پنجاب میں بے چینی- سجاد میر

کراچی کے ادبی حلقوں میں ایک بات لطیفے کے طور پر بیان کی جاتی تھی۔ قمر جمیل ایک عجب طبیعت کے مضطرب شاعر تھے۔ انہیں نثری نظم کا امام بھی کہا جاتا ہے کہیں کلیم میں ان کے حصے میں تھوڑی بہت زمین آ گئی تھی جو سندھ کے ایک چھوٹے سے قصبے ماتلی میں الاٹ ہو گئی تھی۔ تھے وہ دلچسپ آدمی سب دوست رات گئے آوارہ گردی کر رہے تھے‘ مزار قائد کے اردگرد اس وقت چھوٹی سی دیوار ہو گی ۔ کسی نے پوچھا اگر آپ کو ایک دن کی حکومت دے دی جائے تو سب سے پہلے کیا کرو گے۔ ایک دم اچھل کر دیوار پر جا بیٹھے اور بڑے تحکم سے کہنے لگے ‘ پہلے آپ کی گرفتاری کا حکم دوں گا۔ تو ان قمر جمیل کے بارے میں شاعر نے شعر لکھا: اگر میں مقدر سے پاور میں آئوں تجھے ماتلی کا گورنر بنائوں یہ شعر ایک طرح کراچی کے مقامی ادبی حلقوں میں ضرب المثل بن گیا۔ مجھے نہیں لگتا کہ عمران خاں نے ایسی کوئی قسم عثمان بزدار کے بارے میں کھائی تھی مگر جانے کیوں انہیں تونسہ کے قریب کسی گائوں کا گورنر بنا کر انہیں لاہور لا بٹھایا ہے۔ کئی ماہ تو ان کے خاموشی میں گزرے۔ پھر بڑ بڑا کر اٹھے معلوم ہوا کہ انہیں اپنے علاقے کاہو کا ہو گیاہے۔ یہاں یونیورسٹی بنائوں گا‘ موٹروے بنائوں گا‘ جانے کیا کیا بنائوں گا۔

جنوبی پنجاب کی بحث پہلے ہی چھڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے بھی اس راگ کو تیز کیا۔ ایسا ہوتا ہے کہ ہر آنے والا اپنے علاقے پر توجہ دیتا ہے۔ مجھے نہیںمعلوم انہوں نے ایسا کیا یا صرف نعرہ بازی کرتے رہے۔ تاہم یہ خیال پنجاب کے باقی حصے میں راسخ ہوتا گیا کہ پنجاب کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ کوئی مائی باپ نہیں۔ ملیں بند پڑی ہیں‘ سڑکیں ادھڑی ہوئی ہیں۔ منڈیوں میں کاروبار ٹھپ ہے۔ اب لوگ یاد کرنے لگے ہیں کہ پہلے ہی اچھے تھے۔ مرے شعور و شباب کا بڑا حصہ کراچی میں گزرا ہے۔ اور اس خیال کے ساتھ گزرا ہے کہ کراچی پاکستان کا صنعتی و تجارتی دارالحکومت ہے۔ میں جب 73ء میں کراچی گیا تو مجھے یہی احساس ہوا کہ لاہور تو ایک بڑا سا جدید گائوںہے۔ کوئی مقابلہ ہی نہ تھا۔ پھر میں نے آہستہ آہستہ کراچی کو اجڑتے دیکھا ہے۔ کہا جاتا تھا اور درست کیا جانا تھا کہ کراچی چلتا تو ملک کی معیشت کا پہیہ چلتاہے۔ یہ جو میں نے کہا ہے کہ کراچی کو اجڑتا دیکھا ہے تو اگرچہ دل پر پتھر رکھ کر کہا ہے مگر غلط نہیں کہا۔ سارے بنک وہاں‘ سارے کاروباری ادارے وہاں رجسٹر ‘چاہے عملی طور پر وہ کام پنجاب یا خیبر پختونخواہ میں کر رہے ہوں۔ بندرگاہ کی اپنی ٹھاٹ‘ اس وقت تو ہمارا واحد انٹرنیشنل ایئر پورٹ بھی کراچی تھا۔

