شہید کا لہو اور طالب علم کی سیاہی- حسن نثار

سلیم گیلانی مرحوم ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ہوا کرتے تھے۔ نہ صرف خود بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کے مالک تھے بلکہ تخلیق کاروں کی تلاش بھی ان کی پہچان تھی۔ یہ سلیم گیلانی ہی تھے جنہوں نے مہدی حسن اور ریشماں جیسے گدڑی کے لعل متعارف کرائے۔ ان کی ایک کتاب ہے ’’بلالؓ‘‘ جو پہلی بار 1994ء میں شائع ہوئی۔ حضرت بلالؓ پر لکھی گئی یہ سحر انگیز کتاب میری سٹڈی کی ان کتابوں میں سے ایک ہے جنہیں میں وقفے وقفے سے پڑھتا رہتا ہوں کہ کچھ کتابیں روحانی مرہم جیسے مقام کی حامل ہوتی ہیں۔ سیدنا بلالؓ کے حوالہ سے لکھتے ہیں’’ابو بکرؓ بولے ’’بلالؓ! اگر میں تمہیں ایک قلم بنا دوں تو کیا تم لکھنا سیکھنے کی کوشش کرو گے؟یہ سوال ایسے پوچھا گیا جیسے بالکل بے ارادہ ہو۔ جیسے میرے لئے اس کا سننا بھی ضروری نہیں تھا حالانکہ یہی نادانستہ سوال میرے لئے غلامی سے قطعی نجات کا پیش خیمہ بنا۔ غلامی سے اصل رہائی میں نے ابوبکرؓ کی تربیت سے ہی پائی، ان کی اس رقم سے نہیں جس سے انہوں نے مجھے خرید کر آزاد کیا تھا۔ گویا مجھ پر ابوبکرؓ کا حقیقی احسان وہ تھا جو انہوں نے مجھے دیا، وہ نہیں جو انہوں نے میرے لئے دیا۔ابوبکرؓ کی رہبری اور نگرانی میں، میں لکھنا سیکھ گیا۔ میں سیاہی بنانے کے لئے نیل کے پتے لاتا تھا اور پھر مغرب سے فجر تک انہیں پانی میں بھگوئے رکھتا۔ پھر صبح انہیں خوب اچھی طرح کوٹتا اور کوٹ کوٹ کر سیاہی بنا لیتا۔

میں کھال پر لکھتا تھا، درختوں کی چھال پر لکھتا تھا۔ بھیڑ کے کندھے کی سوکھی ہڈی پر، گیلی مٹی پر، راکھ پر، پتھروں پر غرض ہر اس چیز پر لکھتا تھا جس پر لکھا جا سکتا تھا۔ چلتے پھرتے میں ہوا میں بھی انگلیوں سے کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا تھا۔ہر روز ابوبکرؓ مجھے تھوہر کا ایک نیا قلم تراش کر کے دیتے تھے۔ اب ان کی صبح کا معمول کچھ یوں ہو گیا تھا۔ پہلے نماز، پھر قلم اور پھر بکریوں کا دودھ دوہنا۔میں لکھنے بیٹھتا تو اکثر وہ میرے پیچھے آکھڑے ہوتے۔ مجھے لکھتے دیکھتے رہتے اور میری اصلاح کرتے۔ ایک دن انہوں نے مجھے عنترہ کی نظمیں لا کر دیں جنہیں میں نے پہلے ایک ایک لفظ اور پھر ایک ایک مصرعہ کر کے زور زور سے پڑھنا سیکھا۔ عنترہ صحرائوں کا شہزادہ تھا۔ اس کے عظیم کارنامے، یکہ و تنہا کئی کئی حریفوں سے لڑ کر داد شجاعت وصول کرنے کی داستانیں، اس کی بھلائی اور نیکیوں کے قصے، مہمان نوازیوں کی کہانیاں، عبلہ سے عشق کے افسانے اور عبلہ کی محبت میں ڈھلے ہوئے اس کے رومانی اشعار زبان زدعام تھے۔ عنترہ اپنے عہد کا افسانوی کردار تھا۔ اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ نہ شمشیر زنی میں نہ شاعری میں۔ مجھے اس کا ہر مصرعہ مبہوت کر دیتا تھا۔ یہ اس کی شاعری کی عظمت کا تقاضا تھا لیکن میرا اس سے ایک تعلق یہ بھی تھا کہ عنترہ بھی میری طرح حبشہ کی ایک غلام عورت کا بیٹا تھا۔ایک دن ابوبکرؓ باہر سے آئے تو بہت ہی خوش تھے۔ میں اپنے لئے سیاہی بنا رہا تھا۔

