حجاب کے مسئلے کا ایک اور تناظر - ڈاکٹر رضوان اسد خان

جو لوگ لبرل ازم کے زیر اثر ریاست کے حجاب کو لازمی قرار دینے پر تنقید کر رہے ہیں، ان کی خدمت میں عرض ہے کہ "سوشل کنٹریکٹ تھیوری" پر ایک نظر ڈال لیں. ایک چیز ہے "نیچرل سٹیٹ"... یعنی انسان کسی بھی عمل کے لیے سو فیصد آزاد ہے. لیکن تمام مفکرین اس پر متفق ہیں کہ اگر انسان کو نیچرل سٹیٹ پر ہی رہنے دیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ ہمیشہ خون خرابے، ڈکیتی، ریپ، الغرض ہر شخص کی ہر دوسرے شخص کے ساتھ جنگ کی صورت میں نکلے گا، کیونکہ ہر انسان اپنے مفاد کے لیے ہر ممکن طریقہ بروئے کار لائے گا اور اس مقصد کے لیے دوسرے انسانوں کو نقصان پہنچانے سے بھی نہیں چوکے گا.

لہٰذا کسی نہ کسی قسم کا نظم یعنی حکومت کا وجود ضروری ہے جو انسان کی لامحدود آزادی کو کم از کم اتنا محدود ضرور کرے کہ وہ دوسرے کی آزادی کے لیے نقصان کا باعث نہ بنے اور امن و امان برقرار رہے. افراد کا ایسے کسی بھی نظام کا حصہ بن کر اپنی کچھ آزادیوں کو قربان کرنے کی حامی بھرنے کا نام "سوشل کنٹریکٹ" یا "عمرانی معاہدہ" کہلاتا ہے. اب یہ حکومت اور اس کا نظام کیسا ہونا چاہیے؟ اور آزادی کی حدود کیا ہونی چاہییں؟ اور ان کو محدود کرنے کی حدود کیا ہونی چاہییں؟ اور فرد اور ریاست کا تعامل کس قسم کا ہونا چاہیے؟ ان مسائل پر کتابوں سے لائبریریاں بھری پڑی ہیں. ہر ملک اپنی معاشرتی اور تاریخی روایات کے تحت کوئی نہ کوئی فلسفہ اور نظام اپنا لیتا ہے.

دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکہ کے ڈیکلریشن آف انڈپنڈنس میں تھامس جیفرسن نے جان لاک کے فلسفے کے تحت یہ لکھا ہے کہ تمام افراد برابر پیدا کیے گئے ہیں. مزید یہ کہ "Life, Liberty and Pursuit of Happiness" یعنی "زندگی ،آزادی اور خوشی کے حصول کی جدوجہد" ہر فرد کا بنیادی حق ہے. اور اہم ترین بات یہ ہے کہ انھیں خدا کا عطیہ تسلیم کیا گیا ہے اور حکومت کو ان کی حفاظت کا پابند ٹھہرایا گیا ہے. ساتھ ہی ڈیکلریشن کے آخر میں دنیا کے عظیم ترین منصف یعنی خدا سے اپنی نیتوں کی درستگی کی دعا بھی شامل ہے. کہنے کا مقصد یہ ہے کہ لبرل ممالک میں بھی خدائی احکامات کو سوشل کنٹریکٹ میں مرکزی کردار دینے کی گنجائش موجود ہے.

یہ بھی پڑھیں:   مولانا کیا کر سکتے ہیں؟ محمد عامر خاکوانی

البتہ ظاہر ہے یہاں خدائی احکامات کی تفصیل اور تفسیر میں اختلاف ممکن ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج کا امریکہ اپنے قوانین میں خدائی احکامات سے میلوں نہیں، نوری سالوں کے فاصلے پر پہنچ چکا ہے. البتہ ایک مسلمان ملک، جس کے باشندے قرآن کو مانتے ہیں، وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر، بائی ڈیفالٹ، ایک "قرآنی عمرانی معاہدے" کے پابند ہوتے ہیں جس کے مطابق اس ریاست کے ہر فرد کے لیے "اولی الامر" کا ہر وہ حکم ماننا ضروری ہے جو قرآن و سنت سے متصادم نہ ہو.

اب حجاب کے ریاستی حکم سے جان چھڑانے کا ایک مسلم کے پاس تو صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ حجاب کو قرآن و سنت کے خلاف ثابت کر دے. البتہ لبرلز کے لیے ایک اور بھی طریقہ ہے، یعنی امریکی فارمولا، کہ وہ منہ سے تو خدا اور رسول کی رٹ جاری رکھیں، البتہ عملی طور پر ان کی اطاعت سے انکار کی روش پر چلتے ہوئے اولی الامر کے اس حکم کے خلاف احتجاج جاری رکھیں. لیکن اس طرح وہ بطور پاکستانی شہری، پاکستانی قانون کی خلاف ورزی کر کے پاکستان کے عمرانی معاہدے کی خلاف ورزی اور نقص امن کے مجرم قرار پائیں گے جو قابل دست اندازی پولیس جرم ہے. پر کیا نوحہ کریں اپنی حرماں نصیبی کا جب ریاست (ریاست مدینہ کے ماڈل کی دعویدار) ہی اپنے مجرمین کے آگے لیٹ جائے...
نوٹ:
آخری دلچسپ بات یہ ہے کہ جان لاک اور امریکی آئین کے مطابق بھی جب ریاست اپنے عمرانی معاہدے کے تحفظ میں ناکام ہو جائے تو عوام کو حکومت تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے. آپ چاہیں تو اسے لبرل خارجیت کہہ سکتے ہیں.

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.