بلند و بالا بلڈنگیں۔ ٹھیک ہے لاہور کا واپڈا ہائوس بہت خوبصورت ہے۔ مگر حبیب بنک پلازہ کو دیکھنے دور دیس کے لوگ یہاں آیا کرتے تھے۔ بھٹو صاحب نے اسے بیروت بنانے کا خواب دیکھا‘ تو اور بہت کچھ بننے لگا۔ پھر جانے کس کی نظر کھا گئی کہ آج وہاں کا کچرا ہی ٹھکانے نہیں لگ رہا۔ مجھے یاد ہے کہ درمیان میں جب دو تین سال کے وقفے سے میں لاہور آیا تو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ یہ شریفوں کے زمانے سے بھی پہلے کی بات ہے‘ جنرل جیلانی کا زمانہ تھا‘ لاہور بدل رہا تھا۔ پھر بدلتا ہی گیا اور ایسا خوبصورت شہر بن گیا کہ اس کی شان میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میٹرو بس چلی تو اس کے افتتاح پر کراچی سے صحافی بلائے گئے۔ وہ تو اسے دیکھ کر ہی دنگ رہ گئے۔ کہنے لگے‘ ہماری ایسی قسمت کہاں ؟ وہ ٹھیک کہتے تھے‘ٹریفک کے میگا پراجیکٹ نہ ہونے کی وجہ سے کراچی بہت پیچھے رہ گیا۔ خوبصورتی اپنی جگہ‘ یہ تو جمالیاتی مسئلہ ہے‘ مگر اقتصادی طور پر پنجاب میں ایک انقلاب آ رہا تھا۔جہاں تک شہروںکے سنورنے کی بات ہے تو یہ غلط ہے کہ حسن کی یہ بارش صرف لاہور پر تھی پورے پنجاب میں چلے جائیے۔ جنوبی پنجاب سمیت‘ ہر جگہ رونق آتی جا رہی تھی۔ اب ساری رعنائیاں لٹ رہی ہیں۔

گزشتہ دنوں دو تین بار جی ٹی روڈ پر جانا ہوا۔ گوجرانوالہ تک کیا عمدہ سڑک بن گئی تھی۔ اب ادھڑی پڑی ہے۔ جگہ جگہ سے ایسی ہی خبریں آ رہی ہیں۔ لگتا ہے کسی کی توجہ نہیں ہے۔ کسی علاقے کو ترقی دینے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ باقی علاقے کو اجاڑ دیں۔ میں ایسی باتیں کیا نہیں کرتا‘ اس وقت دل کرتا ہے کہ پنجاب کا مقدمہ پیش کروں۔ یہ پہلی بار نہیں ہو گا ‘ کئی کتابیں اس پر لکھی گئی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ پنجاب قربانی بھی دیتا ہے اور گالیاں بھی کھاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پنجاب تین حصوں میں بٹ گیا۔ اب جب پنجاب کی مزید تقسیم کی بات ہوتی ہے تو بعض لوگوں کی بھنوئیں چڑ جاتی ہیں مگر ایسا کرنا ناگزیر ہے تو کوئی حرج نہیں۔ جب 56ء کا آئین بنا تو اس بات کا ذکر تو ہوتا ہے کہ مشرقی پاکستان کو مسادات کے نام پر آبادی سے کم نشستیں دی گئیں۔ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ مغربی پاکستان کا ون یونٹ بنانے میں پنجاب کو اپنی نشستوں کی قربانی دینا پڑی۔ جب کبھی وسائل کی تقسیم کا مسئلہ آتا ہے تو پنجاب کبھی بلوچستان کے نام پر کبھی کسی اور نام پر قربانی دیتا آیا ہے۔

کوئی بات نہیں‘ ملک کے استحکام کے لئے ایسا ہوتاہے ۔ کالا باغ ڈیم اس لئے نہیں بنایا گیا کہ یہ کہا گیا پنجاب میںہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کا فائدہ کسی اور کو ہونا تھا۔ جنوبی پنجاب کا آبادی کے لحاظ سے پنجاب کے وسائل میں 29فیصد حصہ ہے ‘ شہباز شریف کے آخری بجٹ میں 32فیصد دیا گیا۔ اس بار 35فیصد کر دیا گیا ہے کوئی بات نہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ باقی صوبے کی طرف سے غافل ہو جائیں۔ ویسے پروپیگنڈہ اپنی جگہ‘ کام کہیں نہیں ہو رہا۔ تاہم وسطی پنجاب میں یہ تاثر ہے کہ اس صوبے کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے۔ یہ نہیں کہتا کہ بزدار اہل نہیں ہے۔ مجھے کہنا ہو گا تو یہ کہوں گا کہ یہ صوبہ براہ راست وزیر اعظم کی نگرانی میں چل رہاہے۔ نااہلی تو وفاق کی ہو گی جو پراکسی کے ذریعے یہاں پر براہ راست حکومت کی کاٹھی ڈالے ہوئے ہے۔ یہ درست ہے کہ جب نئی حکومت آتی ہے تو اکثر پرانی حکومتوں کے منصوبوں کو نظر انداز کر دیتی ہے کہ اس کا کریڈٹ انہیں کیوں جائے۔ مثال کے طور پر گزشتہ حکومت پر جیسے وزیر آباد میں دل کے امراض کے ہسپتال میں تاخیر کا تذکرہ ہوتا ہے مگر بعض منصوبے ایسے ہوتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

