ہوں۔ ‘‘ اس کے بعد سکرین شاٹس دیکھے تو اس میں کراس ختم کر کے صرف یہ پٹی لگی دیکھی، یہ ہمارے آفیشل پیجز نہیں ہیں۔

سچی بات یہ ہے کہ مجھے اس رویہ پر خوشگوار حیرت ہوئی۔ جاوید احمد غامدی صاحب کے حلقے سے میرا کوئی تعلق نہیں، کئی بار مختلف حوالوں سے ان کی کسی سوچ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود غامدی صاحب کے صاحبزادے کا مثبت رویہ دل خوش کن لگا۔ اللہ ان کے لئے آسانی عطا فرمائے۔ ان میں اپنے والد کی شائستگی اور تحمل کی جھلک دکھائی دی۔

نوٹ : ان پوسٹوں اور وہاں کئے گئے کمنٹس پڑھنے کی وجہ سے مجھے اس معاملے سے کچھ آگہی ہوئی ۔ میرے خیال میں جاوید احمد غامدی صاحب کے صاحبزادے نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ جاوید احمد غامدی کی جب آفیشل ویب سائٹ، فیس بک پیج، واٹس ایپ گروپ موجود ہے تو پھر کسی دوسرے کو خواہ وہ ان کا کس قدر پرانا شاگرد ساتھی ہو، اسے جاوید غامدی کے نام کے گروپس چلانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اجازت لئے بغیر چلانے کی تو قطعی ضرورت نہیں بلکہ یہ تو بددیانتی اور کاپی رائٹس کی خلاف وزری میں آ جائے گا۔

یہ بتانا کہ ان کے والد کے فلاں فلاں آفیشل پیجز ہیں اور اس کے سوا باقی پیجز، گروپس کا ان کے والد سے آفیشل تعلق نہیں اور وہ چلانے والوں کی ذاتی ذمہ داری پر چل رہے ہیں۔یہ بتانا کوئی جائیداد، جاگیر کا جھگڑا ہے نہ ہی جاوید صاحب کے ورثے کی لڑائی کا کوئی معاملہ۔ اسے اس رنگ میں دیکھنا مجھے تو درست نہیں لگتا۔ آفیشل پیجز کو واضح کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ان پر آنے والے ہر قسم کے مواد کی ذمہ داری جاوید غامدی صاحب پر عائد ہوگی۔ جس پیج ، گروپ، واٹس ایپ گروپ کا ان سے تعلق ہی نہیں، مواد ان سے پوچھ کر یا ان کی زیرنگرانی شائع نہیں ہو رہا، وہ اس کو اپنے کھاتے میں کیوں ڈالیں ؟ یہ سوفی صد جائز اور معقول بات ہے۔ ہر کوئی ایسا ہی کرے گا۔ میرے نام کو کوئی اور آٖفیشل پیج بنا لے تو میں فوری طور پر اس کی تردید اور وضاحت کروں گا، چاہے بنانے والا مجھ سے کتنا ہی مخلص اور میرا پرانا ساتھی کیوں نہ ہو۔ اگر کسی کی فکر کو پھیلانا ہے تو ضروری نہیں کہ اس کی آفیشل سائٹ، پیج سےملتاجلتا نام رکھا جائے، پڑھنے والوں کو دھوکا دیا جائے۔ کسی بھی نام سے یہ کام ہوسکتا ہے۔ البتہ یہ اعتراض ہوسکتا تھا کہ کسی قدر کھردرے انداز میں نوجوان جواد احمد نے ایسا کیا۔ میرا اپنا تجربہ تو مگر یہ بتاتا ہے کہ جیسے ہی ان کی توجہ مبذول کرائی گئی، فوری طور پر انہوں نے تبدیلی کر لی۔ یہ مثبت رویہ ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.