پاکستانیوں کے کرنے کے ضروری کام - پروفیسر جمیل چودھری

ُپاکستان کے ماحول پر آج کل جہاد چھایا ہوا ہے۔ ہر شخص جو تقریر کر رہا ہوتا ہے، اس کا رخ بھارت اور کشمیر کی طرف ہوتا ہے۔ تقریر کرنے والوں کو یہ یقین ہوتا ہے کہ تقریر سے مودی دباؤ میں آجائے گا اور کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کو ختم کردے گا۔ ریلیاں اور جلسے جلوس ایک حد تک ضروری تو ہیں اور اب تک ہم بہت جلسے اور ریلیاں نکال بھی چکے ہیں۔ ایک بڑی تقریر اقوام متحدہ میں ہونے والی ہے۔ اس کا وقت بھی قریب آن پہنچا ہے، اور اس کے نتیجے کاجلد ہی پتہ چل جائے گا۔

ہمیں کشمیر کے لیے سفارت کاری مؤثر انداز سے جاری بھی رکھنی ہے لیکن ساتھ ساتھ ملک کو درپیش سنجیدہ معاشی مسائل کی طرف سے توجہ نہیں ہٹانی۔ ہماری دہائیوں پہلے نصب صنعت میں مسائل ہی مسائل ہیں۔ مہنگی بجلی، گیس اور پیٹرول کی وجہ سے صنعتوں کی پیداوار کم ہوناشروع ہوگئی ہے۔ حکومتی ٹیکس بھی کم وصول ہو رہے ہیں۔ اخراجات منہ کھولے کھڑے ہیں۔ مالیاتی خسارہ سرکاری رپورٹنگ کے مطابق 8.9 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ملک کے سرمایہ کار نئی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اب بھی چالاک اور سیانے لوگوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنے سرمائے کو باہر منتقل کریں۔ روکنے کی کوششوں کے باوجود یہ کام رک نہیں رہا۔ دنیا کا کوئی بھی سرمایہ کار اپنا سرمایہ لیکر پاکستان آنے کو تیار نہیں۔ ماضی کے کئی وزرائے اعظم نے World Economic Forum پر جا کر پاکستان میں کاروبار دوست ماحول کی باتیں کر لی ہیں، بڑے سبز باغ دکھالئے ہیں، لیکن ہوا کچھ بھی نہیں۔یہ تمام باتیں ہمارا اپنا سٹیٹ بنک بتاتا رہتا ہے۔چین کے علاوہ پاکستان میں کسی نے بھی آکر سرمایہ کاری نہیں کی۔چین کی مدد سے لگنے والے پروجیکٹ ہر پاکستانی کو دور سے ہی نظر آجاتے ہیں۔

سچی اور کھری بات یہ ہے کہ حکومت کے پاس بھی نئی سرمایہ کاری کے لیے فنڈز نہیں ہیں۔ اب پاکستان کی مڈل کلاس کو خود ہی اس ذمہ داری کو اٹھانا چاہیے۔ میں جس ذمہ داری کا ذکر کرنے چلا ہوں، یہ پاکستان کے جنگ و جہاد کے ماحول میں بالکل اجنبی محسوس ہوگی۔ لیکن اپنے ملک میں اشیاء کی پیداوار بڑھانے اور روزگار کی فراہمی کے لیے یہی ایک واحد آپشن ہے۔ کئی ایشیائی ملکوں میں اس آپشن کو اختیار کیاگیا اور بہت سے معاشی مسائل پر کامیابی سے قابو پا لیاگیا۔ پاکستان کے لوگ چاہے وہ دیہاتوں میں رہتے ہیں، یا شہروں میں وہ اپنے اپنے گھروں میں چھوٹی بڑی اشیاء خود ہی بنانا شروع کریں۔ دیہاتوں میں کئی کاموں کے لیے خام مال وہیں موجود ہوتا ہے۔ دستکار دیہاتوں میں موجود ہیں۔ لکڑی سے اشیاء بنانے والے، چمڑے سے مختلف اشیاء بنانے والے، مٹی کو خوبصورت اور پختہ اشیاء میں ڈھالنے والے اور ایسے ہی کپاس کو کپڑوں میں تبدیل کرنے والے لوگ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کریں۔ یہ لوگ اپنے لیے اور ملک کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔ پرانی طرز کی چیزوں کو نیا ٹچ دیں۔ نئے ڈیزائن بنائیں۔ نئے طرز کی اشیاء بنانے کے لیے انھیں چاروں صوبوں میں قائم پاکستان سمال انڈسٹریز کارپوریشن جیسے ادارے بھرپور مشورہ اور راہنمائی فراہم کریں گے۔ کئی دفعہ اداروں کی نمائش میں انتہائی خوبصورت دستکاریوں کے نمونے دیکھے گئے اور ہمیں کارپوریشن والوں نے یہ بھی بتایا کہ ایسی اشیاء کی دوسرے ملکوں میں بڑی طلب ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا کہنے - زرین تارڑ