مجھے سیاہی بناتے دیکھ کر اور بھی خوش ہوئے۔ انہوں نے جلدی سے آگے بڑھ کر میرے سیاہی سے داغدار ہاتھ پکڑ کر چوم لئے۔’’بلالؓ! تمہیں پتہ ہے آج رسول ؐ اللہ نے کیا فرمایا؟‘‘ابوبکرؓ میرا ہاتھ پکڑے پکڑے مجھے ایک گدے کے پاس لے گئے اور بیٹھنے کو کہا اور پھر ساتھ ہی خود بھی بیٹھ گئے۔ جو خبر وہ لے کر آئے تھے، اس کے لئے اتنا اہتمام تو ضروری تھا۔ جب ہم بیٹھ گئے تو انہوں نے کہا’’طالب علم کی سیاہی، شہید کے خون سے زیادہ قیمتی ہے، بلالؓ! یہ رسولؐ اللہ کے الفاظ ہیں۔‘‘میں اٹھا اور میں نے اپنے دونوں ہاتھ سیاہی کے برتن میں ڈبو دیئے۔ پھر ہاتھ باہر نکالے اور بہت دیر تک انہیں دیکھتا رہا۔ سیاہی پر سیاہی!‘‘ قارئین! آپ پڑھ رہے ہیں ناں؟اور میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ہم نے اپنے ساتھ کیا کیا؟’’خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں‘‘آپ سب کو یاد ہو گا کہ غزوئہ بدر کے کچھ قیدیوں کو مسلمان بچے پڑھانے کے عوض رہائی مل گئی تھی تو کیا ان کفار نے مسلمان بچوں کو کوئی ’’دینی علم‘‘ پڑھایا ہو گا؟سبق صرف اتنا ہے کہ علم صرف علم ہوتا ہے جسے ہم نے نجانے کیوں دینی اور غیردینی میں تقسیم کر دیا۔ سچ یہ ہے کہ کوئی علم غیردینی ہو سکتا ہی نہیں کہ ہر علم کا تعلق براہ راست خالق کی تخلیق سے ہے، مالک کی ملکیت سے ہے، رازق کے رزق سے ہے کہ ہوا بھی تو رزق ہے۔نیوٹن نے کشش ثقل صرف دریافت کی تھی، ڈھونڈی تھی، کھوجی تھی، تلاش کی تھی’’بنائی‘‘ نہیں تھی۔

’’ایٹم‘‘ جیسا حقیر ترین ننگی آنکھ سے نظر نہ آنے والا ذرہ توانائی کا طوفان ہے، یہ ’’پہیلی‘‘ صرف بوجھی گئی تھی اور کچھ بھی نہیں۔خلاء سے متعلق علوم بھی ’’دینی‘‘ ہی ہیں کہ خالق وہی ہے جس کے بارے مظفر وارثی نے کہا تھا’’کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے‘‘کیا نظام ہستی سے باہر کوئی شے ہے؟ ہے تو پھر کوئی اسے غیردینی کہنا چاہے تو کہہ لے ورنہ ...... جیالوجی ’’اراضیات‘‘ کا علم ہے تو یہ ارض و سما کس کی رضا ہے؟پہچان کی حد تک تو درست جیسے باقی علوم کو مختلف عنوان دے دیئے جاتے ہیں لیکن کوئی کنفیوژن باقی نہ رہے کہ شاید اسی کنفیوژن نے ہمیں صدیوں پیچھے دھکیل دیا۔’’بے شک تم غالب آئو گے اگر تم مومن ہو‘‘اور علم مومن کی ہی گمشدہ میراث ہے اور علم صرف علم ہوتا ہے۔دنیا میں غلبہ کی جنگ ہے اور حریفوں سے ہمارا مقابلہ دینی نہیںبظاہر غیردینی علوم کے میدان میں ہے تو چلو اٹھائو قلم کہ قلم کی سیاہی تو شہید کے خون سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