لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو - رؤف کلاسرا

منگل کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزرا میڈیا پر پھٹ پڑے تو پھر فیصلہ ہوا کہ فوری طور پر میڈیا کو لگام ڈالی جائے۔ سب وزرا کو شکایت تھی کہ پیمرا صحافیوں کو جیل کیوں نہیں بھیج رہا؟ اجلاس میں اندازہ ہوا کہ وزرا سے زیادہ تو وزیر اعظم بھرے بیٹھے ہیں اور انہوں نے اپنا ہردلعزیز الزام دہرایا کہ میڈیا پیسے لے کر ان کی حکومت پر حملے کر رہا ہے۔

ویسے یہ حیران کن ہے کہ میڈیا کے لوگ حکومت سے مراعات یا پیسے لینے کی بجائے اپوزیشن سے پیسے لے رہے ہیں؟ کمال کی حکومت ہے‘ میڈیا اس سے پیسے لینے کی بجائے کہیں اور سے پیسے لے رہا ہے‘ ورنہ اس حکومت کا تو اتنا بڑا دل ہے کہ یہ بڑے سیٹھوں کی طرف واجب الاد تین سو ارب روپے معاف کر بیٹھی تھی‘ لیکن دوسری طرف فرماتی ہے: ان کے مخالفین میڈیا کو خرید رہے ہیں۔ اگر میڈیا شور نہ مچاتا تو پاکستانیوں سے اکٹھے کیے گئے تین سو ارب روپے اپنے دوستوں اور پارٹی ڈونرز کی کمپنیوں کو معاف ہو جاتے۔ سرکاری ذرائع یہی بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم ناراض ہیں کیونکہ میڈیا نے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ آرڈیننس واپس لیں۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس ٹیکس معافی کے تانے بانے کراچی کی ایک پاور کمپنی سے جا ملتے ہیں۔ اس کمپنی کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اس نے تقریباً 78 ارب روپے کا ٹیکس کراچی کے عوام سے اکٹھا کیا تھا‘ لیکن حکومتی خزانے میں جمع نہیں کرایا۔ جب یہ پاور کمپنی ایک اور چینی کمپنی کو بکنے لگی اور چینیوں نے اکاؤنٹس دیکھے تو پتا چلا کہ کمپنی نے تو اربوں روپے کا ٹیکس اکٹھا کرکے حکومت کو ادا نہیں کیا۔ اگر وہ اس کمپنی کو ٹیک اوور کرتے ہیں تو انہیں وہ ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔ یوں اس کمپنی کا ٹرانسفر رک گیا۔ اس پر اس کمپنی‘ جس کے مالک حکمرانوں کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں اور ماضی میں پارٹی کو فنڈنگ بھی کرتے رہے ہیں‘ نے ''بادشاہ سلامت‘‘ کو اپروچ کیا اور ان سے رعایت مانگی تاکہ وہ تیس‘ چالیس ارب روپے بچا سکیں۔ ذرائع کہتے ہیں کہ ایف آئی اے حکام کو بھی بلا کر ڈانٹ ڈپٹ کی گئی کہ انہوں نے کراچی کی اس کمپنی کے خلاف اتنا بڑا بل بنا دیا۔ ایف آئی اے پہلے سے وہاں تحقیقات کررہی تھی اور انہوں نے ہی کمپنی کے اس ٹیکس ادا نہ کرنے کے معاملے کو پکڑا تھا۔ ایف آئی اے سے کہا گیا کہ وہ اس بل کو کم کرکے دکھائے‘ مگر ایف آئی اے‘ جو پہلے ہی خطوط جاری کرچکی تھی اور بل بنا دیا گیا تھا‘ واپس لینے پر راضی نہ ہوئی۔

