پولیس گردی - بشریٰ نواز

پاکستان ایک ایسا ملک ھے جہاں پولیس کو دیکھ کر سب سے پہلے جیب کو ٹٹولا جاتا ھے اب اس کے پیچھے کون سی سائیکی چھپی ھوتی ھے چلو بھئی کچھ لے دے کے جان چھوٹ ہی جائے گی
اللہ نہ کرے اگر آپ یا آپکی فیملی کو کسی جائز یا ناجائز شکائیت کا جو سامنا کرنا پڑ گیا تو اللہ کی پناہ ۔۔۔۔
آ
اب ایسا کیوں ھوا اور کیوں ھے اس کے پیچھے کون سے عوامل ہیں ہمارے خیال میں ہم سب ہی قصور وار ہیں دوسرا سیاسی اور غیر سیاسی لوگوں کی جائز اور ناجائز اعانت کی بدولت حالات اس قدر خراب ھوئے ۔۔۔۔ اب پولیس گردی کیا ھے بلکل اسی طرح جسطرح دہشت گردی ھے ہم آئے روز عجیب وغریب خبریں سنتے ہیں فلاں تھانے میں بندہ مرگیا فلاں علاقے کے SHO نے اپنے الگ سے ٹارچر سیل بنا رکھیں ہیں پولیس والوں کو یہ جرت کہاں سے ملی اور وہ ایسا کیوں کرتے ہیں حالانکہ انگریز سرکار نے پولیس صرف لگان وغیرہ لینے کے لیے بنائی تھی اب سوچنے کی بات ھے انکے منہ کو خون کہاں سے لگا ۔۔ پاکستان میں وڈیرہ شاہی کا راج ھے چوہدری صاحب ہوں یا میاں صاحب اپنے مخالفوں کو سبق سیکھانے کے لیے پولیس کو استعمال کرتے ہیں
اس بگاڑ کی ذمہ داری ہمارے سیاسی نظام پر بھی عائد ھوتی ھے اگر MNA اور MPA کے کہنے پر کسی بیگناہ مخالف کو تشدد کا نشانہ بنایا جاسکتا ھے تو مال کی طلب میں ایسا کیوں نہیں۔۔۔
پنجاب اور سندھ کی پولیس کی دادا گیری کا عنصر زیادہ ھے. انہیں پتہ ھے کہ ہم نے جتنی تابعداری سیاسی ناخداوں کی کی ھے ہمیں کون پوچھ سکتا ھے ادھر Suspend ھوئے ادھر بحال اگر خدا نخواستہ برخاست بھی ھوگے تو عدالتیں ہیں نہ ۔۔۔

لولا لنگڑہ سیاسی ڈھانچہ اور لولا لنگڑہ قانون اسمیں مجبور کون ؟؟؟؟ صرف غریب ۔۔جو آئے روز پولیس والوں سے پٹتے ہیں اور نہ انکی ماں بہن کی کوئی عزت ھے اور حکومت کو بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔ حالیہ واقعات کے تناظر میں ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عوام کو پولیس گردی سے تحفظ دیا جائے اور تشدد کے جو ازخود ضابطے پولیس بنا کر بیٹھی ختم۔کیے جایں مزید قانون سازی کرکے انکی حدود متعین کردی جائے ۔