میں آپ کو اپنے آبائی ضلع جھنگ کی ایک واقعی مثال دیتا ہوں کہ دستکاریوں سے کیسے پیسہ بنایا جا رہا ہے۔ آپ ایک معروف خاتون سیاستدان کے نام سے ضرور واقف ہوں گے۔ وہ بڑے پیمانے پر کشید کاری کے لیے کپڑا خریدتی ہیں۔ اور اس کپڑے کو کڑھائی سلائی کے لیے مختلف دیہاتوں کی خواتین کے پاس بھیج دیتی ہیں۔ انھیں Embroidery (کشیدہ کاری) کے ڈیزائن بھی ارسال کیے جاتے ہیں۔ تکمیل کے بعد یہ ملبوسات اکٹھے ہو جاتے ہیں اور انھیں برآمد کر کے لاکھوں روپے کمائے جاتے ہیں۔ دیہاتی خواتین کو گھر بیٹھے بٹھائے اپنی محنت کا معاوضہ مل جاتا ہے، اور ملک کو زرمبادلہ بھی حاصل ہوجاتا ہے۔ اگر ایسا کام پورے ملک میں کئی لاکھ لوگ سنبھال لیں اور ذمہ داری سے ادا کریں تو ملک کو اپنے ہی لوگوں کی محنت سے بے شمار زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔ یہ صرف ایک دستکاری کی مثال ہے، ایسے لاکھوں طرح کے کام ہیں، جو بڑی سرمایہ کاری کے بغیر کیے جاسکتے ہیں۔ صرف کاٹن سے کھدر، سوسی، کھیس، دوپٹے، بوسکی، کرنڈی اور شالیں بنا کر دوسرے ملکوں میں برآمد کی جا سکتی ہیں۔ یہ کام پاکستان میں بڑے پیمانے پر شروع کیا جانا ضروری ہے۔

ایسے ہی سونے کے علاوہ مصنوعی خام مال سے زیور، مٹی سے بہت سی مصنوعات، سٹین لیس سٹیل سے کٹلری بنائی جا سکتی ہے۔ اس کابنیادی مرکز پنجاب کا شہر وزیر آباد ہے۔ دوسرے شہروں اور گاؤں کے لوگ بھی یہ کام آسانی سے کر سکتے ہیں اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھیج سکتے ہیں۔ لکڑی سے مختلف طرح کی اشیاء تیار کر کے ہم برآمد کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں اب پاکستانی دیسی لکڑی کے ساتھ ساتھ درآمدی اور زیادہ پائیدار لکڑی بھی آتی ہے۔ لکڑی کی اشیاء کی تیاری خاص طور فرنیچر آئٹم کی دنیا بھر میں بڑی طلب ہے۔ چین کا سستا فرنیچر اب دنیا بھر میں معروف ہوگیا ہے۔ امریکی لوگ اس کے بغیر زندگی ہی نہیں گزار سکتے۔ دنیا بھر میں چینی چھوٹی اشیاء کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ چین نے ایسی اشیاء سے دنیا بھر کی مارکیٹوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ باہر کے ممالک کی حکومتیں چینی اشیاء پر جتنا مرضی ٹیکس لگا لیں لیکن لوگ ان اشیاء کو خریدنے کے لیے پاگل ہوئے پھرتے ہیں۔ لکڑی کی مختلف اشیاء اور فرنیچر تیار کرنے کی ہماری لیبر میں صلاحیتیں بھی ہیں، اور خام مال بھی ہمارے اپنے ملک میں اپنا ہی موجود ہے۔ دلچسپی رکھنے والوں کو PSIC اور SMEDA سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔ ایسے کام کئی لوگ اپنے سرمایہ سے بھی کرسکتے ہیں اور ہمارے ہاں چھوٹے چھوٹے قرض کے لیے Micro Finanace کے ادارے بھی موجود ہیں۔ خوشحالی بنک اور اپنا بنک کو اکثر لوگ جانتے ہیں، جیسے بنگلہ دیش میں گرامین بنک نے ملکی معیشت کی صورت حال بدل دی ہے، ایسے ہی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پاکستانی لوگ خود شروع کریں، اپنی قسمت بھی بدلیں اور ملک کی بھی۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بات ضروری ہے جو اب تک ادھوری ہے - حسین اصغر