دوسری جانب دیگر سیٹھ پارٹیوں نے بھی حکمرانوں سے رابطے کیے اور یوں سب نے اپنی اپنی پارٹیاں پکڑ لیں اور یہ فیصلہ ہواکہ بہتر ہوگا چند تگڑے وزیر اپنی اپنی پارٹی کے پیسے معاف کرالیں۔ یہی وجہ تھی کہ کابینہ کے اجلاس میں جو تین سو ارب روپے معافی کی سمری پیش کی گئی‘ اس پر وزارتوں سے لیگل رائے لینے کا تکلف نہ کیا گیا اور کابینہ اجلاس میں ہی سب کچھ معاف کر دیا گیا۔ یہ واردات اتنے خوبصورت طریقے سے ڈالی گئی کہ بہت سے وزیروں کو سمجھ ہی نہ آئی کہ یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے۔ وہ اسی میں خوش رہے کہ دو سو بیس ارب روپے بیٹھے بٹھائے ان کی جیب میں آرہے ہیں۔ دلچسپ بات اس وقت ہوئی جب اینکرز سے ملاقات میں ندیم بابر اور عمر ایوب دو گھنٹے تک صحافیوں کو ڈراتے رہے کہ اگر یہ تین سو ارب معاف نہ کیے گئے تو آسمان توٹ پڑے گا۔ جب میں نے کہا: عمر ایوب صاحب آپ نے اپنے خلاف مستقبل کا نیب کیس بنوا لیا ہے‘ تو ان کے ماتھے پر پریشانی نظر آئی۔ انہیں اندازہ ہوا کہ بات میں وزن ہے۔ ندیم بابر نے میرا مذاق اڑانے کی کوشش کی تو کہا: آپ سے پہلے اسحاق ڈار‘ ڈاکٹر عاصم حسین‘ شاہد خاقان عباسی‘ سب ہمارا مذاق اڑاتے تھے‘ آپ بھی اڑا لیں'جس سمری کو کابینہ سے منظور کرایا گیا‘ اس پر لکھا ہے کہ وقت کم ہے‘ لہٰذا ہم کسی اور وزارت کی رائے نہیں لے رہے‘ اس سمری کی یہی شق آپ پر مقدمہ بنوانے کیلئے کافی ہے۔

صدر عارف علوی پبلک اکائونٹس کمیٹی میں رہ چکے ہیں۔ انہیں سب پتا تھا کہ حکومت تین سو ارب روپے معاف نہیں کر سکتی‘ لیکن انہوں نے بھی آرڈیننس کی منظوری دے دی۔ بینظیر بھٹو دور میں اداروں کو بیچنے کی کوشش کی گئی تو صدر فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو سے ملاقات کرکے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ ملک اور حکومت کو نقصان ہوگا‘ مت کریں۔ وہیں سے لغاری اور بینظیر بھٹو کے درمیان دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں‘ لیکن لغاری نے صدرکی حیثیت سے اپنا کام پورا کیا۔ کیا عارف علوی صاحب نے اپنا کام پورا کیا؟ کیا فائدہ ہوا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا رکن ہونے کا اگر بغیر سوچے سمجھے تین سو ارب روپے کی معافی کے آرڈیننس پر دستخط کر دیے گئے اور پھر آرڈیننس واپس بھی لے لیا۔ نہ آرڈیننس جاری کرتے وقت پوچھا نہ اسے واپس کرتے وقت۔ ویسے صدر صاحب سے مجھے اسی وقت بھی مایوسی ہوئی تھی جب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں پانامہ پر بات ہورہی تھی اور انہوں نے حسن نواز اور حسین نواز پر بات کی‘ مگر نواز لیگ کے ارکان نے جب انہیں گھورا تو وہ ڈر گئے اور فوراً معافی مانگ لی کہ آئندہ بات نہیں کریں گے۔ اس دن اندازہ ہو گیا تھا کہ ان میں کسی ایشو پر سٹینڈ لینے کی صلاحیت نہیں‘ لہٰذا ان سے یہ توقع رکھنا بیکار ہے کہ وہ اتنے اہم ایشو پر حکومت کو سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ وہ یہ کام نہ کرے۔ الٹا وہ پارلیمنٹ جا کر اپنی سالانہ تقریر میں حکومت کی تعریفوں کے پل باندھ آئے۔ وہی حکومت جس کے اپنے ایم این ایز‘ جن میں نور عالم بھی شامل ہیں‘ نے اگلے روز ہی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا کہ چینی اور کھاد کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور عوام کا جینا دوبھر ہورہا ہے۔

