ساتر لباس، حجاب اور زیادتی ، دونوں کو مکس نہ کریں - محمد عامر خاکوانی

سوال اگر یہ ہو کہ معصوم بچوں کے ساتھ ریپ کی بڑھتی وارداتوں کا سدباب کیسا کیا جائے یا خواتین کے ساتھ ہراسمنٹ کے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا کیا جائے تو اس کے جواب میں مختلف پہلوؤں پر بات ہوگی۔

معصوم بچوں ، بچیوں کے ساتھ ریپ کے خوفناک واقعات میں تو ظاہر ہے ان بچوں کا کیا قصور، انہوں نے کون سا مختصر لباس پہنا ہوتا ہے۔ ایک چار پانچ سال کی بچی یا ساتھ آٹھ، دس بارہ سال کے بچے سے زیادتی کرنے والا درندہ ہی ہے۔ اس کی نفسیاتی الجھنیں ہوں گی، مگر بہرحال وہ وحشی درندہ ہے۔ اسے رسی سے لٹکا ہونا چاہیے یا عمر بھر سلاخوں کے پیچھے مقید۔ سماج کو اس سے محفوظ کر دیا جائے۔ خواتین کے ساتھ ہراسمنٹ کے کیسز میں بھی زیادہ ذمہ داری تو ملزم پر عائد ہوتی ہے۔ جو مرد ایسا کرتا ہے اسے سخت سزا دینی چاہیے۔ اب تو بیشتر اچھے دفاتر میں ہراسمنٹ قوانین بہت سخت ہوچکے ہیں، فوری ملازمت سے برخاست کر دیا جاتا ہے ۔ ان قوانین پر مزید سختی سے عمل درآمد کرانے کی ضرورت ہے۔ ورکنگ ویمنز کی بہت بڑی اکثریت مجبوری کے عالم میں ملازمت کے لئے باہر نکلتی ہیں۔ ریاست کو ان کے لئے آسانی پیدا کرنی چاہیے۔ ان کے دفاتر آنے جانے میں سہولت دی جائے۔ بس سٹاپ پر یا دوران سفر انہیں ٹچ کرنے، چھیڑنے یا آوازے کسنے والوں کو نشان عبرت بنانےکے بھرپور انتظامات کئے جائیں۔ ان خواتین کو مسلسل گھورنے والے مردوں کی سختی سے حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ یہ ہم مردوں کی ذمہ داری ہے کہ اس معاملے میں اپنے نفس کی تہذیب وتربیت کریں، نظریں جھکائیں اور خواتین کو ان کمفرٹیبل محسوس نہ ہونے دیں۔

اس کے ساتھ ساتھ گھروں سے باہر نکلنے والی خواتین کو اپنے لباس کے حوالے سے بھی محتاط اور ذمہ دار ہونا چاہیے۔ چست ، جسم کے فگرز کو ظاہر کرنے والے لباس سے گریز کیا جائے ، اگر وہ چادر یا بڑا دوپٹہ سلیقے سے اوڑھ کر باہر نکلیں تو ان کا جسم اچھے سے ڈھانپا رہے گا۔ یہ یاد رکھا جائے کہ ساتر لباس پہننا ، جس سے جسم کے زینتیں ظاہر نہ ہوں ، دوسرے لوگ متوجہ نہ ہوں ، یہ اللہ کا حکم ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف وہ خود کمفرٹیبل رہیں گی بلکہ ان شاءاللہ اجر خداوندی کی مستحق بھی ٹھیریں گی ۔ خواتین کو ساتر لباس پہننے کا مشورہ یا ہدایت دینے پر چڑنے یا برا منانے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم خواتین کو ریپ کا ذمہ دار ٹھیرا رہے ہیں ۔ ظاہر ہے کوئی احمق ہی ایسا کہے گا ۔ جس بچی یا عورت کے ساتھ زیادتی ہو، اسے مجرم ٹھیرانا ظلم ہے۔ تاہم جب ریپ یا ہراسمنٹ کے سدباب کے لئے ایک مکمل پیکیج یا فارمولے کی بات ہوگی تو اس میں دیگر ہدایات کے ساتھ کچھ ہدایتیں خواتین کے لئے بھی ہوں گی۔ انہیں بھی محتاط اور ریزرو رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم ہراسمنٹ کرنے والے کو ذمہ دار ٹھیرا رہے ہیں ، اسے اس کی سزا ملنی چاہیے ۔ وہ یہ دلیل نہیں دے سکتا کہ فلاں خواتین کا لباس ایسا تھا کہ میرے جذبات برانگیختہ ہوئے۔ قانون یا شریعت یہ دلیل تسلیم نہیں کرتے۔