اگر آپ کئی ترقی یافتہ ملکوں کی تاریخ پڑھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہاں گھریلو دستکاریوں نے ملک کو بدل دیا۔ انھی گھریلو دستکاریوں نے ملک میں بڑی بڑی کمپنیوں اور کارپوریشنز کو جنم دیا۔ جاپان بھی اس کی ایک مثال ہے۔ بنگلہ دیش میں کپاس کا ایک بھی پودا نہیں ہوتا۔ وہ کپڑا اور دھاگہ خرید کر ہم سے زیادہ سالانہ ٹیکسٹائل برآمدات کر رہا ہے۔ دنیا میں ہر بڑا کام پہلے چھوٹے سے شروع ہوتا ہے۔ دستکاریوں میں کئی ایسے کام ہیں جہاں بجلی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کئی اشیاء آسانی سے گھروں کے اندر ہی تیار ہو سکتی ہیں۔ جیسے کارپٹ کا کام، پولٹری کا کام، اور ایسے ہی کھیلوں کے آئٹم تیار کرنے کا کام، کھلونے بنانے کا کام، چمڑے کی اشیاء۔ یہاں مشین کے بجائے انسان کے ہاتھ میں موجود ہنر کام آتا ہے۔ کام بڑھنے پر آپ مشینوں سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔ ہزاروں طرز کی دستکاریاں اور چھوٹے پیمانے کے کاروباری یونٹ آپ آسانی سے لگا سکتے ہیں۔

میں نے آج آپ کو سیاست، جنگ و جہاد اور کشمیرکی طرف توجہ دلانے کے بجائے پاکستان کے اصل اور بنیادی مسائل کی طرف توجہ دلائی ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں جب سے نئی صدی شروع ہوئی ہے، پاکستان میں ملکی سرمایہ کاری بھی کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ جب اپنے ہی سرمایہ کار پیسہ باہر لے جائیں گے تو باہر کے لوگوں سے توقع رکھنا کہ وہ ہمارے ملک پاکستان میں اپنا قیمتی سرمایہ آ کر لگائیں بیوقوفی ہی شمار ہوگی۔ دنیا جانتی ہے کہ ابھی ہمارے ملک میں دہشت گردی ختم نہیں ہوئی۔ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے ملک پر FATF کی ننگی تلوار لٹک رہی ہے۔ دنیاجانتی ہے کہ اس علاقے میں کشمیر کی وجہ سے کسی بھی وقت حالات جنگ کی طرف جا سکتے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ ہم غیر ملکی قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، اور اب ہم 22 ویں دفعہ قرض لینے IMF کے پاس چلے گئے، اور اس ادارے نے ہم پر سخت شرائط لگا کر 6 ارب ڈالر کا قرضہ منظور کیا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں بجلی،گیس اور پیڑول بہت مہنگے ہیں۔ سستی انرجی کے بغیر کوئی بھی بڑا کاروبار نہیں ہو سکتا۔

پاکستانیوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم نے اپنے ملک کے مسائل خود ہی حل کرنے ہیں۔ ہم اپنی مدد آپ ہی کریں گے تو بات بنے گی۔ آئیے اپنے ملک کے اندر دیکھیں۔ مسائل کا جائزہ لیں۔ اور ان کو خود حل کرنے کی کوشش کریں۔ آج میں نے چھوٹے چھوٹے کاموں اور کاروباروں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ یہ کام ہر شخص کسی نہ کسی پیمانے پر شروع کر سکتا ہے۔ درج بالا ذکر کردہ کاموں کے علاوہ بھی ہزاروں کام ایسے ہیں جو شروع کیے جا سکتے ہیں۔ اپنے ملک کو طاقتور بنانے کے لیے کوئی نہ کوئی کام شروع ضرور کریں۔ ملک میں اشیاء سازی کا کلچر بنائیں۔ ہمارے ہی پڑوس میں اشیاء سازی کا کوہ ہمالیہ چند دہائیوں میں ہی کھڑا ہوگیا ہے۔ میری مراد چین سے ہے۔ ہم بھی اپنے گھروں، محلوں، دیہاتوں اور شہروں کو اشیاء سازی کے مراکز میں بدل دیں۔ پاکستانیوں کے کرنے کے یہی ضروری کام ہیں۔