دوسری طرف حکومت کے وزیروں نے پر پرزے نکالنے شروع کر دیے ہیں۔ کچھ اہم وزیروں کے دوست سامنے آرہے ہیں‘ جنہیں وہ اعلیٰ عہدوں پر ایڈجسٹ کررہے ہیں۔ وفاقی وزیر علی زیدی کے دوستوں عاطف خان‘ علی جمیل اور اب شباہت علی شاہ کی کہانیاں آپ پڑھ ہی چکے ہیں۔ ابھی نئی کہانیاں سامنے آرہی ہیں کہ علی زیدی اپنے دوست عاطف رئیس کے گھر رہتے ہیں‘ عاطف کو وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ چین لے جایا گیا اور واپسی پر عاطف رئیس کو پشاور میٹرو میں تیرہ‘ چودہ ارب روپے کا ٹھیکہ دیا گیا۔ کمال کی بات ہے اس کمپنی کو پہلے وزارت پٹرولیم میں پچاس کروڑ روپے کا ٹھیکہ ملا تو سنگین الزامات سامنے آئے‘ پھر سی ڈی اے میں سترہ کروڑ روپے کا ٹھیکہ ملا تو اس میں ایف آئی اے نے عاطف رئیس پر فراڈ کا مقدمہ درج کررکھا ہے۔ جس کمپنی پر چند کروڑ روپوں کے ٹھیکوں میں فراڈ پر مقدمے درج ہوئے‘ اسے پشاور میں تیرہ‘ چودہ ارب روپے کا ٹھیکہ دے دیا گیا۔ اب جب علی زیدی اور ان کے دوستوں کے خلاف یہ سکینڈلز آنا شروع ہوئے ہیں تو فوراً میڈیا ٹریبونل کا نعرہ لگا دیا گیا۔

ایک اور وزیر، اعظم سواتی کے خلاف سپریم کورٹ میں پانچ جے آئی ٹی رپورٹس پیش کی گئیں‘ جو ان کے کارناموں سے بھری پڑی ہیں۔ اب پتا چلا ہے علی زیدی کابینہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے وزیر اعظم سے ملے اور اپنا رونا رویا کہ کیسے ان کے خلاف صحافیوں کا گروہ خبریں لگارہا ہے۔ عمران خان جو پیار سے علی زیدی کو '' برگر زیدی‘‘ کہتے ہیں‘ نے ان کے رونے دھونے پر کابینہ اجلاس میں یہ منظوری لے لی کہ میڈیا ٹرائل کے لیے فوری طور پر ٹریبونل بنائے جائیں‘ جو صحافیوں کو قید کی سزائیں سنائیں۔ سوائے شفقت محمود کے‘ سب وزیروں نے صحافیوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کی حمایت کی۔

عمران خان بتاتے تھے کہ اگر انہیں اقتدار ملا تو وہ کسی وزیر کو نہیں چھوڑیں گے‘ اگر اس کے بارے میں کرپشن یا مفادات کے ٹکرائو کی چھوٹی سے بھی خبر آئی۔ اب انہی کے علی زیدی جس دوست عاطف رئیس کے گھر رہتے ہیں‘ اس کی کہانیاں سامنے آنا شروع ہوئی ہیں تو وہ ابھی سے حوصلہ ہار بیٹھے ہیں۔ بس ابھی سے؟ ابھی تو چار سال پڑے ہیں۔ نئے نئے گل کھلنا باقی ہیں۔ میڈیا ٹریبونل کا سن کر جالب صاحب کی بھٹو دور میں پڑھی گئی نظم یاد آ گئی:


قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا

لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو

منتظر ہیں تمہارے شکاری وہاں

کیف کا ہے سماں

اپنے جلوؤں سے محفل سجانے چلو

مسکرانے چلو ورنہ تھانے چلو