چلو کچھ دیر چلتے ہیں محبت کی زمینوں پر - مبشرہ ناز

پھیکے کے کام ہی نرالے ہیں۔ جمعے کی شام پیپل کے نیچے بچوں کو جمع کیئے کہانیاں سنا رہا تھا۔ بچوں کے لیئے چپس اور مشروبات کا انتظام بھی تھا۔ میں بھی چپکے سے جا کر بیٹھ گیا۔ وہ بتا رہا تھا نبی ﷺ کی باتیں وہ شہد باتیں وہ بہار ُرت جیسے قصے جنہیں گاؤں کے ان پڑھ جانتے ہی نہیں تھے۔ وہ سنا رہا تھا گند پھینکنے والی بڑھیا سے حسن سلوک کی باتیں ۔ وہ اپنی میٹھی زبان سے میٹھا بانٹ رہا تھا۔ وہ جسے اردو بھی ٹھیک طرح سے بولنا نہیں آتی تھی۔

وہ دنیا بدل دینا چاہتا تھا۔ وہ دنیا کے نقشے پر اُس پاکستان کو دیکھنا چاہتا تھا جس کے خواب ہمارے بڑوں نے دیکھے تھے وہ بس ہر ایک کے دل میں محبت اُنڈیل دینا چاہتا تھا۔اپنے حق کے لیئے تو سب لڑتے ہیں وہ لڑائیوں سے بچنے کے لیئے امن کے لیئے کبھی کبھی اپنے حق سے دستبردار ہونا سکھانا چاہتا تھا۔ ٹوٹنے سے خون بہانے سے بہتر ہے دستبرادر ہو جاؤ۔
وہ انہیں سنا رہا تھا وہ انہیں بتا رہا تھا۔اس لکڑہارے کا قصہ جس نے ایک اکیلی لکڑی توڑ لینے کے بعد اپنے بچوں کو لکڑیوں کا گٹھا جمع کر کہ کہا اب انہیں توڑو۔ اُن میں سے کوئی بھی تو اسے توڑ نہ پایا۔ اتفاق میں برکت ہے ،وہ بچوں کو اتفاق سے رہنا سکھا رہا تھا۔ عدل احسان اور صبر کی کہانیاں ، وہ سنا رہا تھا بغداد کے موچی کی کہانی وہ کپڑوں میں سلے چالیس دینار کی کہانی ۔ وہ بچوں کو زندگی جینے کے ہنر سکھا رہا تھا۔اُس کے لہجے میں بہت تاثیر تھی وہ بہترین قصہ گو تھا۔ میں گاؤں کا چودھری پچھلی چارپائی پر حیران بیٹھا تھا۔ میرے ذہن میں یہ سب خیال کیوں نہیں آتے ۔میرے کرنے والے سب کام پھیکا کرتا تھا۔ گاؤں کے لوگ تو اُس سے محبت کرتے ہی تھے اس کی بات بھی سنتے تھے۔ یہاں تو بچے بھی اس کے گرویدہ ہو رہے تھے۔ وہ بچوں کے درمیان بیٹھا پیپل کا ہی ایک حصہ لگ رہا تھا۔ ہم سے گم گئیں کہانیاں ہم نے جانے کہاں کھو دیئے وہ قصے۔ ہم اپنے بچوں کو سناتے انہیں دہراتے تو شاید کھو نا پاتے۔

یہ بھی پڑھیں:   نبی ﷺ سے محبت کے تقاضے - محمودفیاضؔ

” دو جمع دو ، چار کرنا تو سیکھ ہی لیں گے صاحب جی۔ دو چار جماعتیں بھی پڑھ لیں گے . پر ان کے دلوں پر نبی پاک ﷺ کی محبت کون لکھے گا۔؟
کون سناۓ گا ان کو امانتوں کے دیانتوں کے قصے۔بچوں سے محبتوں کے قصے“ ۔ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا پھیکا ۔ مجھے اپنا بچپن یاد آ گیا جب ابا جی ہر رات سونے سے پہلے نماز کا سبق پڑھاتے اور پھر کہانی سنایا کرتے تھے۔ ان کے بازو پر سر رکھے کہانی سنتے سنتے میں سو جایا کرتا۔ بچپن سترنگی کی طرح یادوں کے آسمان پر رنگ بکھیرنے لگا۔ سنہرے رنگ ۔ یادوں نے گوٹے والی چنی اوڑھ لی ہو جیسے ، یوں ایک دم منظر بدلا۔ بچپن کے دن آج بھی سب سے پیارے لگتے۔ بچپن بیتا اور جانے کب عمر رواں کے پیروں کے نیچے سبز پتے سوکھے ۔ جن پر چلتے چلتے جانے کب سے ہم گلاب رُتوں کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔ گلابوں کے موسم قریب ہیں قریب تر۔ بس زرا چلن بدلنے کی دیر ہے۔پیپل کے نیچے لالٹینیں جلاۓ سبق آموز کہانیاں سناتا اُڑتے جُگنوؤں کے سنگ بچوں کے تخیل میں ایثار و وفا کے رنگ بھرتا پھیکا۔ وہ رفو کرنا چاہتا تھا۔ وہ دھرتی کے سینے پر لگے سارے زخم سینا چاہتا تھا ۔ اور اُسے زخم سینے بھی آتےتھے۔ اُسے مرہم رکھنے بھی آتے تھے ۔ وہ دھرتی کے بدن میں چبھی ساری سوئیاں نکال دینا چاہتا تھا۔ ہمیں ضرورت ہے محبت کی ، محبت جگاتی ان کہانیوں کی۔ یہ رُوپہلی رات بچوں کو کبھی نہیں بھولے گی۔ اور نہ پھیکے جیسا قصہ گو دنیا بھول پاۓ گی۔
اس کا حر ف حرف بولتا تھا ...“ چلو کچھ دیر چلتے ہیں محبت کی زمینوں پر “
مجھے یقین ہے کہ ہم نے ایک بار ان زمینوں کا راستہ دیکھ لیا تو پھر قدم کسی اور طرف کو چل نہ پائیں گے۔ ہر راستہ ہمیں محبت کی زمینوں پر لے جاۓ گا۔