1122کا منصوبہ تھا یا اس وقت رنگ روڈ نامکمل پڑی تھی جس تیزی سے تکمیل کی طرف بڑھی‘ وہ دیکھنے والا منظر تھا۔ اب لاہور سے ملتان تک کی موٹر وے تیار تھی‘ افتتاح نہیں کیا جا رہا تھا مبادا کریڈٹ سابقہ حکومت کو جائے۔ ملتان سے سکھر والی بھی آج کھلتی ہے ۔ کل کھلتی ہے۔ یہ جو اورنج ٹرین کا نامکمل کام منہ چڑارہا ہے۔ یہ کوئی اچھا نظارہ نہیں۔ کیا بیوقوفی کی دلیل ہے کہ سابقہ حکومت کے قرضے لے لے کر یہ منصوبے بنائے اور عوام کو سستی ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کے لئے سبسڈی دینا پڑے گی۔ کیا بیہودگی ہے۔ دنیا بھر میں شہریوں کو سہولتیں دینے کے لئے ایسا ہوتا ہے۔ یہ اچھا الزام ہے۔ یہ کام تو دلی میں بھی ہوتا ہے اور دنیا بھر کے تمام مہذب ملکوں میں اس کا دستور ہے۔ ارے بھئی قرضے لئے تو کیا جیب میں ڈال لئے‘ عوام کی سہولت پر خرچ ہوئے‘ سبسڈی دی تو عوام کو دی۔ اس پر بھی اعتراض ہمیں زیر بار کر گئے۔ بھئی ‘ حکومتوں کے قرضے اس طرح نہیں ہوتے جیسے ذاتی قرضے۔ امریکہ کی ساری ترقی قرضوں کی مرہون منت ہے۔18,17ٹریلین ڈالر کا جی ڈی پی ہے اور 23ٹریلین ڈالر کے قرضے ہیں۔ پھر زور خطابت میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ہم سریے اور سیمنٹ کے انفراسٹرکچر نہیں بناتے۔

ہم افرادی قوت کی تعمیر کرتے ہیں۔ بہت خوب! کیا تعمیر کی آپ نے۔ اعلیٰ تعلیم کا بجٹ 109ارب مانگا گیا تھا جو 59ارب کر دیا گیا‘ اس سال 43ارب ہو گیا ہے۔ تعلیم‘ صحت ہر شعبے میں کٹوتی۔ میڈیکل ٹیسٹ تک سرکاری ہسپتالوں میں مہنگے کر دیے گئے۔ کیا افرادی قوت تیار کر رہے ہیں۔ مفت دوائوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ ہے سماجی شعبے میں ریاست مدینہ کی فلاحی ریاست۔ اصل میں مجھے علاقائی سوچ کے ساتھ لکھنے کی عادت نہیں۔ اس لئے پنجاب پر ٹک نہیں پا رہا۔ ایک بات تاہم زور دے کر‘ بڑے اصرار کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ پنجاب کو تباہ کر رہے ہیں۔ خاص کر وسطی پنجاب میں یہ خیال واضح ہوتا جا رہا ہے۔ پنجاب کی اصل آبادی اسی علاقے میں ہے۔ یہ نہ ہو تو آپ کی حکومت نہ ہو۔ نہ انتظامی معاملات درست ہیں نہ معیشت سلیقے سے چل رہی ہے۔ جب آپ نے شرح نمو 2.5فیصد رکھ چھوڑی ہے تو خاک ترقی ہو گی‘ تاہم اتنے وسائل سے بھی جو ہونا تھا وہ آپ کر نہیں پا رہے۔ فیکٹریاں بند ہیں۔ کاروبار ٹھپ ہے۔ ملازمتیں ناپید ہیں۔ گھر گھر میں رونا ہے‘ لوگ ضروریات زندگی کو ترس رہے ہیں۔

پنجاب کی یہ تنگی آپ کو بہت مہنگی پڑے گی۔ آپ سنبھل جائیں‘ بلکہ یہ کہوں گا سدھر جائیں۔ جو ملک کا حال ہے اس کے لئے تو سروے کرا لیجیے۔ آسان طریقہ ہے ۔جائزہ لے لیجیے جو لوگ کل تک آپ کے مدح خواں تھے‘ آج آپ انہیں گلہ کرتے ہی پائیں گے۔ گرفتاریاں‘ کرپشن‘ کشمیر کی آڑ میں آپ زیادہ دن نہیں نکال سکتے‘ پیمانہ صبر لبریز ہو رہا ہے۔ اس وقت تاہم میں صرف پنجاب کا مقدمہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ سندھ میں جو خرابیاں ہیں ‘وہ اپنی جگہ مگر ان کی حکومت تو ہے‘یہاں تو جانے کون حکومت کر رہا ہے توہم پرستی کی بنیاد پر امور سلطنت نہیں چلا کرتے۔ ہر روز تبادلے‘ ہر روز تبدیلیاں ‘ سارے پاپڑ بیل کر دیکھ لئے‘ اب کچھ کیجیے بھی نا۔ لگتا ہے‘ آپ کے تو ہاتھ پلے کچھ نہیں ہے۔ کچھ کرنا پڑے گا۔ وگرنہ آج تک جو ہوا تھا‘ وہ بھی غارت جائے گا۔ میں صاف لفظوں میں کہہ رہا ہوں۔ پنجاب میں شدید بے چینی ہے۔