عبایا اور حجاب، چند گزارشات - آصف محمود

چند سال پہلے کی بات ہے مین ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں مدعو تھا ۔ وہاں میرے ساتھ ’’سول سوسائٹی‘‘ کی نمائندہ ایک خاتون اور پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر رمیش کمار بھی مدعو تھے۔ وہ اس وقت مسلم لیگ ن کا حصہ تھے اور ابھی ان تک یہ ’’بریکنگ نیوز‘‘ نہیں پہنچی تھی کہ نواز شریف کرپٹ ہیں اور ملک کی قمست تو صرف عمران خان ہی بدل سکتے ہیں۔

دوران گفتگو ڈاکٹر صاحب نے بڑی عجیب بات کہہ دی ۔ فرمانے لگے: دیکھیے ہر عہدے پر ایک موزوں فرد ہی کو لگایا جا سکتا ہے’’رائٹ مین فار دی رائٹ جاب‘ ۔ اب ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ کسی برقع پہننے والی کو ہم حقوق انسانی کے ادارے میں لگا دیں‘‘ ۔ میں نے احترام سے عرض کی کہ ڈاکٹر صاحب آپ نامناسب بات کہہ رہے ہیں آپ اپنے الفاظ واپس لیں۔ انہوں نے اپنے موقف پر اصرار کیا ۔ مین نے ان سے دوبارہ درخواست کی کہ آپ غلط بات کر رہے ہیں ۔ بر قع پہننے سے کوئی خاتون کسی منصب کے لیے نا اہل کیسے ہو جاتی ہے۔ کیا میں اب یہ کہہ دوں کہ یہ معزز خاتون جو جینز پہن کر میرے ساتھ اس پروگرام میں بیٹھی ہے اسے یہاں بیٹھ کر بات کرنے کا کوئی حق نہیں اور آپ جو دس منٹ سے رویت ہلال کمیٹی پر ارشادات فرمائے جا رہے ہیں آپ کیا اس موضوع پر بات کرنے کے لیے ’’ رائٹ مین‘‘ ہیں ۔ بات تلخی تک چلی گئی اور میں نے کہا اگر گفتگو اسی انداز میں ہونی ہے تو میں آپ کو بات نہیں کرنے دوں گا ۔ برقع پہننے والی عورتیں ہماری تہذیبی روایت کا حصہ ہیں اور کسی کو ان کی توہین کا کوئی حق نہیں۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے پروگرام کے بعد شکوہ کیا کہ آپ نے غلط کیا، میں نے ان سے عرض کی کہ غلط آپ نے کیا میں نے بالکل درست کیا۔ پروگرام اینکر، ڈاکٹر رمیش کمار اور ’’ سول سوسائٹی‘‘ کے نزدیک میں ایک ’’مولوی ‘‘ قرار پایا جو یہ بات برداشت نہ کر سکا۔

اب ایک دوسرا رویہ دیکھیے ۔ کے پی کے میں عبایا کو لازم قرار دیا گیا۔ اس حکم کی جو حکمت کے پی کے حکومت نے بیان کی وہ جہالت کا شاہکار تھی ۔ اس پر میں نے تنقید کی ۔ اب کے بعض دوستوں کی جانب سے ارشاد ہوا کہ یہ تو لادین اور لبرل انتہا پسندوں کا موقف ہے ۔ اس لیے اب میں تھوڑا تھوڑا لا دین قرار پایا۔ جو بات کرنے کی ہے اس کی طرف جانے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اعتراض کس بات پر تھا۔ اسلام میں لباس کی حدود کیا ہیں اور پردہ کیا ہوتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   کیا خلفائے راشدین نے پردے کو ریاست کی سطح پر نافذ کیا تھا؟ حافظ محمد زبیر

سادہ سی بات ہے لباس کو شائستہ ہونا چاہیے اور اس میں جسمانی خدوخال کی نمائش نہیں ہونی چاہیے ۔ لباس ستر پوشی کا ایک عامل ہے۔ اب ہر علاقے کا اپنا لباس ہے۔ کوئی لباس اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوتا۔ اسلام نے صرف بنیادی بات سمجھا دی ہے۔ اب اسلام صرف ایک خطے کے لیے نہیں اترا کہ اسی علاقے کا لباس جب تک پہن نہ لیا جائے تب تک بات نہیں بنے گی۔ اللہ نے لوگوں کو مختلف علاقوں میں پیدا کیا اور رہنما اصول دے دیے۔ ہر علاقے میں ان رہنما اصولوں کی روشنی میں لباس کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ اب پردہ کیا ہے، اس پر ہمیشہ سے اختلاف رہا۔ الا ما ظہر منہا کی تعریف پر ایک سے زیادہ آراء رہیں۔ چہرے کا پردہ ہے کہ نہیں اس پر بھی مختلف آراء موجود ہیں۔ ہر علاقے اور ماحول کے ساتھ رجحانات بدل جاتے ہیں۔ مغرب میں اور حتی کہ پاکستان کے کچھ علاقوں میں کوئی عورت دوپٹہ کر لے تو یہی سمجھا جائے گا کہ اسے اسلام سے بہت محبت ہے۔ کہیں البتہ ’’ دیسی برقع‘‘ سے کم تر کوئی چیز قبول نہیں اور کالے برقع کو ’’ فیشی برقع‘‘ کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ اب جو جتنا چاہے اہتمام کر لے لیکن اختلافی امور میں کوئی چیز مسلط نہیں کی جا سکتی۔ سوائے اس بنیادی اصول کے جو اوپر بیان کر دیا گیا ہے۔ ہمارے دیہاتوں میں عورت صدیوں سے کھیتی باڑی میں ہاتھ بٹا رہی ہے لیکن لکھنؤ کی اشرافیہ کا حال یہ تھا کہ عورت کی پالکی میں پتھر رکھ دیے جاتے تھے کہ پالکی اٹھانے والوں کو یہ بھی معلوم نہ ہو عورت دبلی ہے یا موٹی۔