اس مرد کو اپنی نظریں جھکانے اور اپنے آپ پر قابو پانے کا حکم ہے۔ اگر وہ نہیں کر سکا تو مجرم ہے اور اس کی سزا بھگتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک بار پھر یہ کہوں گا کہ ساتر لباس کو ریپ کے معاملات کے ساتھ منسلک یا جوڑا نہ جائے۔ خواتین مناسب لباس اس لئے پہنیں کہ یہ اللہ کا حکم ہے اور اسلامی ریاست کے ڈریس کوڈ کا حصہ ۔ مردوں کو بھی مناسب ڈیسنٹ لباس پہننا چاہیے اور غص بصر سے کام لینا چاہییے۔ باقی ظاہر ہے کہ مومن ہے ہی وہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالنا، کسی سے زبردستی تو کیا، اس کی رضامندی سے ناجائز جنسی فعل بھی جرم اور گناہ ہے ۔ جبکہ معصوم نابالغوں کو ریپ کرنا تو نری شیطنیت اور درندگی ہے۔ ایسے بدبختوں کو سپیڈی ٹرائل سے پھانسی پر لٹکانا چاہیے اور ایسے مکینزم کو مضبوط بنانا چاہیے جس سے ایسے واقعات ہوں ہی ناں۔ اس سب کا مگرساتر لباس سے کیا تعلق؟ کیا جس سماج میں ریپ نہیں ہوتے، جنسی ہراسمنت نہیں ہوتی، وہاں ساتر لباس کا حکم منسوخ ہوجائے گا۔ نہیں قطعی نہیں۔ یہ تو ہمیشہ کے لیے رہنے والا حکم ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ساتر لباس اور حجاب کا بہت بڑا تعلق ہے ریپ سے ۔
    ڈراموں فلموں اشتہارات میں ہر وقت جذبات انگیز مناظر دکھائے جاتے ہیں پھر دفتروں کالج بازاروں میں عریاں لباس میں ملبوس خواتین کو دیکھ جذبات میں ہل چل رہتی ہے اور سب سے بڑھ کر انٹر نیٹ پہ موجود مواد ۔۔ ٹک ٹاک ہر جگہ واہیات پن عریانیت کس طرح کے مرد پیدا کر رہی ہے ۔
    انڈیا کی مثال لے لیں ۔۔۔ جب تک وہاں کی خواتین حجاب و حیا کے دائرے میں تھیں ریپ کی شرح انتہائی کم تھی ۔۔ آج جب سیکولرازم کے نعرے کے بعد انڈیا میں لڑکیاں حجاب اور ساتر لباس سے باہر نکل گئیں ہیں عریانیت عام ہو گئی ہے تو ریپ کا تناسب آسمان کو چھو رہا ہے ۔
    یہی حال یورپ کا ہے وہاں جنسی بے راہ روی عام ہے اس کے باوجود ریپ کا تناسب آسمان سے باتیں کر رہا ہے ۔
    جبکہ حیادار حجابی مسلم ممالک میں یہ تناسب بہت کم ہے ۔
    حجابی اور ساتر لباس پاکیزہ معاشرہ کی بنیاد ہے ۔