اب آئیے کے پی کے کے معاملے پر۔ یہاں اعتراض عبایا پر نہیں۔ ہمارے گھر میں اس سے بھی زیادہ اہتمام ہوتا ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ دیگر اداروں میں ڈریس کوڈ دیا جا سکتا ہے تو یہاں کیوں نہیں دیا جا سکتا۔ یہ خلط مبحث ہے۔ یہاں معاملہ ڈریس کوڈ کا نہیں تھا۔ یہاں معاملہ یہ تھا کہ عصمت دری کے واقعات بڑھ رہے ہیں اس لیے آئندہ لڑکیاں عبایا کر کے آئیں۔ یعنی چونکہ جنسی کتے زیادہ ہو گئے ہیں اور اس لیے کتوں کو مارنے کی بجائے شہریوں پر مزید پابندیاں لگائی جائیں گی۔ یہ سوچ ایک بیمار سوچ ہے۔ یہاں کی بچیاں اسلام کے اصول کے مطابق حیا والا لباس پہنتی ہیں۔ پورے کپڑے اور سر پر دوپٹہ۔ کسی سکول کی اسمبلی کی تصویر دیکھ لیجیے پاکیزگی کے احساس کے سوا کچھ نہیں۔ اب چونکہ ریاست چھٹی کے وقت سکولوں کے باہر منڈلانے والے اور گلی بازوروں چوراہوں میں منڈلاتے جنسی کتوں کا سدباب نہیں کر سکتی اس لیے ان بیٹیوں کو مزید پابند کر دیا جائے۔ یہ سوچ فرسودہ ہے اور قابل تنقید ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لبرلز کی خوشنودی کے لیے عمران، نواز ایک ہو گئے - انصار عباسی

اس کی دوسری توجیح یہ پیش کی گئی کہ یہ اسلام کا حکم ہے ۔ اس پر ہم اوپر بات کر چکے کہ اسلام نے کسی خاص لباس کی بات کی ہی نہیں ۔ ، اس نے ایک اصول دیا ہے ۔ اس اصول کی تعبیر پر اختلاف تھا ، ہے اور رہے گا ۔ اس میں حکمت پر مبنی رویہ ہے کہ ایک شائستہ سے لباس کو ڈریس کوڈ کے طورجاری کر کے باقی بچوں اور والدین پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ مزید اہپتمام کرنا چاہیں تو کر لیں لیکن اس سے کم تر اہتمام کے ساتھ سکول کالج میں آنا منع ہے ۔ اور یہ کام پہلے ہی سے ہو چکا تھا ۔ ایک شریفانہ سا لباس جو اسلام کے لباس کے ستر اور حیا کے تصور کے مطابق تھا پہلے ہی راءج تھا ۔ اسلام نے سب کو حیا کا پابند کیا ہے کسی ایک کو نہیں ۔ جہاں عورت کو زیب و زینت چھپانے کا حکم دیا ہے وہیں مرد کو دوسری نظر عورت پر ڈالنے سے بھی منع کیا ہے ۔ اب یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مرد کی گندی نظر تو نیچے ہونے کا نام نہ لے اور عورت سے کہا جائے کہ مزید اہتمام کر لے۔

ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ اسلام کے نام پر فرنچائزز کھل چکی ہیں۔ سیاسی، سماجی، فکری ہر طرح کی۔ اب دین کی روح کی بجائے اس عصبیت کو مخاطب بنایا جاتا ہے۔ اختلاف کرنے والے کو دین بے زاری کے طعنے دیے جاتے ہیں۔ یہ ایک بیمار سوچ ہے۔

پاکستان ایک معتدل معاشرہ ہے ۔ نہ سیکولر انتہا پسند عورت کا جنس بازار بنا سکتے ہیں نہ مذہبی انتہا پسند اپنا نقص فہم مسلط کر سکتے ہیں۔ کسی کو زعم ہے تو وہ کوشش کر کے دیکھ لے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.